<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کے انجن پر ٹیکس: معیشت منجمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284628/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت کو بڑھا کر ریکارڈ 458.40 روپے فی لیٹر تک لے جانا، جس کی بڑی وجہ فی لیٹر 161 روپے کی بھاری پیٹرولیم لیوی ہے، محض ایک مالیاتی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت کو جمود کا شکار کرنے والا ایک ساختی جھٹکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس اقدام کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی پابندیوں کے تحت ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا کوئی ریاست اس معیشت کے انجن کو سست کر کے، جو خود اقتصادی سرگرمی پیدا کرتا ہے، ٹیکسوں کے ذریعے استحکام حاصل کر سکتی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایندھن محض ایک صارف شے نہیں بلکہ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور خدمات سمیت تقریباً ہر شعبے کے لیے بنیادی ان پٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ہی ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 63 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 75 فیصد اضافہ معمولی نہیں بلکہ ایک نظامی جھٹکا ہے۔ اس اضافے کے اثرات سپلائی چینز میں سرایت کرتے ہوئے پیداواری لاگت کو بڑھاتے، منافع کے مارجن کو کم کرتے اور بالآخر مجموعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروباری حلقوں کے لیے، خصوصاً ایس ایم ایز اور ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے شعبوں کے لیے، یہ اقدام براہِ راست بقا پر ضرب ہے۔ لاجسٹکس لاگت، جو پہلے ہی خطے میں بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، مزید بڑھ جائے گی، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ برآمدی منڈیوں میں بھی مسابقت کمزور ہوگی۔ کم منافع پر کام کرنے والے صنعتکار یا تو لاگت صارفین تک منتقل کریں گے، جس سے مہنگائی بڑھے گی، یا پھر پیداوار کم کریں گے، جس سے اقتصادی سرگرمی سکڑ جائے گی۔ زراعت میں، جہاں ڈیزل ٹیوب ویلز اور نقل و حمل کے لیے بنیادی ایندھن ہے، پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو بالآخر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا، اور یہی پاکستان کا سب سے حساس سیاسی دباؤ بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے پیچھے فوری مالیاتی منطق واضح ہے: حکومت کو آمدن درکار ہے۔ ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکامی اورآئی ایم ایف کی جانب سے 152 ارب روپے کی سبسڈی حد کے باعث، حکومت نے سب سے آسان ذریعہ، پیٹرولیم، کا انتخاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ایندھن پر ٹیکس عائد کرنا ہمیشہ سے فوری آمدن کا ذریعہ رہا ہے: اس کا دائرہ وسیع ہے، اس سے بچنا مشکل ہے، اور انتظامی طور پر بھی سادہ ہے۔ مگر سہولت پائیداری کی ضمانت نہیں ہوتی۔ پیٹرول پر غیر معمولی لیوی عائد کر کے ڈیزل کو کراس سبسڈی دینا دراصل قیمتوں کے فطری اشاروں کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں نہ تو کھپت کو معقول بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے، بلکہ ایک پہلے سے دباؤ کا شکار نظام کے اندر بوجھ کو محض منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت اس بنیاد سے آمدن حاصل کر رہی ہے جو خود دباؤ کے باعث سکڑ رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب اقتصادی سرگرمی سست پڑتی ہے تو ایندھن کی کھپت کم ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ آمدن بھی گھٹ جاتی ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی ہے۔ یہی حد سے زیادہ ٹیکس لگانے کا تضاد ہے: ایک خاص حد کے بعد زیادہ شرحیں کم وصولیوں کا سبب بنتی ہیں—یہ حقیقت مالیاتی معاشیات میں اچھی طرح سمجھی جاتی ہے، مگر عملی طور پر اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پورے معاملے میں آئی ایم ایف کا کردار بھی متنازع ہے۔ سبسڈیز محدود رکھنے اور بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے آمدن بڑھانے پر اس کا زور ایک روایتی استحکامی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم پاکستان جیسے تناظر میں، جہاں ٹیکس نیٹ محدود ہے اور غیر رسمی معیشت غالب ہے،ایسے اقدامات کا بوجھ زیادہ تر دستاویزی معیشت پر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن پر زیادہ ٹیکسوں کے ذریعے آئی ایم ایف قلیل مدتی مالیاتی نظم و ضبط تو یقینی بنا سکتا ہے، مگر اس کی قیمت درمیانی مدت کی ترقی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ سکڑتی ہوئی معیشت پائیدار آمدن پیدا نہیں کر سکتی۔ یوں ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے: اہداف پورے نہ ہونے پر مزید ٹیکس، جس سے ترقی مزید سست، اور نتیجتاً آمدن مزید کم ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سماجی سطح پر اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کی سب سے رجعتی شکلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا بوجھ غیر متناسب طور پر کم اور متوسط آمدن والے طبقات پر پڑتا ہے، نہ صرف براہِ راست استعمال کے ذریعے بلکہ ثانوی اثرات، یعنی کرایوں، خوراک اور یوٹیلٹی اخراجات میں اضافے، کے ذریعے بھی۔ قوتِ خرید میں کمی بے چینی کو جنم دیتی، عدم مساوات کو بڑھاتی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس طرزِ عمل کا ماضی میں بھی مشاہدہ کر چکا ہے: ساختی اصلاحات کے بغیر مالیاتی سختی معاشی تھکن اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو پھر زیادہ دانشمندانہ راستہ کیا ہو سکتا تھا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، حکومت کو آمدن بڑھانے کے بجائے اخراجات میں معقول کمی کو ترجیح دینا چاہیے تھی۔ پاکستان کا مالیاتی بحران جتنا آمدن کی کمی کا مسئلہ ہے، اتنا ہی غیر مؤثر اخراجات کا بھی ہے۔ غیر پیداواری اخراجات، جن میں انتظامی بوجھ، سیاسی مفاہمت کے لیے کیے گئے خرچے اور غیر ہدفی سبسڈیز شامل ہیں، اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔ فضول خرچی میں حقیقی کمی نہ صرف مالی گنجائش پیدا کر سکتی تھی بلکہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی پوزیشن بھی مضبوط بناتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا وہ بنیادی مسئلہ ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار دراصل اس ناکامی کا نتیجہ ہے کہ ریٹیل اور زرعی آمدن کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے، حکومت کو دستاویزی عمل، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نفاذ میں اصلاحات کو تیز کرنا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، توانائی کے شعبے میں اصلاحات محض قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ لائن لاسز، بجلی چوری اور تقسیم کے نظام کی نااہلی بدستور وسائل کو ضائع کر رہی ہے۔ جب تک ان ساختی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا، قیمتوں میں اضافہ صرف نااہلی کی لاگت صارفین پر منتقل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چہارم، مرحلہ وار اور قابلِ پیش گوئی قیمتوں کا نظام اس جھٹکے کو کم کر سکتا تھا۔ اچانک اور شدید اضافے منصوبہ بندی کو متاثر کرتے ہیں اور مہنگائی کی توقعات کو بڑھاتے ہیں۔ ایک متوازن حکمتِ عملی، جس کے ساتھ کمزور طبقات کے لیے ہدفی نقد امداد بھی دی جاتی، مالیاتی ضروریات اور سماجی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، حکومت کو اپنی مالیاتی حکمتِ عملی کو اقتصادی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہیے تھا۔ آمدن کا حصول بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ اقتصادی سرگرمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسی پالیسیاں جو ترقی کو کمزور کرتی ہیں، بالآخر ریاست کی مالیاتی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ سمت، بیرونی دباؤ کے تحت ایندھن پر بھاری ٹیکسوں پر انحصار، معیشت کو کم ترقی اور بلند مہنگائی کے جال میں دھکیلنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ کاروبار سکڑیں گے، غیر رسمی معیشت میں اضافہ ہوگا، اور ٹیکس نیٹ مزید کمزور پڑ جائے گا۔ پہلے ہی دباؤ کا شکار سماجی ڈھانچہ مزید تناؤ کا سامنا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوری مالیاتی اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں، حکومت ممکنہ طور پر طویل مدتی معاشی پائیداری کو نقصان پہنچا بیٹھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت ہے یا نہیں، یقیناً ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظم و ضبط ایندھن پر اس حد تک ٹیکس لگا کر حاصل کیا جا سکتا ہے کہ معیشت خود سست پڑ جائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;458 روپے فی لیٹر کی سطح پر، پیٹرول محض مہنگا نہیں رہا بلکہ ایک ایسی پالیسی سوچ کی علامت بن چکا ہے جو قلیل مدتی تقاضوں کی خاطر ترقی کو قربان کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ اس فیصلے کی قیمت صرف روپے میں نہیں، بلکہ کھوئے ہوئے مواقع، کمزور ہوتی کاروباری سرگرمی اور مزید نازک ہوتی ریاست کی صورت میں ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت کو بڑھا کر ریکارڈ 458.40 روپے فی لیٹر تک لے جانا، جس کی بڑی وجہ فی لیٹر 161 روپے کی بھاری پیٹرولیم لیوی ہے، محض ایک مالیاتی اقدام نہیں بلکہ پاکستان کی پہلے سے کمزور معیشت کو جمود کا شکار کرنے والا ایک ساختی جھٹکا ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ اس اقدام کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کی پابندیوں کے تحت ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ ایک بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے: کیا کوئی ریاست اس معیشت کے انجن کو سست کر کے، جو خود اقتصادی سرگرمی پیدا کرتا ہے، ٹیکسوں کے ذریعے استحکام حاصل کر سکتی ہے؟</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ایندھن محض ایک صارف شے نہیں بلکہ زراعت، صنعت، ٹرانسپورٹ اور خدمات سمیت تقریباً ہر شعبے کے لیے بنیادی ان پٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک ہی ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 63 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 75 فیصد اضافہ معمولی نہیں بلکہ ایک نظامی جھٹکا ہے۔ اس اضافے کے اثرات سپلائی چینز میں سرایت کرتے ہوئے پیداواری لاگت کو بڑھاتے، منافع کے مارجن کو کم کرتے اور بالآخر مجموعی پیداوار کو متاثر کرتے ہیں۔</p>
<p>کاروباری حلقوں کے لیے، خصوصاً ایس ایم ایز اور ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے شعبوں کے لیے، یہ اقدام براہِ راست بقا پر ضرب ہے۔ لاجسٹکس لاگت، جو پہلے ہی خطے میں بلند ترین سطحوں میں شامل ہے، مزید بڑھ جائے گی، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ برآمدی منڈیوں میں بھی مسابقت کمزور ہوگی۔ کم منافع پر کام کرنے والے صنعتکار یا تو لاگت صارفین تک منتقل کریں گے، جس سے مہنگائی بڑھے گی، یا پھر پیداوار کم کریں گے، جس سے اقتصادی سرگرمی سکڑ جائے گی۔ زراعت میں، جہاں ڈیزل ٹیوب ویلز اور نقل و حمل کے لیے بنیادی ایندھن ہے، پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جو بالآخر خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا، اور یہی پاکستان کا سب سے حساس سیاسی دباؤ بھی ہے۔</p>
<p>اس فیصلے کے پیچھے فوری مالیاتی منطق واضح ہے: حکومت کو آمدن درکار ہے۔ ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکامی اورآئی ایم ایف کی جانب سے 152 ارب روپے کی سبسڈی حد کے باعث، حکومت نے سب سے آسان ذریعہ، پیٹرولیم، کا انتخاب کیا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ایندھن پر ٹیکس عائد کرنا ہمیشہ سے فوری آمدن کا ذریعہ رہا ہے: اس کا دائرہ وسیع ہے، اس سے بچنا مشکل ہے، اور انتظامی طور پر بھی سادہ ہے۔ مگر سہولت پائیداری کی ضمانت نہیں ہوتی۔ پیٹرول پر غیر معمولی لیوی عائد کر کے ڈیزل کو کراس سبسڈی دینا دراصل قیمتوں کے فطری اشاروں کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں نہ تو کھپت کو معقول بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے، بلکہ ایک پہلے سے دباؤ کا شکار نظام کے اندر بوجھ کو محض منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حکومت اس بنیاد سے آمدن حاصل کر رہی ہے جو خود دباؤ کے باعث سکڑ رہی ہے۔</p>
<p>جب اقتصادی سرگرمی سست پڑتی ہے تو ایندھن کی کھپت کم ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ آمدن بھی گھٹ جاتی ہے جسے حکومت بڑھانا چاہتی ہے۔ یہی حد سے زیادہ ٹیکس لگانے کا تضاد ہے: ایک خاص حد کے بعد زیادہ شرحیں کم وصولیوں کا سبب بنتی ہیں—یہ حقیقت مالیاتی معاشیات میں اچھی طرح سمجھی جاتی ہے، مگر عملی طور پر اکثر نظرانداز کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>اس پورے معاملے میں آئی ایم ایف کا کردار بھی متنازع ہے۔ سبسڈیز محدود رکھنے اور بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے آمدن بڑھانے پر اس کا زور ایک روایتی استحکامی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم پاکستان جیسے تناظر میں، جہاں ٹیکس نیٹ محدود ہے اور غیر رسمی معیشت غالب ہے،ایسے اقدامات کا بوجھ زیادہ تر دستاویزی معیشت پر پڑتا ہے۔</p>
