<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ تنازع، آئی ایم ایف کا ای ایف ایف پروگرام، اور وفاقی بجٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284600/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقتصادی پالیسی سازی کے ایوانوں میں تازہ ہوا کے خوشگوار جھونکے کے طور پر، اور جو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق مباحث کے لیے ایک اہم اشارہ ثابت ہونا چاہیے، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے کاؤنٹر سائیکلکل (معاشی سست روی کے مقابلے میں استحکام فراہم کرنے والی معاونت) نوعیت کی مالی معاونت فراہم کرنے کا عندیہ سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;24 مارچ کو جاری کردہ اعلامیے ’’مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات کم کرنے کے لیے ایشیا اور بحرالکاہل کی مدد: اے ڈی بی کا مالیاتی پیکیج‘‘ میں بینک نے واضح کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اپنے ترقی پذیر رکن ممالک کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی و مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے صدر ماساتو کاندا کے مطابق ادارہ تیز رفتار، لچکدار اور قابلِ توسیع معاونت فراہم کرے گا تاکہ ممالک فوری دباؤ سے نمٹ سکیں اور طویل المدتی استحکام کو مضبوط بنا سکیں۔ اس ضمن میں فوری طور پر جاری کی جانے والی بجٹ معاونت کے ساتھ ساتھ تجارت اور سپلائی چین فنانسنگ بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ تیل سمیت ضروری اشیا کی درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ اے ڈی بی کی اس مداخلت کے دو بنیادی اجزا ہیں۔ پہلا، فوری طور پر فراہم کی جانے والی بجٹ معاونت ہے، جس کا مقصد ان ممالک کی مدد کرنا ہے جو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے تحت بینک کی کاؤنٹر سائیکلکل سپورٹ فیسلٹی کے ذریعے حکومتوں کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور جھٹکوں کے اثرات کو کمزور طبقات کی زندگیوں اور روزگار پر کم سے کم کرنے میں مدد دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا جزو، اے ڈی بی کا ٹریڈ اینڈ سپلائی چین فنانس پروگرام ہے، جو نجی شعبے کی معاونت کے ذریعے اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ توانائی اور خوراک سمیت اہم درآمدات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں، غیر یقینی کی ایک گہری فضا پیدا کر چکا ہے، جس نے اس تنگ گزرگاہ کے ذریعے عالمی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نمایاں اور سنگین معاشی اثرات کے پیشِ نظر نہ صرف انفرادی حکومتوں کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ تخلیقی اور مشن پر مبنی معاشی پالیسی ردِعمل اختیار کریں، بلکہ یہ امر بھی اجاگر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ’’شکاگو بوائز‘‘ طرز کے مقامی پالیسی ساز بھی اپنی پالیسیوں میں بامعنی نظرثانی کریں اور نوکلاسیکل فلسفے پر مبنی پالیسی ڈھانچے سے ہٹیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، یہ امر خاصا حیران کن ہے کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع عالمی معیشت پر، بالخصوص تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے، گہرے اثرات ڈال چکا ہے، تاہم 3 مارچ کو جاری ہونے والے ’’مشرقِ وسطیٰ سے متعلق آئی ایم ایف کا بیان‘‘ اور اس کے بعد اب تک کوئی نمایاں عوامی بیان سامنے نہیں آیا، میں نہایت سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا: ’’صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور پہلے سے غیر مستحکم عالمی معاشی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اس مرحلے پر علاقائی اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ یہ اثرات تنازع کے پھیلاؤ اور دورانیے پر منحصر ہوں گے۔ ہم اپریل میں جاری ہونے والے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں جامع جائزہ پیش کریں گے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی جنگ توانائی، تجارت اور مالیات کو کیسے متاثر کر رہی ہے‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا، جو مذکورہ بیان کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا، اور اس میں حالیہ معاشی پیش رفت کا عمومی جائزہ دیا گیا، تاہم اس میں بھی محض عمومی نوعیت کی رہنمائی تک محدود رہا گیا۔ کسی ٹھوس پالیسی اقدام کا عندیہ نہیں دیا گیا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کیا عملی قدم اٹھائے گا؛ مثلاً ہنگامی اجلاس بلا کر ممالک کی ضرورت کے مطابق اسپیشل ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کی اضافی فراہمی، یا عالمی خودمختار قرضہ ری اسٹرکچرنگ فریم ورک میں بامعنی بہتری جیسے اقدامات۔ اس تناظر میں آئی ایم ایف کا رویہ ایک حد تک خطرناک حد تک غیر سنجیدہ ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ حکمتِ عملی کا عکاس محسوس ہوتا ہے، حالانکہ معیشت پر سنگین اثرات پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح عالمی بینک نے بھی ایران جنگ کے آغاز کے تقریباً ایک ماہ بعد ’’مشرقِ وسطیٰ تنازع پر عالمی بینک گروپ کا بیان‘‘ جاری کیا، جو زیادہ تر عمومی نوعیت کا جائزہ تھا۔ اس میں بھی کسی واضح پالیسی اقدام یا مالی معاونت کی تفصیل سامنے نہیں آئی؛ مثلاً تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سبسڈی کی مد میں بجٹ سپورٹ یا سماجی تحفظ کے وسیع اقدامات جیسے ٹھوس اعلانات کا فقدان رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ-19 وبا کے دوران جو دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں، وہ تقریباً نصف دہائی گزرنے کے باوجود مزید گہری ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع سے ابھرنے والا ایک واضح اور دوٹوک پیغام یہ ہے کہ فوسل فیول کے استعمال سے دوری میں مزید تاخیر اب کوئی آپشن نہیں رہی، خصوصاً پاکستان جیسے خالص تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور ابتدائی طور پر تیز اضافے کی صورت میں سامنے آنے والا تیل پر مبنی بیرونی جھٹکا محض ایک معمولی پیش رفت نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو مشن پر مبنی معاشی پالیسی ردِعمل کا تقاضا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتِ حال نہ صرف عالمی سطح پر اہمیت کی حامل ہے بلکہ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے، جو تیل کی درآمدی ادائیگیوں کے باعث نہ صرف توازنِ ادائیگی کے دباؤ اور قرضوں کے بحران کے شدید خطرات سے دوچار ہوتے ہیں، بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی انتہائی حساس ہیں۔ حالیہ برسوں میں دو مرتبہ آنے والے تباہ کن سیلاب اس بات کا واضح تقاضا کرتے ہیں کہ ملک فوری طور پر توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کی شدت کو سمجھنا بھی ضروری ہے، جو کس حد تک بڑھ سکتی ہے۔ 27 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک رپورٹ ’’اگر جنگ جون تک جاری رہی تو تیل 200 ڈالر تک جا سکتا ہے: میکوری کی وارننگ‘‘ میں نشاندہی کی گئی کہ اگر ایران جنگ جون تک طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو تیل کی قیمت فی بیرل 200 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگر تنازع دوسری سہ ماہی تک جاری رہتا ہے تو حقیقی معنوں میں قیمتیں تاریخی بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں، جن میں وکاس دویدی بھی شامل ہیں، نے اس امکان کو 40 فیصد قرار دیا ہے۔ جبکہ متبادل منظرنامے کے تحت، جس کے امکانات 60 فیصد بتائے گئے ہیں، جنگ رواں ماہ کے اختتام تک ختم ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جبکہ اس ماہ کے اوائل میں یہ 119.50 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو چکی تھی۔ اس سے قبل 2008 میں برینٹ نے 147.50 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح قائم کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں کے آئندہ رجحان کے حوالے سے یکم اپریل کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی رپورٹ ’’ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق امیدوں پر تیل کی قیمتوں میں کمی‘‘ میں بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے کے اشاروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، حالانکہ آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے اور خطے میں مزید امریکی فوجی پہنچ چکے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 102 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ اس سے قبل اس میں 1.9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا، اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 100 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل سکتا ہے، اور یہ عندیہ بھی دیا کہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے کے بغیر بھی جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، پاکستان میں جاری آئی ایم ایف پروگرام، خصوصاً ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی ( آر ایس ایف)، سے کسی بامعنی استحکام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت ( ای ایف ایف ) اور آر ایس ایف پروگرام کے درمیان پائی جانے والی پالیسی تضادات پر ازسرِنو غور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ملک کو درپیش بیرونی مالی ضروریات کے پیشِ نظر 27 مارچ کے پریس ریلیز نمبر 26/095 کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف اور آر ایس ایف دونوں پروگراموں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس کے تحت، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط، پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسی سوچ میں کفایت شعاری اورپرو سائیکلکل پالیسی رجحان کی گہری جڑیں اب بھی برقرار ہیں، جو خاص طور پرآر ایس ایف پروگرام کے تحت درکار استحکامی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چنانچہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باوجود، مذکورہ پریس ریلیز کے مطابق ای ایف ایف پروگرام نے مالیاتی کفایت شعاری (فسکل آسٹیرٹی) یا مالیاتی استحکام کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’’مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے پرائمری سرپلس کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مالی سال 2027 میں 2 فیصد بنیادی توازن کا ہدف مقرر ہے‘‘۔ اسی طرح مانیٹری پالیسی میں بھی سختی برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں کہا گیا کہ ’’مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا‘‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی مہنگائی کو ہدفی دائرے میں رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور اگر قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے یا مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوتا ہے، بالخصوص عالمی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے اثرات کے باعث، تو شرح سود بڑھانے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ توازنِ ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے اور زرِ مبادلہ کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے، جس سے درآمدی قیمتوں اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، اسپیشل ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کی اضافی فراہمی جیسے اقدامات کی جانب کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، موجودہ غیر معمولی حالات میں، جب توازنِ ادائیگی پر دباؤ بہت زیادہ ہے، اور اگرچہ یہ واضح ہے کہ مہنگائی کے دباؤ زیادہ تر سپلائی سائیڈ (فراہمی کی وجہ سے) پیدا ہوں گے، پریس ریلیز نے غلط طور پر مانیٹری سختی پر زور دینے کے ساتھ کہا کہ: ’’زرِ مبادلہ کی لچک کو بطور بنیادی جھٹکا جذب کرنے والا آلہ برقرار رکھا جانا چاہیے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کے خلاف…‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ بجٹ خرچ کے لیے براہِ راست معاونت فراہم کرنے کے بجائے، یعنی اضافی ایس ڈی آر کی تقسیم کے ذریعے، بجٹ کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کی بجائے، خاص طور پر جب پریس ریلیز میں ’’ٹیکس بیس کو وسیع کرنے‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ زیادہ تر درمیانی مدت میں گھریلو وسائل کی فراہمی کا ایک اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ایس ڈی آر کی تقسیم، توازنِ ادائیگی کی مدد کے لیے اور بجٹ سپورٹ کے لیے، اور عالمی بینک و دیگر ترقیاتی شراکت داروں کو شامل کر کے بجٹ معاونت، خصوصاً توانائی سبسڈی کے لیے اور فیول بفرز کو بڑھانے کے لیے، متعارف کرانا چاہیے تھا تاکہ معاشی سست روی کے مقابلے میں استحکام فراہم کرنے والی معاونت (کاؤنٹر سائیلکل) کی پالیسی اپنانے کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کاؤنٹر سائیلکل بجٹ سپورٹ، بشمول ایس ڈی آر کی تقسیم برائے توازنِ ادائیگی، اس لیے بھی ضروری ہے کہ برینٹ کروڈ کے تناظر میں تیل کی قیمتوں کی روایتی پیمائش موجودہ تنازع کے دوران قابلِ اعتماد نہیں رہتی، کیونکہ دیگر بیچ مارک اب زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں۔ تیل کی سپلائی میں کمی ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں برینٹ کروڈ سے کہیں زیادہ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا بنیادی سبب آبنائے ہرمز کا تقریباً مکمل بند ہونا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نارتھ سی کے ذرائع سے حاصل ہونے والا تیل، جو برینٹ کروڈ کی قیمت کا تعین کرتا تھا،اب زیادہ تر سپلائی کے لیے استعمال نہیں ہو رہا۔ اس لیے امید کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف اور حکام زیادہ شفاف انداز میں اس حقیقت کو ای ایف ایف پروگرام میں شامل کریں اور تیل کی قیمتوں سے متعلق توازنِ ادائیگی کے مسائل کو مدِ نظر رکھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 مارچ کو بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون ’’ایران جنگ کے اثرات سے تیل کی قیمتوں کے اہم معیار متاثر‘‘ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ:ایشیا کے تیل صاف کرنے والے ادارے مشرق وسطیٰ کے بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں، کیونکہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ نے قیمتوں کو حقیقی مارکیٹ سے غیر مربوط کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے کلیدی معیار غیر مستحکم ہو گئے ہیں، کیونکہ جنگ کے باعث خطے میں قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے بیرل کی کمی ہو گئی ہے، جبکہ فرانس کی ٹوٹل انرجیز ایس ای کی خریداری نے اس ہنگامے میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایک موقع پر عمان کا خام تیل 170 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا، جس سے وال سٹریٹ میں خدشات پیدا ہوئے کہ تیل کی قلت حقیقت میں اس سے بھی زیادہ شدید ہے، اس سے پہلے کہ قیمتیں دوبارہ نیچے آ جائیں۔ ایشیا کے ریفائنرز، جو ماہانہ اربوں ڈالر کے خام تیل کی خریداری کے لیے عمان اور دبئی کے بیچ مارک کو حوالہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اب اس قیمتوں کے نظام میں راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جسے بہت سے ماہرین غیر فعال  یا ناکارہ سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ’’اگرچہ خطے کی بیشتر پیداوار آبنائے ہرمز کے اندر بند ہے، لیکن تیل کے تقریباً 5 ملین بیرل روزانہ کے بہاؤ کی قیمت لگانے کے لیے بیچ مارک کی ضرورت اب بھی باقی ہے، جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پائپ لائن کے ذریعے خلیج سے باہر جا رہا ہے۔ نجی گفتگو میں دنیا کے سب سے بڑے تیل استعمال کرنے والے خطے کے تقریباً 20 تاجر اور ریفائنری حکام نے کہا ہے کہ وہ اب مشرق وسطیٰ کے کلیدی قیمت کے معیار کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، جس کی وجہ لیکویڈیٹی کی کمی بھی ہے۔ کئی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی یہ نظام معمول پر آنے میں وقت لے سکتا ہے۔… اس صورتحال نے کئی ملین بیرل کی اسپاٹ ٹریڈز کو مجبور کیا جو عام طور پر دبئی کو بنیاد کے طور پر استعمال کرتے تھے، اب برینٹ کے حوالے سے ٹریڈ ہو رہی ہیں۔ ایشیا کے کچھ فیول میکرز نے بھی غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے سعودی عرب سے درخواست کی کہ وہ ماہانہ خام تیل کی فروخت کی بنیاد بدل دے اور برینٹ فیوچرز پر مبنی قیمتیں طے کرے۔‘‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حقیقت کہ ملک پہلے ہی گہری مالیاتی کفایت شعاری ( فسکل کنسولیڈیشن) اور مانیٹری سختی (مالیاتی کفایت شعاری) سے گزرا ہے، اور اس کے نتیجے میں درمیانی مدت میں ترقی کی رفتار کم، آمدنی میں عدم مساوات بڑھتی اور غربت کی سطح میں اضافہ ہوا، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پرو سائیکلکل پالیسی اختیار نہ کرنا انتہائی اہم ہے۔ اگر مجموعی طلب کو مزید نقصان پہنچایا جائے اور ترقی، روزگار، برآمدات اور بیرونی مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی بامعنی اقدام نہ کیا جائے، تو ’’صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے خرچ میں توسیع‘‘ کا دعویٰ محض ایک خالی یا نفسیاتی بیان ہی رہ جائے گا، جس کے کوئی ٹھوس اقدامات نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی، پروگرام کے نفاذ کرنے والے حکام بھی اس صورتحال میں قصوروار ہیں کہ انہوں نے کم از کم عوامی سطح پر کوئی زیادہ ’’بامعنی اور تخلیقی‘‘ مالیاتی اور مانیٹری پالیسی نہیں اپنائی، بلکہ شدید کفایت شعاری کے ساتھ چلنے والے پروگرام کے ساتھ ہی چلتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی، اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیاں جو اقتصادی امور کی نگرانی کرتی ہیں، متبادل تجاویز سامنے لائیں، تاکہ برآمدات بڑھانے، سپلائی چین مضبوط کرنے، توانائی کے بفرز بنانے، کسان اور صنعت کی حمایت کرنے جیسے مشن پر مبنی اصلاحاتی اقدامات کی طرف توجہ دی جا سکے۔ ورنہ، موجودہ توانائی اور کھاد کی قیمتوں اور سپلائی کے دباؤ کی وجہ سے یہ شعبے کئی مہینوں تک مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، چاہے مشرق وسطیٰ کا تنازع آج ختم ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بامعنی اقدام حکومت کی طرف سے یہ ہو سکتا ہے کہ وہ صارفین پر ٹیکس لگانے سے آمدنی پر ٹیکس لگانے کی بنیاد پر بنیادی تبدیلی کرے، یعنی وفاقی بجٹ میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے اقدامات شامل کیے جائیں، ٹیکس زیادہ منصفانہ (ہروگریسیو) بنایا جائے، اور موجودہ زیادہ شرحِ ٹیکس، خصوصاً تنخواہ اور کارپوریٹ آمدنی پر کم کی جائے۔ اس بامعنی پالیسی کے ذریعے پیدا ہونے والی مالی گنجائش کو صارفین پر لگنے والے ٹیکس، خصوصاً تیل کی مصنوعات پر عائد ٹیکس کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) اور پٹرولیم لیوی ہٹانا۔ ساتھ ہی، تیل کی کھپت کی محدودیت آئی ٹی کے ذریعے کنٹرول کی جائے جیسا کہ حکومت کی موجودہ منصوبہ بندی میں بتایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ کوئی بھی دستیاب مالی سہارا (فسکل کشن) تیل پر ہدفی سبسڈی فراہم کرنے میں استعمال ہونا چاہیے، جبکہ اگر اقتصادی صلاحیت محدود ہو تو وسیع پیمانے پر سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ایس ڈی آر کی اضافی فراہمی غیر کفایت شعاری، کاؤنٹر سائیکلکل پالیسی شروع کرنے اور بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی، جو مجموعی سپلائی کو آسان بنانے اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ ای ایف ایف پروگرام اور آئندہ وفاقی بجٹ تخلیقی ہوں، مثلاً  آیس ڈی آر کی بڑھتی ہوئی تقسیم، ٹیکس پالیسی میں تیزی سے بنیاد وسیع کرنا، اور کاؤنٹر سائیکلکل اور غیر کفایت شعاری پالیسی کی ضرورت کو مدنظر رکھیں۔ اس سے سود کی ادائیگی کے دباؤ اور بیرونی مالیاتی ضروریات کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا، جو بصورت دیگر غیر ملکی زرمبادلہ، ایکسچینج ریٹ اور درآمدی مہنگائی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے، تیل سبسڈی جیسی مالی گنجائش اوپر بیان کردہ پالیسی اقدامات، خصوصاً غیر ترقیاتی اخراجات کی کفایت شعاری سے حاصل کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقتصادی پالیسی سازی کے ایوانوں میں تازہ ہوا کے خوشگوار جھونکے کے طور پر، اور جو توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام اور آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق مباحث کے لیے ایک اہم اشارہ ثابت ہونا چاہیے، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی جانب سے کاؤنٹر سائیکلکل (معاشی سست روی کے مقابلے میں استحکام فراہم کرنے والی معاونت) نوعیت کی مالی معاونت فراہم کرنے کا عندیہ سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>24 مارچ کو جاری کردہ اعلامیے ’’مشرقِ وسطیٰ تنازع کے اثرات کم کرنے کے لیے ایشیا اور بحرالکاہل کی مدد: اے ڈی بی کا مالیاتی پیکیج‘‘ میں بینک نے واضح کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اپنے ترقی پذیر رکن ممالک کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی و مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے مالی معاونت فراہم کرے گا۔</p>
<p>اے ڈی بی کے صدر ماساتو کاندا کے مطابق ادارہ تیز رفتار، لچکدار اور قابلِ توسیع معاونت فراہم کرے گا تاکہ ممالک فوری دباؤ سے نمٹ سکیں اور طویل المدتی استحکام کو مضبوط بنا سکیں۔ اس ضمن میں فوری طور پر جاری کی جانے والی بجٹ معاونت کے ساتھ ساتھ تجارت اور سپلائی چین فنانسنگ بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ تیل سمیت ضروری اشیا کی درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ اے ڈی بی کی اس مداخلت کے دو بنیادی اجزا ہیں۔ پہلا، فوری طور پر فراہم کی جانے والی بجٹ معاونت ہے، جس کا مقصد ان ممالک کی مدد کرنا ہے جو بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے تحت بینک کی کاؤنٹر سائیکلکل سپورٹ فیسلٹی کے ذریعے حکومتوں کو اپنی معیشت کو مستحکم کرنے اور جھٹکوں کے اثرات کو کمزور طبقات کی زندگیوں اور روزگار پر کم سے کم کرنے میں مدد دی جائے گی۔</p>
<p>دوسرا جزو، اے ڈی بی کا ٹریڈ اینڈ سپلائی چین فنانس پروگرام ہے، جو نجی شعبے کی معاونت کے ذریعے اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ توانائی اور خوراک سمیت اہم درآمدات کا سلسلہ بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ کا جاری تنازع، خصوصاً آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں، غیر یقینی کی ایک گہری فضا پیدا کر چکا ہے، جس نے اس تنگ گزرگاہ کے ذریعے عالمی معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔</p>
<p>اس نمایاں اور سنگین معاشی اثرات کے پیشِ نظر نہ صرف انفرادی حکومتوں کے لیے یہ ناگزیر ہو گیا ہے کہ وہ تخلیقی اور مشن پر مبنی معاشی پالیسی ردِعمل اختیار کریں، بلکہ یہ امر بھی اجاگر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)، عالمی بینک اور ’’شکاگو بوائز‘‘ طرز کے مقامی پالیسی ساز بھی اپنی پالیسیوں میں بامعنی نظرثانی کریں اور نوکلاسیکل فلسفے پر مبنی پالیسی ڈھانچے سے ہٹیں۔</p>
<p>مزید برآں، یہ امر خاصا حیران کن ہے کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع عالمی معیشت پر، بالخصوص تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے، گہرے اثرات ڈال چکا ہے، تاہم 3 مارچ کو جاری ہونے والے ’’مشرقِ وسطیٰ سے متعلق آئی ایم ایف کا بیان‘‘ اور اس کے بعد اب تک کوئی نمایاں عوامی بیان سامنے نہیں آیا، میں نہایت سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا: ’’صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور پہلے سے غیر مستحکم عالمی معاشی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اس مرحلے پر علاقائی اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ یہ اثرات تنازع کے پھیلاؤ اور دورانیے پر منحصر ہوں گے۔ ہم اپریل میں جاری ہونے والے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں جامع جائزہ پیش کریں گے۔‘‘</p>
<p>اگرچہ آئی ایم ایف نے 30 مارچ کو ’’مشرقِ وسطیٰ کی جنگ توانائی، تجارت اور مالیات کو کیسے متاثر کر رہی ہے‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا، جو مذکورہ بیان کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا، اور اس میں حالیہ معاشی پیش رفت کا عمومی جائزہ دیا گیا، تاہم اس میں بھی محض عمومی نوعیت کی رہنمائی تک محدود رہا گیا۔ کسی ٹھوس پالیسی اقدام کا عندیہ نہیں دیا گیا کہ بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کیا عملی قدم اٹھائے گا؛ مثلاً ہنگامی اجلاس بلا کر ممالک کی ضرورت کے مطابق اسپیشل ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کی اضافی فراہمی، یا عالمی خودمختار قرضہ ری اسٹرکچرنگ فریم ورک میں بامعنی بہتری جیسے اقدامات۔ اس تناظر میں آئی ایم ایف کا رویہ ایک حد تک خطرناک حد تک غیر سنجیدہ ’’انتظار کرو اور دیکھو‘‘ حکمتِ عملی کا عکاس محسوس ہوتا ہے، حالانکہ معیشت پر سنگین اثرات پہلے ہی ظاہر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح عالمی بینک نے بھی ایران جنگ کے آغاز کے تقریباً ایک ماہ بعد ’’مشرقِ وسطیٰ تنازع پر عالمی بینک گروپ کا بیان‘‘ جاری کیا، جو زیادہ تر عمومی نوعیت کا جائزہ تھا۔ اس میں بھی کسی واضح پالیسی اقدام یا مالی معاونت کی تفصیل سامنے نہیں آئی؛ مثلاً تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سبسڈی کی مد میں بجٹ سپورٹ یا سماجی تحفظ کے وسیع اقدامات جیسے ٹھوس اعلانات کا فقدان رہا۔</p>
