<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:38:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:38:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنوبی کوریا کی خلیجی ممالک سے توانائی کی مسلسل فراہمی اور بحری جہازوں کی حفاظت یقینی بنانے کی اپیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو یون چول نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے تاکہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی کوریا کے بحری جہازوں کی حفاظت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ ملاقات وزارت خزانہ کے مطابق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث عالمی شپنگ نظام متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے جمعہ کے روز ہونے والی اس ملاقات میں خلیجی ممالک کے سفیروں سے درخواست کی کہ تیل، مائع قدرتی گیس، نیفتھا، یوریا اور دیگر ضروری وسائل کی مسلسل اور محفوظ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب کوریائی بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق خلیجی سفیروں نے جنوبی کوریا کو اپنی ترجیحات میں شامل ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیول کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ توانائی کی مستحکم فراہمی جاری رکھی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا، دیگر ایشیائی معیشتوں کی طرح، توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز اس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین پر مشتمل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی کوریا کے وزیر خزانہ کو یون چول نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی ہے تاکہ توانائی کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور آبنائے ہرمز کے قریب جنوبی کوریا کے بحری جہازوں کی حفاظت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ ملاقات وزارت خزانہ کے مطابق ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث عالمی شپنگ نظام متاثر ہو رہا ہے۔</strong></p>
<p>وزیر خزانہ نے جمعہ کے روز ہونے والی اس ملاقات میں خلیجی ممالک کے سفیروں سے درخواست کی کہ تیل، مائع قدرتی گیس، نیفتھا، یوریا اور دیگر ضروری وسائل کی مسلسل اور محفوظ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کے قریب کوریائی بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کی۔</p>
<p>بیان کے مطابق خلیجی سفیروں نے جنوبی کوریا کو اپنی ترجیحات میں شامل ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیول کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ توانائی کی مستحکم فراہمی جاری رکھی جا سکے۔</p>
<p>جنوبی کوریا، دیگر ایشیائی معیشتوں کی طرح، توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتا ہے اور آبنائے ہرمز اس کی ترسیل کا اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ تاہم ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد اس آبی گزرگاہ میں رکاوٹیں پیدا ہوئی ہیں جس سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>خلیجی تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین پر مشتمل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284651</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 11:25:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/05112406cef45cf.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/05112406cef45cf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
