<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:11:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:11:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی سطح پر تیل بحران کے باوجود پاکستان کی صورتحال نسبتاً مستحکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284621/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اور مسلسل اضافے نے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں کے بحران، سپلائی میں تعطل اور ہنگامی پالیسی اقدامات کو جنم دیا جب کہ کئی علاقائی اور عالمی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان نسبتاً مستحکم رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی قیمتوں کے اعدادوشمار اور ممالک کے درمیان تقابلی جائزے پر مبنی یہ رپورٹ جاری توانائی کے بحران کی شدت اور رفتار کو اجاگر کرتی ہے جس میں مارچ اور اپریل 2026 کے اوائل کے دوران پٹرولیم مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں، خاص طور پر ڈیزل میں محض چند ہفتوں کے اندر غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروری کے دوسرے پندرہ دنوں میں ڈیزل کی قیمت جو تقریباً 88 امریکی ڈالر فی بیرل تھی، مارچ کے پہلے ہفتے تک بڑھ کر 132 ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ 50 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان مسلسل جاری رہا، جہاں دوسرے ہفتے میں قیمتیں بڑھ کر 174 امریکی ڈالر فی بیرل (پلس 32 فیصد)، تیسرے ہفتے میں 202 ڈالر (پلس 16 فیصد) اور چوتھے ہفتے میں 218 ڈالر (پلس 8 فیصد) تک جا پہنچیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل کے اوائل تک ڈیزل کی قیمتیں تقریباً 238 امریکی ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو گئیں جو اس پورے دورانیے کے دوران 170 فیصد سے زائد کے مجموعی اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں فروری کے اواخر میں قیمت تقریباً 74 امریکی ڈالر فی بیرل کے مساوی تھی، جو مارچ کے پہلے ہفتے میں بڑھ کر 95 ڈالر (پلس 28 فیصد) اور دوسرے ہفتے میں مزید بڑھ کر 122 ڈالر (پلس 28 فیصد) تک پہنچ گئی۔ تیسرے ہفتے میں قیمتیں 138 ڈالر تک جا پہنچیں، جس کے بعد چوتھے ہفتے میں معمولی کمی کے ساتھ 130 ڈالر (مائنس 6 فیصد) پر آگئیں اور اپریل کے اوائل میں 128 ڈالر کے قریب مستحکم ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران عالمی خام تیل کے بینچ مارکس میں ملے جلے رجحانات دیکھے گئے۔ برینٹ کروڈ  کے مستقبل کے سودے فروری کے آخر میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر مارچ کے اوائل میں 84 ڈالر (پلس 19 فیصد) ہو گئے اور مارچ کے وسط میں 106 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ان میں اعتدال آنا شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی کروڈ نے بھی اسی طرح کا رخ اختیار کیا جو مارچ کے تیسرے ہفتے میں تیزی سے بڑھ کر 159 امریکی ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا جس کے بعد اپریل کے اوائل تک اس میں کمی آئی اور یہ 117 ڈالر پر آگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ قیمتوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار اضافہ مارچ کے پہلے پندرہ دنوں  کے دوران ہوا جو جغرافیائی سیاسی صورتحال پر مارکیٹ کے فوری ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد مہینے کے آخر تک قیمتوں میں جزوی طور پر بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کے نتیجے میں ایشیائی ممالک کو ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ شدید اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مارکیٹوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ 82 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ کئی دیگر ممالک میں یہ اضافہ 50 سے 70 فیصد کی حد میں ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ویتنام، ملائیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکہ، جرمنی اور فرانس سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ وہ توانائی کی مارکیٹیں جو روایتی طور پر مستحکم سمجھی جاتی ہیں، وہاں بھی قیمتوں میں دوہرے ہندسے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بحران کی عالمی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی ریٹیل قیمتیں ڈیزل کے لیے تقریباً 1.2 امریکی ڈالر فی لیٹر اور پیٹرول کے لیے 1.1 امریکی ڈالر فی لیٹر رپورٹ کی گئی ہیں جو کئی علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کو نسبتاً بہتر پوزیشن میں رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں پاکستان کی قیمتوں کا موازنہ سری لنکا جیسے ممالک سے کیا گیا ہے جہاں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 1.3 ڈالر اور 1.2 ڈالر فی لیٹر کے قریب تھیں اور فلپائن جہاں قیمتیں نمایاں طور پر زیادہ یعنی بالترتیب 1.4 ڈالر اور 1.7 ڈالر فی لیٹر تھیں۔ بنگلہ دیش اور میانمار میں اگرچہ قیمتوں کی سطح تھوڑی کم تھی، لیکن وہاں قیمتوں میں اضافے کی فیصد شرح  بہت زیادہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، توانائی کی درآمدات پر منحصر مارکیٹ ہونے کے باوجود، عالمی رجحانات کے مقابلے میں قیمتوں میں نسبتاً استحکام برقرار رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں خطے کے دیگر ممالک کی سنگین صورتحال کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا میں ایندھن کی راشننگ کا ایک جامع نظام ڈیجیٹل فیول پاس کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس کے تحت نجی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار حد 15 لیٹر اور موٹر سائیکلوں کے لیے 5 لیٹر مقرر کر دی گئی۔ اس کے علاوہ سری لنکا نے توانائی کی بچت کے لیے درجہ حرارت کنٹرول کرنے اور عوامی تعطیلات جیسے اقدامات بھی کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میانمار میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر ملک گیر راشننگ متعارف کرائی گئی، سرکاری حکام کے لیے ’ورک فرام ہوم‘ لازمی قرار دیا گیا اور ایندھن کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپائن نے ایندھن اور ضروری اشیاء کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی جس کے تحت ہفتے میں چار دن کام  کا نظام متعارف کرایا گیا اور تقسیم کے سخت کنٹرول نافذ کیے گئے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کی ہنگامی خریداری کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش نے بچت اور انتظامی اقدامات کا امتزاج اختیار کیا  جس میں فرٹیلائزر (کھاد) پلانٹس کی بندش، بجلی کی بچت کی مہمات اور بیرونی مالیاتی مدد حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر ممالک نے بھی متنوع اقدامات نافذ کیے جیسے کہ تجارتی سرگرمیوں کا جلد خاتمہ، ایندھن پر ٹیکسوں میں کمی، بلینڈنگ (ملاوٹ) کے لازمی احکامات اور ذخیرہ اندوزی روکنے اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے فیول ڈپوز کی فوجی نگرانی تک کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے تقابلی جائزے  سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی جھٹکوں  کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت پالیسی مداخلت، سپلائی چین مینجمنٹ اور اسٹریٹجک پلاننگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ پوزیشن ایک متوازن پالیسی اپروچ کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور صارفین کو شدید جھٹکوں سے محفوظ رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان اب تک کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ رہا ہے، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اب بھی خطرات کا باعث ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو درآمدات پر منحصر ہیں۔ یہ صورتحال توانائی کے محتاط انتظام اور متبادل ذرائع  کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے شدید اور مسلسل اضافے نے دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں کے بحران، سپلائی میں تعطل اور ہنگامی پالیسی اقدامات کو جنم دیا جب کہ کئی علاقائی اور عالمی معیشتوں کے مقابلے میں پاکستان نسبتاً مستحکم رہا ہے۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی قیمتوں کے اعدادوشمار اور ممالک کے درمیان تقابلی جائزے پر مبنی یہ رپورٹ جاری توانائی کے بحران کی شدت اور رفتار کو اجاگر کرتی ہے جس میں مارچ اور اپریل 2026 کے اوائل کے دوران پٹرولیم مارکیٹوں میں اتار چڑھاؤ کی نشاندہی کی گئی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں، خاص طور پر ڈیزل میں محض چند ہفتوں کے اندر غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فروری کے دوسرے پندرہ دنوں میں ڈیزل کی قیمت جو تقریباً 88 امریکی ڈالر فی بیرل تھی، مارچ کے پہلے ہفتے تک بڑھ کر 132 ڈالر تک پہنچ گئی جو کہ 50 فیصد کے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان مسلسل جاری رہا، جہاں دوسرے ہفتے میں قیمتیں بڑھ کر 174 امریکی ڈالر فی بیرل (پلس 32 فیصد)، تیسرے ہفتے میں 202 ڈالر (پلس 16 فیصد) اور چوتھے ہفتے میں 218 ڈالر (پلس 8 فیصد) تک جا پہنچیں۔</p>
<p>اپریل کے اوائل تک ڈیزل کی قیمتیں تقریباً 238 امریکی ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو گئیں جو اس پورے دورانیے کے دوران 170 فیصد سے زائد کے مجموعی اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔</p>
<p>پیٹرول کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں فروری کے اواخر میں قیمت تقریباً 74 امریکی ڈالر فی بیرل کے مساوی تھی، جو مارچ کے پہلے ہفتے میں بڑھ کر 95 ڈالر (پلس 28 فیصد) اور دوسرے ہفتے میں مزید بڑھ کر 122 ڈالر (پلس 28 فیصد) تک پہنچ گئی۔ تیسرے ہفتے میں قیمتیں 138 ڈالر تک جا پہنچیں، جس کے بعد چوتھے ہفتے میں معمولی کمی کے ساتھ 130 ڈالر (مائنس 6 فیصد) پر آگئیں اور اپریل کے اوائل میں 128 ڈالر کے قریب مستحکم ہو گئیں۔</p>
<p>اسی دوران عالمی خام تیل کے بینچ مارکس میں ملے جلے رجحانات دیکھے گئے۔ برینٹ کروڈ  کے مستقبل کے سودے فروری کے آخر میں 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر مارچ کے اوائل میں 84 ڈالر (پلس 19 فیصد) ہو گئے اور مارچ کے وسط میں 106 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد ان میں اعتدال آنا شروع ہوا۔</p>
<p>دبئی کروڈ نے بھی اسی طرح کا رخ اختیار کیا جو مارچ کے تیسرے ہفتے میں تیزی سے بڑھ کر 159 امریکی ڈالر فی بیرل تک جا پہنچا جس کے بعد اپریل کے اوائل تک اس میں کمی آئی اور یہ 117 ڈالر پر آگیا۔</p>
<p>رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ قیمتوں میں سب سے زیادہ تیز رفتار اضافہ مارچ کے پہلے پندرہ دنوں  کے دوران ہوا جو جغرافیائی سیاسی صورتحال پر مارکیٹ کے فوری ردِعمل کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے بعد مہینے کے آخر تک قیمتوں میں جزوی طور پر بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بحران کے نتیجے میں ایشیائی ممالک کو ایندھن کی قیمتوں میں سب سے زیادہ شدید اضافے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض مارکیٹوں میں ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ 82 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ کئی دیگر ممالک میں یہ اضافہ 50 سے 70 فیصد کی حد میں ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ویتنام، ملائیشیا اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ امریکہ، جرمنی اور فرانس سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ وہ توانائی کی مارکیٹیں جو روایتی طور پر مستحکم سمجھی جاتی ہیں، وہاں بھی قیمتوں میں دوہرے ہندسے میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اس بحران کی عالمی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی ریٹیل قیمتیں ڈیزل کے لیے تقریباً 1.2 امریکی ڈالر فی لیٹر اور پیٹرول کے لیے 1.1 امریکی ڈالر فی لیٹر رپورٹ کی گئی ہیں جو کئی علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستان کو نسبتاً بہتر پوزیشن میں رکھتی ہیں۔</p>