<p>کووڈ-19 وبا کے دوران جو دراڑیں نمایاں ہونا شروع ہوئی تھیں، وہ تقریباً نصف دہائی گزرنے کے باوجود مزید گہری ہو چکی ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع سے ابھرنے والا ایک واضح اور دوٹوک پیغام یہ ہے کہ فوسل فیول کے استعمال سے دوری میں مزید تاخیر اب کوئی آپشن نہیں رہی، خصوصاً پاکستان جیسے خالص تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے۔</p>
</blockquote>
<p>تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور ابتدائی طور پر تیز اضافے کی صورت میں سامنے آنے والا تیل پر مبنی بیرونی جھٹکا محض ایک معمولی پیش رفت نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو مشن پر مبنی معاشی پالیسی ردِعمل کا تقاضا کرتا ہے۔</p>
<p>یہ صورتِ حال نہ صرف عالمی سطح پر اہمیت کی حامل ہے بلکہ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے، جو تیل کی درآمدی ادائیگیوں کے باعث نہ صرف توازنِ ادائیگی کے دباؤ اور قرضوں کے بحران کے شدید خطرات سے دوچار ہوتے ہیں، بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی انتہائی حساس ہیں۔ حالیہ برسوں میں دو مرتبہ آنے والے تباہ کن سیلاب اس بات کا واضح تقاضا کرتے ہیں کہ ملک فوری طور پر توانائی کے متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہو۔</p>
<p>اس تناظر میں تیل کی قیمتوں کے جھٹکے کی شدت کو سمجھنا بھی ضروری ہے، جو کس حد تک بڑھ سکتی ہے۔ 27 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک رپورٹ ’’اگر جنگ جون تک جاری رہی تو تیل 200 ڈالر تک جا سکتا ہے: میکوری کی وارننگ‘‘ میں نشاندہی کی گئی کہ اگر ایران جنگ جون تک طول پکڑتی ہے اور آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو تیل کی قیمت فی بیرل 200 ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اگر تنازع دوسری سہ ماہی تک جاری رہتا ہے تو حقیقی معنوں میں قیمتیں تاریخی بلند سطح پر جا سکتی ہیں۔ تجزیہ کاروں، جن میں وکاس دویدی بھی شامل ہیں، نے اس امکان کو 40 فیصد قرار دیا ہے۔ جبکہ متبادل منظرنامے کے تحت، جس کے امکانات 60 فیصد بتائے گئے ہیں، جنگ رواں ماہ کے اختتام تک ختم ہو سکتی ہے۔</p>
<p>جمعہ کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جبکہ اس ماہ کے اوائل میں یہ 119.50 ڈالر کی بلند ترین سطح کو چھو چکی تھی۔ اس سے قبل 2008 میں برینٹ نے 147.50 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح قائم کی تھی۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں کے آئندہ رجحان کے حوالے سے یکم اپریل کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی رپورٹ ’’ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق امیدوں پر تیل کی قیمتوں میں کمی‘‘ میں بتایا گیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران جنگ کے ممکنہ خاتمے کے اشاروں کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، حالانکہ آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہے اور خطے میں مزید امریکی فوجی پہنچ چکے ہیں۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 102 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ اس سے قبل اس میں 1.9 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا تھا، اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ تقریباً 100 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا دو سے تین ہفتوں میں ایران سے نکل سکتا ہے، اور یہ عندیہ بھی دیا کہ تہران کے ساتھ کسی معاہدے کے بغیر بھی جنگ کا خاتمہ ممکن ہے۔</p>
<p>مزید برآں، پاکستان میں جاری آئی ایم ایف پروگرام، خصوصاً ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی ( آر ایس ایف)، سے کسی بامعنی استحکام حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ توسیعی فنڈ سہولت ( ای ایف ایف ) اور آر ایس ایف پروگرام کے درمیان پائی جانے والی پالیسی تضادات پر ازسرِنو غور کیا جائے۔</p>
<p>یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ملک کو درپیش بیرونی مالی ضروریات کے پیشِ نظر 27 مارچ کے پریس ریلیز نمبر 26/095 کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ای ایف ایف اور آر ایس ایف دونوں پروگراموں پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس کے تحت، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط، پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر (760 ملین ایس ڈی آر) اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 210 ملین ڈالر (154 ملین ایس ڈی آر) تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی پالیسی سوچ میں کفایت شعاری اورپرو سائیکلکل پالیسی رجحان کی گہری جڑیں اب بھی برقرار ہیں، جو خاص طور پرآر ایس ایف پروگرام کے تحت درکار استحکامی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔</p>
