<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:18:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سرپلس پاور پیکیج سے بجلی کی طلب میں اضافہ، کاروباری لاگت میں بڑی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284597/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کے سرپلس پاور پیکیج کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں صرف تین ماہ کے دوران دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک صنعت اور زراعت کے شعبوں نے اضافی 2,164 گیگا واٹ آور بجلی استعمال کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری کیے گئے ایک سرکاری اعلامیے میں وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ صرف صنعتوں نے مجموعی طور پر 19.6 ارب روپے کی بچت کی جب کہ زرعی صارفین نے 1.14 ارب روپے بچائے جس کے نتیجے میں مجموعی مالی ریلیف 20.83 ارب روپے تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ اطلاعات کے مطابق صنعتوں کے مختلف زمروں میں سے بی تھری  صارفین نے سب سے زیادہ 8.76 ارب روپے کی بچت کی جس کے بعد بی ٹو  نے 5.34 ارب روپے، بی فور نے 4.02 ارب روپے اور بی ون صارفین نے 1.48 ارب روپے کی بچت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی اقدام کے تحت ملک کی صنعتی اور زرعی شعبے کو ریلیف اور مدد فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس سرپلس الیکٹرسٹی پیکیج کو متعارف کرایا گیا تھا جس میں اضافی استعمال پر 22.98 روپے فی یونٹ کی کم ترین شرح مقرر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ان شعبوں کو اس مدت کے دوران فروخت کیے گئے کل یونٹس کا 23 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیکیج ایک ہدفی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تاکہ بجلی کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکے، دستیاب پیداوار کی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے اور صنعتی و زرعی صارفین کو طویل مدت کے لیے مالی ریلیف فراہم کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا وزارت نے بتایا کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا جس میں بی فور بڑی صنعتوں کے 67 فیصد (123 میں سے 83)، بی تھری کے 52 فیصد (3,470 میں سے 1,812)، بی ٹو کے 48 فیصد (69,124 میں سے 33,449) اور بی ون صنعتوں کے 43 فیصد (229,282 میں سے 98,718) اس پیکیج سے مستفید ہوئے جب کہ 34 فیصد زرعی صارفین (242,451 میں سے 82,334) نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس پیکیج کے تحت بجلی کے استعمال  کے تناسب کے لحاظ سے بی ون صنعتیں 27 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے بعد بی فور کا حصہ 25 فیصد، بی ٹو کا 24 فیصد، بی تھری کا 22 فیصد اور زراعت کا حصہ 21 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیابی کے سب سے حوصلہ افزاء اثرات جنوری 2026 میں 12 فیصد اور فروری 2026 میں 11 فیصد سالانہ ترقی کی صورت میں سامنے آئے جو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس پیکیج نے بجلی کی طلب میں اضافہ کیا ہے اور صنعتوں کو مہنگی ذاتی بجلی کی پیداوار  کے بجائے گرڈ کی سستی بجلی پر انحصار کرنے کی ترغیب دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کے سرپلس پاور پیکیج کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں صرف تین ماہ کے دوران دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک صنعت اور زراعت کے شعبوں نے اضافی 2,164 گیگا واٹ آور بجلی استعمال کی ہے۔</strong></p>
<p>جمعہ کو جاری کیے گئے ایک سرکاری اعلامیے میں وزارتِ اطلاعات نے بتایا کہ صرف صنعتوں نے مجموعی طور پر 19.6 ارب روپے کی بچت کی جب کہ زرعی صارفین نے 1.14 ارب روپے بچائے جس کے نتیجے میں مجموعی مالی ریلیف 20.83 ارب روپے تک پہنچ گیا۔</p>
<p>وزارتِ اطلاعات کے مطابق صنعتوں کے مختلف زمروں میں سے بی تھری  صارفین نے سب سے زیادہ 8.76 ارب روپے کی بچت کی جس کے بعد بی ٹو  نے 5.34 ارب روپے، بی فور نے 4.02 ارب روپے اور بی ون صارفین نے 1.48 ارب روپے کی بچت کی۔</p>
<p>دسمبر 2025 میں وزیراعظم شہباز شریف کے خصوصی اقدام کے تحت ملک کی صنعتی اور زرعی شعبے کو ریلیف اور مدد فراہم کرنے کے لیے شروع کیے گئے اس سرپلس الیکٹرسٹی پیکیج کو متعارف کرایا گیا تھا جس میں اضافی استعمال پر 22.98 روپے فی یونٹ کی کم ترین شرح مقرر کی گئی تھی۔</p>
<p>یہ ان شعبوں کو اس مدت کے دوران فروخت کیے گئے کل یونٹس کا 23 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>یہ پیکیج ایک ہدفی اقدام کے طور پر شروع کیا گیا تاکہ بجلی کے استعمال میں اضافہ کیا جا سکے، دستیاب پیداوار کی صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے اور صنعتی و زرعی صارفین کو طویل مدت کے لیے مالی ریلیف فراہم کیا جاسکے۔</p>
<p>دریں اثنا وزارت نے بتایا کہ صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس پیکیج سے فائدہ اٹھایا جس میں بی فور بڑی صنعتوں کے 67 فیصد (123 میں سے 83)، بی تھری کے 52 فیصد (3,470 میں سے 1,812)، بی ٹو کے 48 فیصد (69,124 میں سے 33,449) اور بی ون صنعتوں کے 43 فیصد (229,282 میں سے 98,718) اس پیکیج سے مستفید ہوئے جب کہ 34 فیصد زرعی صارفین (242,451 میں سے 82,334) نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا۔</p>
<p>اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ اس پیکیج کے تحت بجلی کے استعمال  کے تناسب کے لحاظ سے بی ون صنعتیں 27 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہیں جس کے بعد بی فور کا حصہ 25 فیصد، بی ٹو کا 24 فیصد، بی تھری کا 22 فیصد اور زراعت کا حصہ 21 فیصد رہا۔</p>
<p>کامیابی کے سب سے حوصلہ افزاء اثرات جنوری 2026 میں 12 فیصد اور فروری 2026 میں 11 فیصد سالانہ ترقی کی صورت میں سامنے آئے جو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ اس پیکیج نے بجلی کی طلب میں اضافہ کیا ہے اور صنعتوں کو مہنگی ذاتی بجلی کی پیداوار  کے بجائے گرڈ کی سستی بجلی پر انحصار کرنے کی ترغیب دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284597</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 15:29:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0315140077f9773.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0315140077f9773.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
