<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی ایران کے انفرااسٹرکچر پر مزید حملوں کی دھمکی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284584/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران میں جو کچھ باقی ہے اسے تباہ کرنا ابھی شروع ہی نہیں کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے انفرااسٹرکچر پر حملوں میں شدت بڑھائی جائے گی، جبکہ درجنوں ممالک خلیج کے اہم توانائی راستے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقریباً پانچ ہفتے قبل شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی فضائی کارروائی کے بعد ایران میں جاری جنگ پورے خطے میں بدامنی پھیلا رہی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے، جس سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس تنازع کو جلد ختم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنی سخت بیان بازی مزید تیز کر دی ہے، جبکہ ایران میں نئی قیادت کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی مذاکراتی کوششیں محدود پیش رفت دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم نے ابھی ایران میں جو باقی ہے اسے تباہ کرنا شروع ہی نہیں کیا، اگلا نشانہ پل اور پھر بجلی گھر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں مزید کشیدگی تباہ کن ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ کویت کی ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں جبکہ سعودی عرب نے کئی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ میں بھی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سمندری راستوں کے تحفظ سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے تاہم چین نے کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قلت اور مہنگائی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران میں جو کچھ باقی ہے اسے تباہ کرنا ابھی شروع ہی نہیں کیا، اور اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کے انفرااسٹرکچر پر حملوں میں شدت بڑھائی جائے گی، جبکہ درجنوں ممالک خلیج کے اہم توانائی راستے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>تقریباً پانچ ہفتے قبل شروع ہونے والی امریکی-اسرائیلی فضائی کارروائی کے بعد ایران میں جاری جنگ پورے خطے میں بدامنی پھیلا رہی ہے اور عالمی مالیاتی منڈیوں کو متاثر کر رہی ہے، جس سے ٹرمپ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس تنازع کو جلد ختم کریں۔</p>
<p>ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنی سخت بیان بازی مزید تیز کر دی ہے، جبکہ ایران میں نئی قیادت کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی مذاکراتی کوششیں محدود پیش رفت دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم نے ابھی ایران میں جو باقی ہے اسے تباہ کرنا شروع ہی نہیں کیا، اگلا نشانہ پل اور پھر بجلی گھر ہوں گے۔</p>
<p>ایران نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا ایرانی عوام کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں مزید کشیدگی تباہ کن ہوگی۔</p>
<p>اسی دوران خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ کویت کی ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں جبکہ سعودی عرب نے کئی ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران اور اس کے اتحادیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔</p>
<p>امریکا، یورپ اور اقوام متحدہ میں بھی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سمندری راستوں کے تحفظ سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ متوقع ہے تاہم چین نے کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش یا رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی کے لیے سنگین خطرہ ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کا تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قلت اور مہنگائی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284584</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 13:25:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/031320589736f0b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/031320589736f0b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
