<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی منڈی میں پاکستان بدترین کارکردگی دکھانے والے ممالک میں شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284620/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اندرونی معاشی دباؤ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج 2026 کی پہلی سہ ماہی میں عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل رہی جہاں ڈالر ٹرمز میں منفی ریٹرن ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ڈالر ٹرمز میں 14.6 فیصد منافع دیا جس کی وجہ سے پاکستان اس مدت کے دوران عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی تین بڑی مارکیٹوں میں شامل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر علاقائی مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں، جن میں بھارت اور انڈونیشیا اس فہرست میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے، جن کا ڈالر ٹرمز میں منافع بالترتیب 19.4 فیصد اور 19 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/toplinesec/status/2040308390509851067?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/toplinesec/status/2040308390509851067?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;یہ کمزور کارکردگی کئی فرنٹیئر اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے بالکل برعکس ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گھانا، عمان اور نائیجیریا جیسی مارکیٹیں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل رہیں جنہوں نے ڈالرٹرمز میں بالترتیب 43.6 فیصد، 42.3 فیصد اور 34.1 فیصد منافع حاصل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پاکستان کی اس مندی کی بنیادی وجہ بیرونی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کو قرار دیا، خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی جس نے علاقائی مارکیٹوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملک میں مہنگائی میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیٹا پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے جو گزشتہ سال بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل تھی لیکن اب بیرونی جھٹکوں اور میکرو اکنامک عدم استحکام کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے جاری جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث 100 انڈیکس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ انڈیکس 150,399 پوائنٹس پر بند ہوا جو ہفتہ وار بنیادوں پر 0.9 فیصد کی معمولی کمی اور 1,309 پوائنٹس کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق حکومت کی جانب سے فیول سبسڈی ختم کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں مندی مزید گہری ہوگئی جس کے تحت ڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد اور پٹرول کی قیمتوں میں 43 فیصد غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بڑی قیمتوں کے اضافے کے اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کی رات قوم سے خطاب میں ایک ماہ کے لیے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا، جس سے پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور اندرونی معاشی دباؤ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج 2026 کی پہلی سہ ماہی میں عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل رہی جہاں ڈالر ٹرمز میں منفی ریٹرن ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران ڈالر ٹرمز میں 14.6 فیصد منافع دیا جس کی وجہ سے پاکستان اس مدت کے دوران عالمی سطح پر بدترین کارکردگی دکھانے والی تین بڑی مارکیٹوں میں شامل رہا۔</p>
<p>دیگر علاقائی مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں، جن میں بھارت اور انڈونیشیا اس فہرست میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر رہے، جن کا ڈالر ٹرمز میں منافع بالترتیب 19.4 فیصد اور 19 فیصد رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/toplinesec/status/2040308390509851067?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/toplinesec/status/2040308390509851067?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>یہ کمزور کارکردگی کئی فرنٹیئر اور ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے بالکل برعکس ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق گھانا، عمان اور نائیجیریا جیسی مارکیٹیں بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں شامل رہیں جنہوں نے ڈالرٹرمز میں بالترتیب 43.6 فیصد، 42.3 فیصد اور 34.1 فیصد منافع حاصل کیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے پاکستان کی اس مندی کی بنیادی وجہ بیرونی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کو قرار دیا، خاص طور پر ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی جس نے علاقائی مارکیٹوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث ملک میں مہنگائی میں اضافے کے خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔</p>
<p>ڈیٹا پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے جو گزشتہ سال بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹوں میں شامل تھی لیکن اب بیرونی جھٹکوں اور میکرو اکنامک عدم استحکام کی زد میں ہے۔</p>
<p>رواں ہفتے جاری جغرافیائی سیاسی حالات کے باعث 100 انڈیکس میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔ انڈیکس 150,399 پوائنٹس پر بند ہوا جو ہفتہ وار بنیادوں پر 0.9 فیصد کی معمولی کمی اور 1,309 پوائنٹس کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق حکومت کی جانب سے فیول سبسڈی ختم کرنے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں مندی مزید گہری ہوگئی جس کے تحت ڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد اور پٹرول کی قیمتوں میں 43 فیصد غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا۔ اس فیصلے نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا۔</p>
<p>تاہم اس بڑی قیمتوں کے اضافے کے اگلے ہی روز وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کی رات قوم سے خطاب میں ایک ماہ کے لیے پٹرول پر پٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لٹر کمی کا اعلان کیا، جس سے پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے ہو گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284620</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 16:32:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0412550090c6af7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0412550090c6af7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
