<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لڑاکا طیارے گرنے سے ٹرمپ کے لئے نئے خطرات، تہران لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش میں مصروف</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284626/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکام کے مطابق ایرانی افواج ہفتے کو ایران اور خلیج کے اوپر مار گرائے جانے والے دو جنگی طیاروں میں سے ایک کے لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش کررہی ہیں جب کہ دو ہوابازوں کو بچالیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کے چھٹے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود ایران کی فضائی حدود اور خلیج میں امریکی اور اسرائیلی طیاروں کو اب بھی شدید خطرات کا سامنا ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ  کے دعوؤں کے مطابق امریکی افواج کو فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں ایک امریکی فوجی کے زندہ ہونے اور روپوش (یا فرار) ہونے کی خبر واشنگٹن کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں امریکی عوام کی حمایت پہلے ہی بہت کم ہے اور اس کے جلد خاتمے کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تہران کی جانب سے ٹرمپ کے جنگی مقاصد کا تمسخر&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ممالک کے حکام کے مطابق ایرانی فائرنگ سے امریکہ کا دو نشستوں والا F-15 E جیٹ طیارہ مار گرایا گیا جب کہ دو امریکی حکام نے بتایا کہ ایک A-10 وارتھوگ لڑاکا طیارے کا پائلٹ ایرانی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا جو بعد ازاں کویت میں گرکر تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو امریکی حکام نے &lt;strong&gt;رائٹرز&lt;/strong&gt; کو بتایا کہ لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی ایرانی فائرنگ کی زد میں آئے تاہم وہ ایرانی فضائی حدود سے نکلنے میں کامیاب رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عملے کو آنے والی چوٹوں کی نوعیت یا شدت کے بارے میں فی الحال واضح طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ جنوب مغربی علاقے کے اس مقام کے قریب تلاشی کی کارروائیاں کررہی ہے جہاں پائلٹ کا طیارہ گرا تھا جبکہ علاقائی گورنر نے جارح دشمن پائلٹ کو پکڑنے والے کسی بھی شخص کے لیے اعزاز اور انعام کا وعدہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے امریکی فضائی قوت کا نشانہ بننے والے ایرانی  طیارے کے گرنے کی خبر پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کا مقصد اب حکومت کی تبدیلی سے گر کر پائلٹوں کا شکار کرنے تک محدود ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور انہیں ریسکیو آپریشن کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹ دی جارہی ہیں۔ پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے فی الحال اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ دی کہ ایران نے ثالثوں کو بتا دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی زیرِ قیادت کی جانے والی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا باعث بننے والے ابتدائی حملوں کے بعد سے اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں، توانائی بحران پیدا ہوچکا ہے اور عالمی معیشت کو مستقل نقصان پہنچنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس تنازع میں اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کی پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کردی اور خلیجی ممالک کو بھی نشانے پر لے لیا جو امریکہ کے اتحادی ہیں، تاہم یہ ممالک مزید کشیدگی کے ڈر سے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو دبئی حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرائے گئے میزائلوں یا ڈرونز کا ملبہ امارت کی دو عمارتوں کے بیرونی حصوں سے ٹکرایا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری کردہ ایک سیکیورٹی الرٹ میں بیروت میں قائم امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران اور اس کے ہم نوا مسلح گروہ لبنان میں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، سفارت خانے نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ تجارتی پروازوں کی موجودگی تک فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل، ایران کی حمایت میں حملہ کرنے والے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف لبنان میں ایک متوازی مہم چلارہا ہے۔ ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی فوج نے بتایا کہ وہ بیروت میں عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کو نشانہ بنارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد ایران نے جمعہ کو کویت میں بجلی اور پانی کے ایک پلانٹ پر حملہ کیا، جس نے ان خلیجی ریاستوں کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے جو پینے کے پانی کے لیے مکمل طور پر ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ٹرمپ نے اڑتی ہوئی دھول اور دھوئیں کے بادلوں کی تصاویر پوسٹ کیں جب امریکی حملوں نے اس سال افتتاح کے لیے تیار ’بی ون‘ پل کو نشانہ بنایا جو تہران کو قریبی شہر کرج سے ملاتا ہے۔ انہوں نے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ ہماری فوج، جو کہ دنیا میں کہیں بھی (اب تک کی!) عظیم ترین اور طاقتور ترین فوج ہے، اس نے ابھی ایران میں باقی بچ جانے والی چیزوں کو تباہ کرنا شروع بھی نہیں کیا۔ اب باری پلوں کی ہے، اور پھر بجلی گھروں کی!&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکام کے مطابق ایرانی افواج ہفتے کو ایران اور خلیج کے اوپر مار گرائے جانے والے دو جنگی طیاروں میں سے ایک کے لاپتہ امریکی پائلٹ کی تلاش کررہی ہیں جب کہ دو ہوابازوں کو بچالیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کے چھٹے ہفتے میں داخل ہونے کے باوجود ایران کی فضائی حدود اور خلیج میں امریکی اور اسرائیلی طیاروں کو اب بھی شدید خطرات کا سامنا ہے جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ  کے دعوؤں کے مطابق امریکی افواج کو فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل تھا۔</p>
