<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرانزٹ یا متبادل راستوں سے آنے والی شپمنٹس پر وار سرچارج نہیں لگے گا، ایجنٹس کی تصدیق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284625/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شپنگ ایجنٹس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرانزٹ (راستے میں موجود) شپمنٹس یا دیگر راستوں سے آنے والے سامان پر جنگ سے متعلق کوئی اضافی چارجز (سَرچارجز) عائد نہیں کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے درآمد و برآمد کنندگان کو درپیش چیلنجز سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنید انور چوہدری نے پہلے سے نافذ کردہ فعال اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ کسٹمز حکام نے سرکلرز جاری کردیے جن میں تاجروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری یا غیر منصفانہ سرچارجز کے بارے میں فوری اطلاع دیں، اس حوالے سے اب تک تقریباً 10 شکایات پر کارروائی کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام احتساب کو یقینی بناتا ہے اور ہماری تجارتی برادری کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن ایسی ایڈوائزریز جاری کریں گی جن میں ارکان کو بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے برآمدی کنٹینرز پر ریٹینشن فیس وصول کرنے سے روک دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹرمینل آپریٹرز نے 3 مارچ 2026 سے قبل پہنچنے والے برآمدی کنٹینرز پر ڈیمریج چارجز میں ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ نے بیان دیا کہ ہم کارگو کی نقل و حرکت کو ہموار بنانے اور برآمد کنندگان پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے پورٹ حکام، کسٹمز حکام اور شپنگ کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بلیو اکانومی میں کارکردگی کو بڑھانا اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے خلل کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کی مدد کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شپنگ ایجنٹس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹرانزٹ (راستے میں موجود) شپمنٹس یا دیگر راستوں سے آنے والے سامان پر جنگ سے متعلق کوئی اضافی چارجز (سَرچارجز) عائد نہیں کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>وزارتِ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے درآمد و برآمد کنندگان کو درپیش چیلنجز سے متعلق ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔</p>
<p>جنید انور چوہدری نے پہلے سے نافذ کردہ فعال اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ کسٹمز حکام نے سرکلرز جاری کردیے جن میں تاجروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر ضروری یا غیر منصفانہ سرچارجز کے بارے میں فوری اطلاع دیں، اس حوالے سے اب تک تقریباً 10 شکایات پر کارروائی کی جاچکی ہے۔</p>
<p>چوہدری نے کہا کہ یہ اقدام احتساب کو یقینی بناتا ہے اور ہماری تجارتی برادری کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان شپ ایجنٹس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن ایسی ایڈوائزریز جاری کریں گی جن میں ارکان کو بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے برآمدی کنٹینرز پر ریٹینشن فیس وصول کرنے سے روک دیا جائے گا۔</p>
<p>مزید برآں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ٹرمینل آپریٹرز نے 3 مارچ 2026 سے قبل پہنچنے والے برآمدی کنٹینرز پر ڈیمریج چارجز میں ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ نے بیان دیا کہ ہم کارگو کی نقل و حرکت کو ہموار بنانے اور برآمد کنندگان پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے پورٹ حکام، کسٹمز حکام اور شپنگ کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔</p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بلیو اکانومی میں کارکردگی کو بڑھانا اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے خلل کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کی مدد کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284625</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 14:48:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/04143015e78860e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/04143015e78860e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
