<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:34:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کا گراف اوپر چلا گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284580/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے مارچ کیلئے کنزیومر پرائس انڈیکس 7.3 فیصد ریکارڈ کی جو فروری کی 7 فیصد شرح کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اس اضافے کے برعکس ماہانہ بنیاد پر اضافہ کہیں زیادہ رہا جو کہ فروری کے 0.3 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 1.2 فیصد (یعنی 0.9 فیصد کا اضافہ) ریکارڈ کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہری علاقوں میں بنیادی افراطِ زر ماہانہ بنیادوں پر فروری کے 0.2 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 0.7 فیصد ہوگئی جو کہ 0.5 فیصد کا اضافہ ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.4 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 0.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، یعنی 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے الفاظ میں سی پی آئی میں گھریلو صارفین کے اصل اخراجات شامل ہوتے ہیں، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا شدید اتار چڑھاؤ بھی شامل ہے جبکہ کور انفلیشن طویل مدتی قیمتوں کے زیادہ مستحکم رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت جب آئی ایم ایف کے ایک موجودہ اسٹاف ممبر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنی دہائیوں پر محیط پالیسی ترک کردی جس میں پالیسی ریٹ کو بنیادی مہنگائی سے جوڑا جاتا تھا اور اس کے بجائے اسے سی پی آئی سے منسلک کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں 16 ستمبر 2019 کو شرح سود 13.25 فیصد تک بڑھا دی گئی جو ایک سخت گیر پالیسی تھی اور جس نے معاشی ترقی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد کووڈ 19 کے آغاز اور آئی ایم ایف کی جانب سے عالمی وبا سے نمٹنے تک اپنی سخت پیشگی شرائط کو معطل کرنے کے فیصلے کے باعث پالیسی ریٹ میں کمی لائی گئی۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی رہنمائی سی پی آئی سے ہو رہی ہے یا کور انفلیشن سے، اگرچہ اب یہ عمومی تاثر ابھر رہا ہے کہ اصل رہنمائی آئی ایم ایف فراہم کر رہا ہے، جس پر مانیٹری پالیسی کمیٹی درج ذیل وجہ سے عمل کرتی ہے: 2019 سے آئی ایم ایف نے اپنے تمام تینوں پروگرام قرضوں میں یہ واضح کر رکھا ہے کہ جب تک طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل نہیں کیا جائے گا، اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دوست ممالک اور کثیر الجہتی و دو طرفہ قرض دہندگان نے یہ اشارہ دیا ہے کہ قرضوں کی واپسی میں مہلت اور نئے قرضے صرف اسی صورت میں ملیں گے جب حکومت آئی ایم ایف کے فعال پروگرام کا حصہ رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی بی ایس کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا مارچ 2024-25 کے دوران جہاں سی پی آئی 27.06 فیصد کی بلند سطح پر تھی، وہیں 2024-25 کے اسی عرصے میں یہ ڈرامائی طور پر کم ہو کر 5.25 فیصد رہ گئی اور اس شرح پر مستحکم رہتے ہوئے 2025-26 میں 5.67 فیصد تک پہنچی۔ موجودہ سال کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے کی صورتحال مختلف رہی ہے، جولائی تا مارچ 2023-24 میں یہ 31.26 فیصد کی بلند سطح پر ریکارڈ کیا گیا تھا جو 2024-25 میں کم ہوکر 5.84 فیصد رہ گیا، لیکن موجودہ سال سی پی آئی میں اضافے کے برعکس ایس پی آئی  درحقیقت 2025-26 میں مزید کم ہو کر 3.49 فیصد پر آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہول سیل پرائس انڈیکس کے لیے بھی اسی طرح کی تصویر سامنے آئی ہے جو کہ 2023-24 میں 23.43 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 2.08 فیصد اور موجودہ سال میں محض 1.08 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم، کئی بڑے مینوفیکچرنگ سیکٹرز اس دعوے کو چیلنج کررہے ہیں۔ ان کا رونا یہ ہے کہ ان پٹ کاسٹ میں خاص طور پر علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اس قدر بھاری اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال آئی ایم ایف  کی جانب سے اٹھائے گئے ڈیٹا کی شفافیت اور درستی کے خدشات کی یاد دلاتی ہے۔ آئی ایم ایف نے نوٹ کیا تھا کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے لیے دستیاب بنیادی ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جبکہ حکومتی مالیاتی اعدادوشمار کی باریکیوں اور ان کی ساکھ/قابلِ بھروسہ ہونے کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال جو بھی ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے جاری تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں کو کسی حد تک کنٹرول کر رکھا ہے۔ اس کے لیے سخت ترین کفایت شعاری کی مہم  کے ذریعے بچت کر کے سبسڈی دی جا رہی ہے، ایک خصوصی آسٹرٹی فنڈ قائم کیا گیا ہے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام  کے فنڈز میں بھاری کٹوتی کی گئی ہے اور ان سبسڈیز کے لیے صوبوں سے مالی تعاون طلب کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم محدود مالیاتی گنجائش  کے باعث یہ واضح نہیں کہ حکومت کب تک ان سبسڈیز کے لیے فنڈز فراہم کرسکے گی اور سب سے اہم بات یہ کہ آئی ایم ایف  کب تک حکومت کو یہ سبسڈیز جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر یہ نوٹ کیا گیا کہ آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک، خاص طور پر سب سے زیادہ متاثرہ یا کمزور ممالک کی پالیسی مشوروں، کیپیسٹی ڈیولپمنٹ اور جہاں ضرورت ہو وہاں عالمی برادری کے تعاون سے مالی مدد کے ذریعے رہنمائی کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان، جاری پروگرام کے تحت پہلے ہی پالیسی مشوروں اور صلاحیت سازی  پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکام آئی ایم ایف کے عملے کو مزید مالی امداد فراہم کرنے یا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے تک سخت پیشگی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے مارچ کیلئے کنزیومر پرائس انڈیکس 7.3 فیصد ریکارڈ کی جو فروری کی 7 فیصد شرح کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ ہے۔ سالانہ بنیاد پر اس اضافے کے برعکس ماہانہ بنیاد پر اضافہ کہیں زیادہ رہا جو کہ فروری کے 0.3 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 1.2 فیصد (یعنی 0.9 فیصد کا اضافہ) ریکارڈ کیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>شہری علاقوں میں بنیادی افراطِ زر ماہانہ بنیادوں پر فروری کے 0.2 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 0.7 فیصد ہوگئی جو کہ 0.5 فیصد کا اضافہ ہے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.4 فیصد سے بڑھ کر مارچ میں 0.8 فیصد ریکارڈ کی گئی، یعنی 0.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>دوسرے الفاظ میں سی پی آئی میں گھریلو صارفین کے اصل اخراجات شامل ہوتے ہیں، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا شدید اتار چڑھاؤ بھی شامل ہے جبکہ کور انفلیشن طویل مدتی قیمتوں کے زیادہ مستحکم رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>2019 کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پروگرام کے تحت جب آئی ایم ایف کے ایک موجودہ اسٹاف ممبر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر مقرر کیا گیا تو مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنی دہائیوں پر محیط پالیسی ترک کردی جس میں پالیسی ریٹ کو بنیادی مہنگائی سے جوڑا جاتا تھا اور اس کے بجائے اسے سی پی آئی سے منسلک کر دیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں 16 ستمبر 2019 کو شرح سود 13.25 فیصد تک بڑھا دی گئی جو ایک سخت گیر پالیسی تھی اور جس نے معاشی ترقی کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا۔</p>
