<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیشِ نظر ٹرمپ کا کابینہ میں بڑی تبدیلیوں پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284629/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وائٹ ہاؤس کے اندرونی معاملات سے باخبر پانچ افراد کے مطابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کی رواں ہفتے برطرفی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابینہ میں مزید بڑی تبدیلیوں پر غور کررہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اثرات اور نقصانات پر صدر ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ میں کسی بھی ممکنہ ردوبدل کا مقصد وائٹ ہاؤس کیلئے نئی شروعات ہوسکتا ہے کیونکہ اسے اس وقت سیاسی طور پر مشکل دور کا سامنا ہے، پانچ ہفتوں سے جاری اس جنگ نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی آئی ہے اور نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے نتائج پر تشویش بڑھادی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض اتحادیوں کا کہنا ہے کہ بدھ  کو قوم سے ان کا خطاب جسے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جنگ کی سمت کے حوالے سے کنٹرول اور اعتماد ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا تھا بے اثررہا جس نے اس احساس کو مزید تقویت دی ہے کہ اب بیانیے یا عملے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ عمل درآمد یا متحرک ہونے کا اظہار کرنے کے لیے (کابینہ میں) رد و بدل کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامی معاملات سے باخبر وائٹ ہاؤس کے 3 اہلکاروں اور 2 دیگر ذرائع نے حساس نوعیت کےعملے کے معاملات پر گفتگو کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے کسی ایک مخصوص کابینہ رکن کے بارے میں یہ یقینی طور پر نہیں کہا کہ وہ مستقبل قریب میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ متعدد اعلیٰ حکام کسی نہ کسی حد تک خطرے کی زد میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع میں سے متعدد کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ اور وزیر تجارت ہوارڈ لٹنک ان افراد میں شامل ہیں جنہیں عہدوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں پام بونڈی اور وزیر داخلہ (ہوم لینڈ سیکیورٹی) کرسٹی نوئم کو پہلے ہی فارغ کرچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں تلسی گبارڈ سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ معاملے کی براہِ راست معلومات رکھنے والے ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے انٹیلی جنس چیف کے ممکنہ متبادل کے بارے میں ان کی رائے بھی مانگی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ٹرمپ کے چند بااثر اتحادی نجی طور پر ہوارڈ لٹنک کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لٹنک صدر کے قریبی ذاتی دوست ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں آنجہانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کے حوالے سے نئی تحقیقات اور جانچ پڑتال کے باعث وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال کے آغاز میں منظرِ عام پر آنے والی نئی فائلوں سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ لٹنک نے 2012 میں بحیرہ کیریبین میں واقع جیفری ایپسٹین کے نجی جزیرے پر اس کے ساتھ ظہرانہ (لنچ) کیا تھا۔ لٹنک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کا ایپسٹین سے تقریباً کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ لنچ صرف اس لیے ہوا کیونکہ وہ اس جزیرے کے قریب ایک کشتی پر موجود تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو گبارڈ اور لٹنک پر مکمل اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے تبصرے کے لیے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ای میل کے ذریعے لکھا کہ صدر نے اب تک کی سب سے باصلاحیت اور بااثر کابینہ تشکیل دی ہے اور ان سب نے مل کر امریکی عوام کی خاطر تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے ترجمان نے رائٹرز کو وائٹ ہاؤس کی جمعرات کی ایک ایکس پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیو چونگ کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو گبارڈ پر مکمل اعتماد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تجارت نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وائٹ ہاؤس کے اندرونی معاملات سے باخبر پانچ افراد کے مطابق اٹارنی جنرل پام بونڈی کی رواں ہفتے برطرفی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کابینہ میں مزید بڑی تبدیلیوں پر غور کررہے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اثرات اور نقصانات پر صدر ٹرمپ کی جھنجھلاہٹ اور مایوسی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔</strong></p>
<p>کابینہ میں کسی بھی ممکنہ ردوبدل کا مقصد وائٹ ہاؤس کیلئے نئی شروعات ہوسکتا ہے کیونکہ اسے اس وقت سیاسی طور پر مشکل دور کا سامنا ہے، پانچ ہفتوں سے جاری اس جنگ نے پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے، ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح میں کمی آئی ہے اور نومبر میں ہونے والے مڈٹرم انتخابات کے حوالے سے ریپبلکن پارٹی کے نتائج پر تشویش بڑھادی ہے۔</p>
<p>بعض اتحادیوں کا کہنا ہے کہ بدھ  کو قوم سے ان کا خطاب جسے وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جنگ کی سمت کے حوالے سے کنٹرول اور اعتماد ظاہر کرنے کی کوشش قرار دیا تھا بے اثررہا جس نے اس احساس کو مزید تقویت دی ہے کہ اب بیانیے یا عملے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک اور اہلکار نے کہا کہ عمل درآمد یا متحرک ہونے کا اظہار کرنے کے لیے (کابینہ میں) رد و بدل کرنا کوئی بری بات نہیں ہے۔</p>
<p>انتظامی معاملات سے باخبر وائٹ ہاؤس کے 3 اہلکاروں اور 2 دیگر ذرائع نے حساس نوعیت کےعملے کے معاملات پر گفتگو کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کی۔</p>
<p>ذرائع نے کسی ایک مخصوص کابینہ رکن کے بارے میں یہ یقینی طور پر نہیں کہا کہ وہ مستقبل قریب میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ متعدد اعلیٰ حکام کسی نہ کسی حد تک خطرے کی زد میں ہیں۔</p>
<p>ذرائع میں سے متعدد کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ اور وزیر تجارت ہوارڈ لٹنک ان افراد میں شامل ہیں جنہیں عہدوں سے ہٹایا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں پام بونڈی اور وزیر داخلہ (ہوم لینڈ سیکیورٹی) کرسٹی نوئم کو پہلے ہی فارغ کرچکے ہیں۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ مہینوں میں تلسی گبارڈ سے متعلق ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ معاملے کی براہِ راست معلومات رکھنے والے ایک اور ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں سے انٹیلی جنس چیف کے ممکنہ متبادل کے بارے میں ان کی رائے بھی مانگی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا ٹرمپ کے چند بااثر اتحادی نجی طور پر ہوارڈ لٹنک کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ لٹنک صدر کے قریبی ذاتی دوست ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں آنجہانی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے تعلقات کے حوالے سے نئی تحقیقات اور جانچ پڑتال کے باعث وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>رواں سال کے آغاز میں منظرِ عام پر آنے والی نئی فائلوں سے یہ انکشاف ہوا تھا کہ لٹنک نے 2012 میں بحیرہ کیریبین میں واقع جیفری ایپسٹین کے نجی جزیرے پر اس کے ساتھ ظہرانہ (لنچ) کیا تھا۔ لٹنک کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ان کا ایپسٹین سے تقریباً کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ لنچ صرف اس لیے ہوا کیونکہ وہ اس جزیرے کے قریب ایک کشتی پر موجود تھے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو گبارڈ اور لٹنک پر مکمل اعتماد ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے تبصرے کے لیے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ای میل کے ذریعے لکھا کہ صدر نے اب تک کی سب سے باصلاحیت اور بااثر کابینہ تشکیل دی ہے اور ان سب نے مل کر امریکی عوام کی خاطر تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔</p>
<p>آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے ترجمان نے رائٹرز کو وائٹ ہاؤس کی جمعرات کی ایک ایکس پوسٹ کا حوالہ دیا جس میں وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیو چونگ کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ ٹرمپ کو گبارڈ پر مکمل اعتماد ہے۔</p>
<p>وزارتِ تجارت نے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284629</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 15:53:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0415505228b00fc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0415505228b00fc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