<p>ایران میں ایک امریکی فوجی کے زندہ ہونے اور روپوش (یا فرار) ہونے کی خبر واشنگٹن کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں امریکی عوام کی حمایت پہلے ہی بہت کم ہے اور اس کے جلد خاتمے کے بھی کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔</p>
<p><strong>تہران کی جانب سے ٹرمپ کے جنگی مقاصد کا تمسخر</strong></p>
<p>دونوں ممالک کے حکام کے مطابق ایرانی فائرنگ سے امریکہ کا دو نشستوں والا F-15 E جیٹ طیارہ مار گرایا گیا جب کہ دو امریکی حکام نے بتایا کہ ایک A-10 وارتھوگ لڑاکا طیارے کا پائلٹ ایرانی فائرنگ کی زد میں آنے کے بعد طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا جو بعد ازاں کویت میں گرکر تباہ ہوگیا۔</p>
<p>دو امریکی حکام نے <strong>رائٹرز</strong> کو بتایا کہ لاپتہ پائلٹ کی تلاش میں مصروف دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر بھی ایرانی فائرنگ کی زد میں آئے تاہم وہ ایرانی فضائی حدود سے نکلنے میں کامیاب رہے۔</p>
<p>عملے کو آنے والی چوٹوں کی نوعیت یا شدت کے بارے میں فی الحال واضح طور پر معلوم نہیں ہوسکا۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ جنوب مغربی علاقے کے اس مقام کے قریب تلاشی کی کارروائیاں کررہی ہے جہاں پائلٹ کا طیارہ گرا تھا جبکہ علاقائی گورنر نے جارح دشمن پائلٹ کو پکڑنے والے کسی بھی شخص کے لیے اعزاز اور انعام کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p>28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے آغاز کے بعد سے امریکی فضائی قوت کا نشانہ بننے والے ایرانی  طیارے کے گرنے کی خبر پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ جنگ کا مقصد اب حکومت کی تبدیلی سے گر کر پائلٹوں کا شکار کرنے تک محدود ہوگیا ہے۔</p>
<p>انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود ہیں اور انہیں ریسکیو آپریشن کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹ دی جارہی ہیں۔ پینٹاگون اور امریکی سینٹرل کمانڈ نے فی الحال اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل نے جمعہ کو رپورٹ دی کہ ایران نے ثالثوں کو بتا دیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اسلام آباد میں امریکی حکام سے ملاقات کے لیے تیار نہیں ہے اور جنگ بندی کے لیے پاکستان کی زیرِ قیادت کی جانے والی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی ہیں۔</p>
<p>ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کا باعث بننے والے ابتدائی حملوں کے بعد سے اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں، توانائی بحران پیدا ہوچکا ہے اور عالمی معیشت کو مستقل نقصان پہنچنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس تنازع میں اب تک 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔</p>
<p><strong>ٹرمپ کی پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی</strong></p>
<p>ایران نے اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کردی اور خلیجی ممالک کو بھی نشانے پر لے لیا جو امریکہ کے اتحادی ہیں، تاہم یہ ممالک مزید کشیدگی کے ڈر سے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کررہے ہیں۔</p>
<p>ہفتے کو دبئی حکام نے بتایا کہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے مار گرائے گئے میزائلوں یا ڈرونز کا ملبہ امارت کی دو عمارتوں کے بیرونی حصوں سے ٹکرایا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>جمعہ کو جاری کردہ ایک سیکیورٹی الرٹ میں بیروت میں قائم امریکی سفارت خانے نے کہا کہ ایران اور اس کے ہم نوا مسلح گروہ لبنان میں یونیورسٹیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، سفارت خانے نے امریکی شہریوں پر زور دیا کہ وہ تجارتی پروازوں کی موجودگی تک فوری طور پر ملک چھوڑ دیں۔</p>
<p>اسرائیل، ایران کی حمایت میں حملہ کرنے والے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے خلاف لبنان میں ایک متوازی مہم چلارہا ہے۔ ہفتے کی علی الصبح اسرائیلی فوج نے بتایا کہ وہ بیروت میں عسکریت پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کے مقامات کو نشانہ بنارہی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد ایران نے جمعہ کو کویت میں بجلی اور پانی کے ایک پلانٹ پر حملہ کیا، جس نے ان خلیجی ریاستوں کی کمزوری کو عیاں کر دیا ہے جو پینے کے پانی کے لیے مکمل طور پر ڈی سیلینیشن پلانٹس پر انحصار کرتی ہیں۔</p>
<p>جمعرات کو ٹرمپ نے اڑتی ہوئی دھول اور دھوئیں کے بادلوں کی تصاویر پوسٹ کیں جب امریکی حملوں نے اس سال افتتاح کے لیے تیار ’بی ون‘ پل کو نشانہ بنایا جو تہران کو قریبی شہر کرج سے ملاتا ہے۔ انہوں نے مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔</p>
<p>انہوں نے لکھا کہ ہماری فوج، جو کہ دنیا میں کہیں بھی (اب تک کی!) عظیم ترین اور طاقتور ترین فوج ہے، اس نے ابھی ایران میں باقی بچ جانے والی چیزوں کو تباہ کرنا شروع بھی نہیں کیا۔ اب باری پلوں کی ہے، اور پھر بجلی گھروں کی!</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284626</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 15:21:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/04151132b9a584c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/04151132b9a584c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