<p>اس کے بعد کووڈ 19 کے آغاز اور آئی ایم ایف کی جانب سے عالمی وبا سے نمٹنے تک اپنی سخت پیشگی شرائط کو معطل کرنے کے فیصلے کے باعث پالیسی ریٹ میں کمی لائی گئی۔ تاہم، موجودہ صورتحال میں یہ واضح نہیں ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کی رہنمائی سی پی آئی سے ہو رہی ہے یا کور انفلیشن سے، اگرچہ اب یہ عمومی تاثر ابھر رہا ہے کہ اصل رہنمائی آئی ایم ایف فراہم کر رہا ہے، جس پر مانیٹری پالیسی کمیٹی درج ذیل وجہ سے عمل کرتی ہے: 2019 سے آئی ایم ایف نے اپنے تمام تینوں پروگرام قرضوں میں یہ واضح کر رکھا ہے کہ جب تک طے شدہ شرائط پر سختی سے عمل نہیں کیا جائے گا، اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پائے گا۔ یہ پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ دوست ممالک اور کثیر الجہتی و دو طرفہ قرض دہندگان نے یہ اشارہ دیا ہے کہ قرضوں کی واپسی میں مہلت اور نئے قرضے صرف اسی صورت میں ملیں گے جب حکومت آئی ایم ایف کے فعال پروگرام کا حصہ رہے گی۔</p>
<p>پی بی ایس کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جولائی تا مارچ 2024-25 کے دوران جہاں سی پی آئی 27.06 فیصد کی بلند سطح پر تھی، وہیں 2024-25 کے اسی عرصے میں یہ ڈرامائی طور پر کم ہو کر 5.25 فیصد رہ گئی اور اس شرح پر مستحکم رہتے ہوئے 2025-26 میں 5.67 فیصد تک پہنچی۔ موجودہ سال کے لیے حساس قیمتوں کے اشاریے کی صورتحال مختلف رہی ہے، جولائی تا مارچ 2023-24 میں یہ 31.26 فیصد کی بلند سطح پر ریکارڈ کیا گیا تھا جو 2024-25 میں کم ہوکر 5.84 فیصد رہ گیا، لیکن موجودہ سال سی پی آئی میں اضافے کے برعکس ایس پی آئی  درحقیقت 2025-26 میں مزید کم ہو کر 3.49 فیصد پر آ گیا ہے۔</p>
<p>ہول سیل پرائس انڈیکس کے لیے بھی اسی طرح کی تصویر سامنے آئی ہے جو کہ 2023-24 میں 23.43 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں 2.08 فیصد اور موجودہ سال میں محض 1.08 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم، کئی بڑے مینوفیکچرنگ سیکٹرز اس دعوے کو چیلنج کررہے ہیں۔ ان کا رونا یہ ہے کہ ان پٹ کاسٹ میں خاص طور پر علاقائی حریفوں کے مقابلے میں اس قدر بھاری اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں۔</p>
<p>یہ صورتحال آئی ایم ایف  کی جانب سے اٹھائے گئے ڈیٹا کی شفافیت اور درستی کے خدشات کی یاد دلاتی ہے۔ آئی ایم ایف نے نوٹ کیا تھا کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے پر مشتمل شعبوں کے لیے دستیاب بنیادی ڈیٹا میں اہم خامیاں موجود ہیں جبکہ حکومتی مالیاتی اعدادوشمار کی باریکیوں اور ان کی ساکھ/قابلِ بھروسہ ہونے کے حوالے سے بھی مسائل پائے جاتے ہیں۔</p>
<p>صورتحال جو بھی ہو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے جاری تنازع کے نتیجے میں عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی سطح پر قیمتوں کو کسی حد تک کنٹرول کر رکھا ہے۔ اس کے لیے سخت ترین کفایت شعاری کی مہم  کے ذریعے بچت کر کے سبسڈی دی جا رہی ہے، ایک خصوصی آسٹرٹی فنڈ قائم کیا گیا ہے، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام  کے فنڈز میں بھاری کٹوتی کی گئی ہے اور ان سبسڈیز کے لیے صوبوں سے مالی تعاون طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم محدود مالیاتی گنجائش  کے باعث یہ واضح نہیں کہ حکومت کب تک ان سبسڈیز کے لیے فنڈز فراہم کرسکے گی اور سب سے اہم بات یہ کہ آئی ایم ایف  کب تک حکومت کو یہ سبسڈیز جاری رکھنے کی اجازت دے گا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر یہ نوٹ کیا گیا کہ آئی ایم ایف اپنے رکن ممالک، خاص طور پر سب سے زیادہ متاثرہ یا کمزور ممالک کی پالیسی مشوروں، کیپیسٹی ڈیولپمنٹ اور جہاں ضرورت ہو وہاں عالمی برادری کے تعاون سے مالی مدد کے ذریعے رہنمائی کررہا ہے۔</p>
<p>پاکستان، جاری پروگرام کے تحت پہلے ہی پالیسی مشوروں اور صلاحیت سازی  پر عمل پیرا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا حکام آئی ایم ایف کے عملے کو مزید مالی امداد فراہم کرنے یا مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے خاتمے تک سخت پیشگی شرائط کو مرحلہ وار ختم کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284580</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 12:44:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/031142419b60ce6.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/031142419b60ce6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
