<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کی شرح میں مزید 1.01 فیصد اضافہ ، دودھ اور مرغی سمیت 15 اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284617/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مہنگائی کے حوالے سے ادارہ شماریات نے  ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ شماریات کے مطابق 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کیلئے سنسٹیو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح میں 1.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس اضافے کی بنیادی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 13.28 فیصد کا بڑا اضافہ جب کہ انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں بالترتیب 2.33 فیصد اور 2.23 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنے والی دیگر اشیاء میں ماش کی دال (1.74 فیصد)، مٹن (1.54 فیصد)، تازہ دودھ (0.63 فیصد)، دہی (0.60 فیصد)، جارجٹ (0.42 فیصد)، شرٹنگ کا کپڑا (0.41 فیصد)، بیف (0.39 فیصد)، مسور کی دال (0.28 فیصد) اور پرنٹڈ لان (0.10 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، کئی اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی  جن میں ٹماٹر (6.03 فیصد)، لہسن (3.38 فیصد)، آلو (1.22 فیصد)، پیاز (1.21 فیصد)، گندم کا آٹا (0.92 فیصد)، کیلے (0.50 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.33 فیصد)، جلانے والی لکڑی (0.19 فیصد) اور چینی (0.15 فیصد) شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران 51 اشیاء میں سے 15 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 29.41 فیصد بنتی ہیں) کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 9 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 17.65 فیصد ہیں) کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ 27 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 52.94 فیصد ہیں) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح میں  9.12 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس کی بنیادی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 53.69 فیصد، ڈیزل میں 29.94 فیصد، پہلی سہ ماہی کے گیس چارجز میں 29.85 فیصد اور پٹرول میں 26.17 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ گندم کا آٹا 24.85 فیصد، پیاز 17.57 فیصد، سرخ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، مٹن 14 فیصد، بیف 12.94 فیصد، خشک دودھ 10.11 فیصد، باسمتی چاول (ٹوٹا) 6.51 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 5.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالانہ بنیادوں پرآلو (49.65 فیصد)، چنے کی دال (17.52 فیصد)، مرغی (16.08 فیصد)، پسا ہوا نمک (12.55 فیصد)، چینی (11.48 فیصد)، مسور کی دال (11.32 فیصد)، لہسن (10.39 فیصد) اور انڈوں (7.27 فیصد) کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;&lt;br&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مہنگائی کے حوالے سے ادارہ شماریات نے  ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>ادارہ شماریات کے مطابق 2 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کیلئے سنسٹیو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) پر مبنی افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح میں 1.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس اضافے کی بنیادی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 13.28 فیصد کا بڑا اضافہ جب کہ انڈوں اور مرغی کی قیمتوں میں بالترتیب 2.33 فیصد اور 2.23 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔</p>
<p>قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنے والی دیگر اشیاء میں ماش کی دال (1.74 فیصد)، مٹن (1.54 فیصد)، تازہ دودھ (0.63 فیصد)، دہی (0.60 فیصد)، جارجٹ (0.42 فیصد)، شرٹنگ کا کپڑا (0.41 فیصد)، بیف (0.39 فیصد)، مسور کی دال (0.28 فیصد) اور پرنٹڈ لان (0.10 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب، کئی اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی  جن میں ٹماٹر (6.03 فیصد)، لہسن (3.38 فیصد)، آلو (1.22 فیصد)، پیاز (1.21 فیصد)، گندم کا آٹا (0.92 فیصد)، کیلے (0.50 فیصد)، سرسوں کا تیل (0.33 فیصد)، جلانے والی لکڑی (0.19 فیصد) اور چینی (0.15 فیصد) شامل ہیں۔</p>
<p>اس دوران 51 اشیاء میں سے 15 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 29.41 فیصد بنتی ہیں) کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 9 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 17.65 فیصد ہیں) کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جبکہ 27 اشیاء (جو ایس پی آئی باسکٹ کا 52.94 فیصد ہیں) کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پر مہنگائی بڑھنے کی شرح میں  9.12 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس کی بنیادی وجہ ایل پی جی کی قیمتوں میں 53.69 فیصد، ڈیزل میں 29.94 فیصد، پہلی سہ ماہی کے گیس چارجز میں 29.85 فیصد اور پٹرول میں 26.17 فیصد اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ گندم کا آٹا 24.85 فیصد، پیاز 17.57 فیصد، سرخ مرچ پاؤڈر 15.20 فیصد، مٹن 14 فیصد، بیف 12.94 فیصد، خشک دودھ 10.11 فیصد، باسمتی چاول (ٹوٹا) 6.51 فیصد اور گڑ کی قیمت میں 5.69 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>سالانہ بنیادوں پرآلو (49.65 فیصد)، چنے کی دال (17.52 فیصد)، مرغی (16.08 فیصد)، پسا ہوا نمک (12.55 فیصد)، چینی (11.48 فیصد)، مسور کی دال (11.32 فیصد)، لہسن (10.39 فیصد) اور انڈوں (7.27 فیصد) کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
<p><br><br></p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284617</guid>
      <pubDate>Sat, 04 Apr 2026 12:25:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/041221442abb66a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/041221442abb66a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
