<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گندم خریداری منصوبہ، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 31.56 ارب روپے کی منظوری مؤخر کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284644/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی) نے مالی سال 2025-26 کے لیے گندم کی خریداری کے منصوبے کے تحت 31.56 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری مؤخر کر دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس تجویز کو مزید بہتر بنا کر مئی 2026 کے وسط تک دوبارہ پیش کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے حالیہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں گندم اوسطاً 22 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے جبکہ سالانہ پیداوار 28 سے 30 ملین میٹرک ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 19 نومبر 2025 کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دی جا چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے آگاہ کیا کہ اس پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مجموعی طور پر 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم اسٹریٹجک ذخائر کے لیے حاصل کرنا ہوگی، جس میں نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت 1.5 ملین میٹرک ٹن گندم خریدے گی جس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی سالانہ ضروریات بھی شامل ہوں گی، جبکہ باقی 4.75 ملین میٹرک ٹن گندم صوبے حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ شفاف اور مسابقتی عمل کے لیے وزارت نے درخواست برائے پیشکش تیار کر لی ہے جسے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ اور الیکٹرانک پروکیورمنٹ و ایڈورٹائزنگ سسٹم کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ اس عمل کے تحت گندم کی خریداری، ذخیرہ اور متعلقہ مالی اخراجات کے لیے نجی کمپنیوں سے بولیاں طلب کی جائیں گی۔ کامیاب بولی دہندگان کو ماہانہ بنیاد پر ادائیگیاں کی جائیں گی جبکہ گندم کی قیمت 3,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت کے مطابق 1.5 ملین میٹرک ٹن گندم کی خریداری، ذخیرہ اور ہینڈلنگ کے لیے مجموعی طور پر 31.56 ارب روپے درکار ہوں گے، جس میں سے اپریل تا جون 2026 کے لیے 5.26 ارب روپے جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران 26.30 ارب روپے کی ضرورت پیش آئے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران گندم کے موجودہ ذخائر اور آئندہ ضروریات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ نئی درآمدات پر غور سے پہلے پاکستان زرعی ذخیرہ کاری و خدمات کارپوریشن اور کمرشل ذخائر میں موجود گندم کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے 1.5 ملین میٹرک ٹن کے بجائے 1.00 ملین میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی، جو وفاقی اسٹریٹجک ذخائر اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوگی۔ یہ خریداری بھی نجی شعبے کے ذریعے مسابقتی بولی کے عمل کے تحت کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ آپریشنل منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ خزانہ باہمی مشاورت سے تجویز کو بہتر بنائیں اور وزیراعظم کے فوڈ سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کی رائے بھی شامل کی جائے، جس کے بعد اسے دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی) نے مالی سال 2025-26 کے لیے گندم کی خریداری کے منصوبے کے تحت 31.56 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری مؤخر کر دی ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس تجویز کو مزید بہتر بنا کر مئی 2026 کے وسط تک دوبارہ پیش کیا جائے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے حالیہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں گندم اوسطاً 22 ملین ایکڑ رقبے پر کاشت کی جاتی ہے جبکہ سالانہ پیداوار 28 سے 30 ملین میٹرک ٹن کے درمیان رہتی ہے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ 19 نومبر 2025 کے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے تحت عبوری قومی گندم پالیسی 2025-26 کی منظوری دی جا چکی ہے۔</p>
<p>وزارت نے آگاہ کیا کہ اس پالیسی کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مجموعی طور پر 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم اسٹریٹجک ذخائر کے لیے حاصل کرنا ہوگی، جس میں نجی شعبے کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی حکومت 1.5 ملین میٹرک ٹن گندم خریدے گی جس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی سالانہ ضروریات بھی شامل ہوں گی، جبکہ باقی 4.75 ملین میٹرک ٹن گندم صوبے حاصل کریں گے۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ شفاف اور مسابقتی عمل کے لیے وزارت نے درخواست برائے پیشکش تیار کر لی ہے جسے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ اور الیکٹرانک پروکیورمنٹ و ایڈورٹائزنگ سسٹم کے ذریعے جاری کیا جائے گا۔ اس عمل کے تحت گندم کی خریداری، ذخیرہ اور متعلقہ مالی اخراجات کے لیے نجی کمپنیوں سے بولیاں طلب کی جائیں گی۔ کامیاب بولی دہندگان کو ماہانہ بنیاد پر ادائیگیاں کی جائیں گی جبکہ گندم کی قیمت 3,500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے۔</p>
<p>وزارت کے مطابق 1.5 ملین میٹرک ٹن گندم کی خریداری، ذخیرہ اور ہینڈلنگ کے لیے مجموعی طور پر 31.56 ارب روپے درکار ہوں گے، جس میں سے اپریل تا جون 2026 کے لیے 5.26 ارب روپے جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران 26.30 ارب روپے کی ضرورت پیش آئے گی۔</p>
<p>اجلاس کے دوران گندم کے موجودہ ذخائر اور آئندہ ضروریات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ نئی درآمدات پر غور سے پہلے پاکستان زرعی ذخیرہ کاری و خدمات کارپوریشن اور کمرشل ذخائر میں موجود گندم کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے۔</p>
<p>تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے 1.5 ملین میٹرک ٹن کے بجائے 1.00 ملین میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی، جو وفاقی اسٹریٹجک ذخائر اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہوگی۔ یہ خریداری بھی نجی شعبے کے ذریعے مسابقتی بولی کے عمل کے تحت کی جائے گی۔</p>
<p>کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ آپریشنل منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ خزانہ باہمی مشاورت سے تجویز کو بہتر بنائیں اور وزیراعظم کے فوڈ سیکیورٹی کوآرڈینیٹر کی رائے بھی شامل کی جائے، جس کے بعد اسے دوبارہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284644</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Apr 2026 10:22:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/051019509a7765f.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/051019509a7765f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