<p>رپورٹ میں پاکستان کی قیمتوں کا موازنہ سری لنکا جیسے ممالک سے کیا گیا ہے جہاں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بالترتیب 1.3 ڈالر اور 1.2 ڈالر فی لیٹر کے قریب تھیں اور فلپائن جہاں قیمتیں نمایاں طور پر زیادہ یعنی بالترتیب 1.4 ڈالر اور 1.7 ڈالر فی لیٹر تھیں۔ بنگلہ دیش اور میانمار میں اگرچہ قیمتوں کی سطح تھوڑی کم تھی، لیکن وہاں قیمتوں میں اضافے کی فیصد شرح  بہت زیادہ رہی۔</p>
<p>تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے وزارتِ اطلاعات و نشریات نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، توانائی کی درآمدات پر منحصر مارکیٹ ہونے کے باوجود، عالمی رجحانات کے مقابلے میں قیمتوں میں نسبتاً استحکام برقرار رکھنے میں اب تک کامیاب رہا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں خطے کے دیگر ممالک کی سنگین صورتحال کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔</p>
<p>سری لنکا میں ایندھن کی راشننگ کا ایک جامع نظام ڈیجیٹل فیول پاس کے ذریعے نافذ کیا گیا، جس کے تحت نجی گاڑیوں کے لیے ہفتہ وار حد 15 لیٹر اور موٹر سائیکلوں کے لیے 5 لیٹر مقرر کر دی گئی۔ اس کے علاوہ سری لنکا نے توانائی کی بچت کے لیے درجہ حرارت کنٹرول کرنے اور عوامی تعطیلات جیسے اقدامات بھی کیے۔</p>
<p>میانمار میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی بنیاد پر ملک گیر راشننگ متعارف کرائی گئی، سرکاری حکام کے لیے ’ورک فرام ہوم‘ لازمی قرار دیا گیا اور ایندھن کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے قوانین کو مزید سخت کر دیا گیا۔</p>
<p>فلپائن نے ایندھن اور ضروری اشیاء کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لیے نیشنل ایمرجنسی نافذ کر دی جس کے تحت ہفتے میں چار دن کام  کا نظام متعارف کرایا گیا اور تقسیم کے سخت کنٹرول نافذ کیے گئے۔ اس کے علاوہ مختصر مدت کی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کی ہنگامی خریداری کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔</p>
<p>بنگلہ دیش نے بچت اور انتظامی اقدامات کا امتزاج اختیار کیا  جس میں فرٹیلائزر (کھاد) پلانٹس کی بندش، بجلی کی بچت کی مہمات اور بیرونی مالیاتی مدد حاصل کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔</p>
<p>دیگر ممالک نے بھی متنوع اقدامات نافذ کیے جیسے کہ تجارتی سرگرمیوں کا جلد خاتمہ، ایندھن پر ٹیکسوں میں کمی، بلینڈنگ (ملاوٹ) کے لازمی احکامات اور ذخیرہ اندوزی روکنے اور منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے فیول ڈپوز کی فوجی نگرانی تک کی جا رہی ہے۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر قیمتوں کے تقابلی جائزے  سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیرونی جھٹکوں  کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت پالیسی مداخلت، سپلائی چین مینجمنٹ اور اسٹریٹجک پلاننگ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی موجودہ پوزیشن ایک متوازن پالیسی اپروچ کی عکاسی کرتی ہے جس کا مقصد قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا اور صارفین کو شدید جھٹکوں سے محفوظ رکھنا ہے۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان اب تک کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ رہا ہے، لیکن عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ اب بھی خطرات کا باعث ہے، خاص طور پر ان معیشتوں کے لیے جو درآمدات پر منحصر ہیں۔ یہ صورتحال توانائی کے محتاط انتظام اور متبادل ذرائع  کی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284621</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 13:28:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد ثاقب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/041318243fb0d12.webp" type="image/webp" medium="image" height="648" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/041318243fb0d12.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