<p>چنانچہ مشرقِ وسطیٰ تنازع کے باوجود، مذکورہ پریس ریلیز کے مطابق ای ایف ایف پروگرام نے مالیاتی کفایت شعاری (فسکل آسٹیرٹی) یا مالیاتی استحکام کی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’’مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 1.6 فیصد کے پرائمری سرپلس کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مالی سال 2027 میں 2 فیصد بنیادی توازن کا ہدف مقرر ہے‘‘۔ اسی طرح مانیٹری پالیسی میں بھی سختی برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جس میں کہا گیا کہ ’’مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی مانیٹری پالیسی کو برقرار رکھا جائے گا‘‘۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی مہنگائی کو ہدفی دائرے میں رکھنے کے لیے پُرعزم ہے اور اگر قیمتوں پر دباؤ بڑھتا ہے یا مہنگائی کی توقعات میں اضافہ ہوتا ہے، بالخصوص عالمی خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ کے اثرات کے باعث، تو شرح سود بڑھانے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ توازنِ ادائیگی کے دباؤ کو کم کرنے اور زرِ مبادلہ کی قدر میں کمی سے بچنے کے لیے، جس سے درآمدی قیمتوں اور قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے، اسپیشل ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کی اضافی فراہمی جیسے اقدامات کی جانب کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی۔</p>
<p>اس کے برعکس، موجودہ غیر معمولی حالات میں، جب توازنِ ادائیگی پر دباؤ بہت زیادہ ہے، اور اگرچہ یہ واضح ہے کہ مہنگائی کے دباؤ زیادہ تر سپلائی سائیڈ (فراہمی کی وجہ سے) پیدا ہوں گے، پریس ریلیز نے غلط طور پر مانیٹری سختی پر زور دینے کے ساتھ کہا کہ: ’’زرِ مبادلہ کی لچک کو بطور بنیادی جھٹکا جذب کرنے والا آلہ برقرار رکھا جانا چاہیے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے اثرات کے خلاف…‘‘</p>
<p>مزید یہ کہ بجٹ خرچ کے لیے براہِ راست معاونت فراہم کرنے کے بجائے، یعنی اضافی ایس ڈی آر کی تقسیم کے ذریعے، بجٹ کے لیے مالی امداد فراہم کرنے کی بجائے، خاص طور پر جب پریس ریلیز میں ’’ٹیکس بیس کو وسیع کرنے‘‘ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ زیادہ تر درمیانی مدت میں گھریلو وسائل کی فراہمی کا ایک اقدام ہے۔</p>
<p>دونوں ایس ڈی آر کی تقسیم، توازنِ ادائیگی کی مدد کے لیے اور بجٹ سپورٹ کے لیے، اور عالمی بینک و دیگر ترقیاتی شراکت داروں کو شامل کر کے بجٹ معاونت، خصوصاً توانائی سبسڈی کے لیے اور فیول بفرز کو بڑھانے کے لیے، متعارف کرانا چاہیے تھا تاکہ معاشی سست روی کے مقابلے میں استحکام فراہم کرنے والی معاونت (کاؤنٹر سائیلکل) کی پالیسی اپنانے کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p>یہ کاؤنٹر سائیلکل بجٹ سپورٹ، بشمول ایس ڈی آر کی تقسیم برائے توازنِ ادائیگی، اس لیے بھی ضروری ہے کہ برینٹ کروڈ کے تناظر میں تیل کی قیمتوں کی روایتی پیمائش موجودہ تنازع کے دوران قابلِ اعتماد نہیں رہتی، کیونکہ دیگر بیچ مارک اب زیادہ متعلقہ ہو گئے ہیں۔ تیل کی سپلائی میں کمی ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں برینٹ کروڈ سے کہیں زیادہ ہو رہی ہیں۔</p>
<p>اس کا بنیادی سبب آبنائے ہرمز کا تقریباً مکمل بند ہونا ہے، جس کا مطلب ہے کہ نارتھ سی کے ذرائع سے حاصل ہونے والا تیل، جو برینٹ کروڈ کی قیمت کا تعین کرتا تھا،اب زیادہ تر سپلائی کے لیے استعمال نہیں ہو رہا۔ اس لیے امید کی جاتی ہے کہ آئی ایم ایف اور حکام زیادہ شفاف انداز میں اس حقیقت کو ای ایف ایف پروگرام میں شامل کریں اور تیل کی قیمتوں سے متعلق توازنِ ادائیگی کے مسائل کو مدِ نظر رکھیں۔</p>
<p>27 مارچ کو بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون ’’ایران جنگ کے اثرات سے تیل کی قیمتوں کے اہم معیار متاثر‘‘ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ:ایشیا کے تیل صاف کرنے والے ادارے مشرق وسطیٰ کے بینچ مارک خام تیل کی قیمتوں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں، کیونکہ جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ نے قیمتوں کو حقیقی مارکیٹ سے غیر مربوط کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے کلیدی معیار غیر مستحکم ہو گئے ہیں، کیونکہ جنگ کے باعث خطے میں قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے بیرل کی کمی ہو گئی ہے، جبکہ فرانس کی ٹوٹل انرجیز ایس ای کی خریداری نے اس ہنگامے میں مزید اضافہ کر دیا۔ ایک موقع پر عمان کا خام تیل 170 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ کر رہا تھا، جس سے وال سٹریٹ میں خدشات پیدا ہوئے کہ تیل کی قلت حقیقت میں اس سے بھی زیادہ شدید ہے، اس سے پہلے کہ قیمتیں دوبارہ نیچے آ جائیں۔ ایشیا کے ریفائنرز، جو ماہانہ اربوں ڈالر کے خام تیل کی خریداری کے لیے عمان اور دبئی کے بیچ مارک کو حوالہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اب اس قیمتوں کے نظام میں راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جسے بہت سے ماہرین غیر فعال  یا ناکارہ سمجھتے ہیں۔</p>
