<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی سی ڈی ایم اے کا حکومت سے بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284587/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ پر حالیہ دنوں میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان کے لیے ایک بڑا مثبت اشارہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دبئی میں بندش اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ لائنز نے متبادل راستے کے طور پر پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں کراچی پورٹ نے مارچ 2026 کے صرف ابتدائی 24 دنوں میں 8313 کنٹینرز ہینڈل کیے جو پورے سال 2025 کے برابر ہے، مزید برآں پورٹ قاسم پر بھی کارگو کے حجم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی شپنگ لائنز پاکستان کی بندرگاہوں پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس غیر معمولی موقع کو ضائع نہ کیا جائے اور فوری طور پر بندرگاہی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، چارجز اور لیویز میں کمی اور ریسرچ پر مبنی پالیسی سازی جیسے اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر سہولتیں فراہم کریں تو پاکستان خطے میں ایک مستقل ٹرانس شپمنٹ حب بن سکتا ہے۔ یہ مثبت پیش رفت نہ صرف برآمدات اور درآمدات کو سہل بنائے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی نئی سمت دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی سی ڈی ایم اے) کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے کہا ہے کہ کراچی پورٹ پر حالیہ دنوں میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ پاکستان کے لیے ایک بڑا مثبت اشارہ ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ دبئی میں بندش اور خطے میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی شپنگ لائنز نے متبادل راستے کے طور پر پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔</p>
<p>اس کے نتیجے میں کراچی پورٹ نے مارچ 2026 کے صرف ابتدائی 24 دنوں میں 8313 کنٹینرز ہینڈل کیے جو پورے سال 2025 کے برابر ہے، مزید برآں پورٹ قاسم پر بھی کارگو کے حجم میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی شپنگ لائنز پاکستان کی بندرگاہوں پر اعتماد کا اظہار کر رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس غیر معمولی موقع کو ضائع نہ کیا جائے اور فوری طور پر بندرگاہی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، چارجز اور لیویز میں کمی اور ریسرچ پر مبنی پالیسی سازی جیسے اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر سہولتیں فراہم کریں تو پاکستان خطے میں ایک مستقل ٹرانس شپمنٹ حب بن سکتا ہے۔ یہ مثبت پیش رفت نہ صرف برآمدات اور درآمدات کو سہل بنائے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی نئی سمت دے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284587</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 13:57:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0313564194f4546.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0313564194f4546.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