<p>ایندھن پر زیادہ ٹیکسوں کے ذریعے آئی ایم ایف قلیل مدتی مالیاتی نظم و ضبط تو یقینی بنا سکتا ہے، مگر اس کی قیمت درمیانی مدت کی ترقی کی صورت میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ سکڑتی ہوئی معیشت پائیدار آمدن پیدا نہیں کر سکتی۔ یوں ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے: اہداف پورے نہ ہونے پر مزید ٹیکس، جس سے ترقی مزید سست، اور نتیجتاً آمدن مزید کم ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سماجی سطح پر اس کے اثرات نہایت سنگین ہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ معاشی ایڈجسٹمنٹ کی سب سے رجعتی شکلوں میں سے ایک ہے۔ اس کا بوجھ غیر متناسب طور پر کم اور متوسط آمدن والے طبقات پر پڑتا ہے، نہ صرف براہِ راست استعمال کے ذریعے بلکہ ثانوی اثرات، یعنی کرایوں، خوراک اور یوٹیلٹی اخراجات میں اضافے، کے ذریعے بھی۔ قوتِ خرید میں کمی بے چینی کو جنم دیتی، عدم مساوات کو بڑھاتی اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان اس طرزِ عمل کا ماضی میں بھی مشاہدہ کر چکا ہے: ساختی اصلاحات کے بغیر مالیاتی سختی معاشی تھکن اور سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔</p>
<p>تو پھر زیادہ دانشمندانہ راستہ کیا ہو سکتا تھا؟</p>
<p>اول، حکومت کو آمدن بڑھانے کے بجائے اخراجات میں معقول کمی کو ترجیح دینا چاہیے تھی۔ پاکستان کا مالیاتی بحران جتنا آمدن کی کمی کا مسئلہ ہے، اتنا ہی غیر مؤثر اخراجات کا بھی ہے۔ غیر پیداواری اخراجات، جن میں انتظامی بوجھ، سیاسی مفاہمت کے لیے کیے گئے خرچے اور غیر ہدفی سبسڈیز شامل ہیں، اب بھی بڑی حد تک برقرار ہیں۔ فضول خرچی میں حقیقی کمی نہ صرف مالی گنجائش پیدا کر سکتی تھی بلکہ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کی پوزیشن بھی مضبوط بناتی۔</p>
<p>دوم، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا وہ بنیادی مسئلہ ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا بالواسطہ ٹیکسوں پر انحصار دراصل اس ناکامی کا نتیجہ ہے کہ ریٹیل اور زرعی آمدن کو مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں کیا جا سکا۔ پہلے سے ٹیکس دینے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے، حکومت کو دستاویزی عمل، ڈیجیٹل ٹریکنگ اور نفاذ میں اصلاحات کو تیز کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p>سوم، توانائی کے شعبے میں اصلاحات محض قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں ہونی چاہئیں۔ لائن لاسز، بجلی چوری اور تقسیم کے نظام کی نااہلی بدستور وسائل کو ضائع کر رہی ہے۔ جب تک ان ساختی کمزوریوں کو دور نہیں کیا جاتا، قیمتوں میں اضافہ صرف نااہلی کی لاگت صارفین پر منتقل کرتا ہے۔</p>
<p>چہارم، مرحلہ وار اور قابلِ پیش گوئی قیمتوں کا نظام اس جھٹکے کو کم کر سکتا تھا۔ اچانک اور شدید اضافے منصوبہ بندی کو متاثر کرتے ہیں اور مہنگائی کی توقعات کو بڑھاتے ہیں۔ ایک متوازن حکمتِ عملی، جس کے ساتھ کمزور طبقات کے لیے ہدفی نقد امداد بھی دی جاتی، مالیاتی ضروریات اور سماجی استحکام کے درمیان توازن قائم کر سکتی تھی۔</p>
<p>آخر میں، حکومت کو اپنی مالیاتی حکمتِ عملی کو اقتصادی ترقی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہیے تھا۔ آمدن کا حصول بذاتِ خود مقصد نہیں بلکہ اقتصادی سرگرمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ایسی پالیسیاں جو ترقی کو کمزور کرتی ہیں، بالآخر ریاست کی مالیاتی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔</p>
<p>موجودہ سمت، بیرونی دباؤ کے تحت ایندھن پر بھاری ٹیکسوں پر انحصار، معیشت کو کم ترقی اور بلند مہنگائی کے جال میں دھکیلنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ کاروبار سکڑیں گے، غیر رسمی معیشت میں اضافہ ہوگا، اور ٹیکس نیٹ مزید کمزور پڑ جائے گا۔ پہلے ہی دباؤ کا شکار سماجی ڈھانچہ مزید تناؤ کا سامنا کرے گا۔</p>
<p>فوری مالیاتی اہداف حاصل کرنے کی کوشش میں، حکومت ممکنہ طور پر طویل مدتی معاشی پائیداری کو نقصان پہنچا بیٹھی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت ہے یا نہیں، یقیناً ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ نظم و ضبط ایندھن پر اس حد تک ٹیکس لگا کر حاصل کیا جا سکتا ہے کہ معیشت خود سست پڑ جائے؟</p>
<p>458 روپے فی لیٹر کی سطح پر، پیٹرول محض مہنگا نہیں رہا بلکہ ایک ایسی پالیسی سوچ کی علامت بن چکا ہے جو قلیل مدتی تقاضوں کی خاطر ترقی کو قربان کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ اس فیصلے کی قیمت صرف روپے میں نہیں، بلکہ کھوئے ہوئے مواقع، کمزور ہوتی کاروباری سرگرمی اور مزید نازک ہوتی ریاست کی صورت میں ادا کی جائے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284628</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 16:19:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/041551430650fd3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/041551430650fd3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