<p>مزید برآں، مضمون میں بتایا گیا ہے کہ ’’اگرچہ خطے کی بیشتر پیداوار آبنائے ہرمز کے اندر بند ہے، لیکن تیل کے تقریباً 5 ملین بیرل روزانہ کے بہاؤ کی قیمت لگانے کے لیے بیچ مارک کی ضرورت اب بھی باقی ہے، جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پائپ لائن کے ذریعے خلیج سے باہر جا رہا ہے۔ نجی گفتگو میں دنیا کے سب سے بڑے تیل استعمال کرنے والے خطے کے تقریباً 20 تاجر اور ریفائنری حکام نے کہا ہے کہ وہ اب مشرق وسطیٰ کے کلیدی قیمت کے معیار کو قابلِ اعتماد نہیں سمجھتے، جس کی وجہ لیکویڈیٹی کی کمی بھی ہے۔ کئی افراد نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی یہ نظام معمول پر آنے میں وقت لے سکتا ہے۔… اس صورتحال نے کئی ملین بیرل کی اسپاٹ ٹریڈز کو مجبور کیا جو عام طور پر دبئی کو بنیاد کے طور پر استعمال کرتے تھے، اب برینٹ کے حوالے سے ٹریڈ ہو رہی ہیں۔ ایشیا کے کچھ فیول میکرز نے بھی غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے سعودی عرب سے درخواست کی کہ وہ ماہانہ خام تیل کی فروخت کی بنیاد بدل دے اور برینٹ فیوچرز پر مبنی قیمتیں طے کرے۔‘‘</p>
<p>یہ حقیقت کہ ملک پہلے ہی گہری مالیاتی کفایت شعاری ( فسکل کنسولیڈیشن) اور مانیٹری سختی (مالیاتی کفایت شعاری) سے گزرا ہے، اور اس کے نتیجے میں درمیانی مدت میں ترقی کی رفتار کم، آمدنی میں عدم مساوات بڑھتی اور غربت کی سطح میں اضافہ ہوا، اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پرو سائیکلکل پالیسی اختیار نہ کرنا انتہائی اہم ہے۔ اگر مجموعی طلب کو مزید نقصان پہنچایا جائے اور ترقی، روزگار، برآمدات اور بیرونی مالیاتی خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی بامعنی اقدام نہ کیا جائے، تو ’’صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے خرچ میں توسیع‘‘ کا دعویٰ محض ایک خالی یا نفسیاتی بیان ہی رہ جائے گا، جس کے کوئی ٹھوس اقدامات نہ ہوں۔</p>
<p>ساتھ ہی، پروگرام کے نفاذ کرنے والے حکام بھی اس صورتحال میں قصوروار ہیں کہ انہوں نے کم از کم عوامی سطح پر کوئی زیادہ ’’بامعنی اور تخلیقی‘‘ مالیاتی اور مانیٹری پالیسی نہیں اپنائی، بلکہ شدید کفایت شعاری کے ساتھ چلنے والے پروگرام کے ساتھ ہی چلتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی، اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹیاں جو اقتصادی امور کی نگرانی کرتی ہیں، متبادل تجاویز سامنے لائیں، تاکہ برآمدات بڑھانے، سپلائی چین مضبوط کرنے، توانائی کے بفرز بنانے، کسان اور صنعت کی حمایت کرنے جیسے مشن پر مبنی اصلاحاتی اقدامات کی طرف توجہ دی جا سکے۔ ورنہ، موجودہ توانائی اور کھاد کی قیمتوں اور سپلائی کے دباؤ کی وجہ سے یہ شعبے کئی مہینوں تک مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں، چاہے مشرق وسطیٰ کا تنازع آج ختم ہو جائے۔</p>
<p>ایک بامعنی اقدام حکومت کی طرف سے یہ ہو سکتا ہے کہ وہ صارفین پر ٹیکس لگانے سے آمدنی پر ٹیکس لگانے کی بنیاد پر بنیادی تبدیلی کرے، یعنی وفاقی بجٹ میں ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے کے اقدامات شامل کیے جائیں، ٹیکس زیادہ منصفانہ (ہروگریسیو) بنایا جائے، اور موجودہ زیادہ شرحِ ٹیکس، خصوصاً تنخواہ اور کارپوریٹ آمدنی پر کم کی جائے۔ اس بامعنی پالیسی کے ذریعے پیدا ہونے والی مالی گنجائش کو صارفین پر لگنے والے ٹیکس، خصوصاً تیل کی مصنوعات پر عائد ٹیکس کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، مثلاً جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی) اور پٹرولیم لیوی ہٹانا۔ ساتھ ہی، تیل کی کھپت کی محدودیت آئی ٹی کے ذریعے کنٹرول کی جائے جیسا کہ حکومت کی موجودہ منصوبہ بندی میں بتایا گیا ہے۔</p>
<p>مزید یہ کہ کوئی بھی دستیاب مالی سہارا (فسکل کشن) تیل پر ہدفی سبسڈی فراہم کرنے میں استعمال ہونا چاہیے، جبکہ اگر اقتصادی صلاحیت محدود ہو تو وسیع پیمانے پر سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے ایس ڈی آر کی اضافی فراہمی غیر کفایت شعاری، کاؤنٹر سائیکلکل پالیسی شروع کرنے اور بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی، جو مجموعی سپلائی کو آسان بنانے اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے گی۔</p>
<p>لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ ای ایف ایف پروگرام اور آئندہ وفاقی بجٹ تخلیقی ہوں، مثلاً  آیس ڈی آر کی بڑھتی ہوئی تقسیم، ٹیکس پالیسی میں تیزی سے بنیاد وسیع کرنا، اور کاؤنٹر سائیکلکل اور غیر کفایت شعاری پالیسی کی ضرورت کو مدنظر رکھیں۔ اس سے سود کی ادائیگی کے دباؤ اور بیرونی مالیاتی ضروریات کے اثرات کو کم کیا جا سکے گا، جو بصورت دیگر غیر ملکی زرمبادلہ، ایکسچینج ریٹ اور درآمدی مہنگائی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے، تیل سبسڈی جیسی مالی گنجائش اوپر بیان کردہ پالیسی اقدامات، خصوصاً غیر ترقیاتی اخراجات کی کفایت شعاری سے حاصل کی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284600</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 17:13:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/031601569d41866.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/031601569d41866.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
