<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ورلڈ بینک کے تعاون سے خیبر پختونخوا آبپاشی منصوبے میں نمایاں پیش رفت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284648/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خیبر پختونخوا میں ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیے گئے آبپاشی منصوبے نے پانی تک رسائی اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے تاہم جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال اور خواتین کی کم شمولیت کے باعث اس کے مکمل فوائد حاصل کرنے میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا اریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پروجیکٹ نے صوبے بھر میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور کمیونٹی سطح پر واٹر مینجمنٹ کو مضبوط کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ منصوبے کے لیے مختص 171 ملین ڈالر میں سے 94 فیصد رقم خرچ کی جا چکی ہے جبکہ 157 ملین ڈالر استعمال ہو چکے ہیں۔ کسانوں کی جانب سے 57 ملین ڈالر کی شراکت بھی سامنے آئی ہے جو مقامی سطح پر منصوبے کی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اہداف مکمل نہ ہونے کے باعث منصوبے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر کے اسے 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ جدید آبپاشی نظام کی تنصیب اور باقی کام مکمل کیے جا سکیں۔ منصوبے کو 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور اسے زرعی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ صوبے میں پانی کی کمی اور غیر مؤثر نظام طویل عرصے سے دیہی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے تحت 700 مزید واٹر چینلز کی بحالی کے بعد مجموعی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس سے 3 لاکھ 60 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی مستفید ہو رہی ہے جبکہ تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار کسان خاندان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مزید 4100 پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھی مکمل کیے گئے ہیں جو بارش پر انحصار کرنے والے علاقوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ پانی کے ضیاع میں کمی ہوئی ہے جو 45 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے لیکن یہ اب بھی 25 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اسی طرح جدید ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام کا استعمال انتہائی سست روی کا شکار ہے اور صرف 145 ہیکٹر رقبہ اس کے تحت لایا جا سکا ہے جبکہ ہدف 4000 ہیکٹر سے زائد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی پیداوار میں اضافہ اور اعلیٰ قیمت والی فصلوں کی طرف منتقلی بھی سست ہے جبکہ خواتین کی شمولیت صرف 3 فیصد تک محدود ہے جو 30 فیصد کے ہدف سے بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خیبر پختونخوا میں ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیے گئے آبپاشی منصوبے نے پانی تک رسائی اور زرعی پیداوار میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے تاہم جدید ٹیکنالوجی کے محدود استعمال اور خواتین کی کم شمولیت کے باعث اس کے مکمل فوائد حاصل کرنے میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔</strong></p>
<p>سرکاری دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا اریگیٹڈ ایگریکلچر امپروومنٹ پروجیکٹ نے صوبے بھر میں آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانے اور کمیونٹی سطح پر واٹر مینجمنٹ کو مضبوط کرنے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ منصوبے کے لیے مختص 171 ملین ڈالر میں سے 94 فیصد رقم خرچ کی جا چکی ہے جبکہ 157 ملین ڈالر استعمال ہو چکے ہیں۔ کسانوں کی جانب سے 57 ملین ڈالر کی شراکت بھی سامنے آئی ہے جو مقامی سطح پر منصوبے کی قبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>تاہم اہداف مکمل نہ ہونے کے باعث منصوبے کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر کے اسے 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے تاکہ جدید آبپاشی نظام کی تنصیب اور باقی کام مکمل کیے جا سکیں۔ منصوبے کو 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور اسے زرعی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ صوبے میں پانی کی کمی اور غیر مؤثر نظام طویل عرصے سے دیہی معیشت کو متاثر کر رہے ہیں۔</p>
<p>منصوبے کے تحت 700 مزید واٹر چینلز کی بحالی کے بعد مجموعی تعداد 13 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جس سے 3 لاکھ 60 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی مستفید ہو رہی ہے جبکہ تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار کسان خاندان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ مزید 4100 پانی ذخیرہ کرنے والے ٹینک بھی مکمل کیے گئے ہیں جو بارش پر انحصار کرنے والے علاقوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔</p>
<p>اگرچہ پانی کے ضیاع میں کمی ہوئی ہے جو 45 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے لیکن یہ اب بھی 25 فیصد کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اسی طرح جدید ہائی ایفیشنسی آبپاشی نظام کا استعمال انتہائی سست روی کا شکار ہے اور صرف 145 ہیکٹر رقبہ اس کے تحت لایا جا سکا ہے جبکہ ہدف 4000 ہیکٹر سے زائد تھا۔</p>
<p>زرعی پیداوار میں اضافہ اور اعلیٰ قیمت والی فصلوں کی طرف منتقلی بھی سست ہے جبکہ خواتین کی شمولیت صرف 3 فیصد تک محدود ہے جو 30 فیصد کے ہدف سے بہت کم ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284648</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 10:56:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/051055188af30ba.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/051055188af30ba.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
