<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:49:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش نے توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے نئے اقدامات متعارف کرادیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284579/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بنگلہ دیش نے توانائی کی کھپت کو کم کرنے کیلئے نئے اقدامات متعارف کرادیے ہیں جس کے تحت دفتری اوقات کار میں کمی اور سرکاری اخراجات میں کٹوتی شامل ہے، یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے ایندھن کی عالمی منڈیوں کو درہم برہم اور اس جنوبی ایشیائی ملک میں بجلی کی فراہمی کو شدید متاثر کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کابینہ سے منظور شدہ ان اقدامات کا مقصد بنگلہ دیش میں توانائی کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔ بنگلہ دیش ایندھن کی درآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے اور ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی کی غیر یقینی صورتحال سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے قواعد کے تحت سرکاری دفاتر صبح 9 سے شام 4 بجے تک کام کرینگے جب کہ بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز کو شام 6 بجے تک بند کرنا لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کٹوتی کا حکم بھی دیا ہے اور صنعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کا استعمال کم کریں، جس میں مثال کے طور پر غیر ضروری اور اضافی لائٹس کے استعمال پر پابندیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ تعلیم اتوار سے اسکولوں کے لیے ہدایات جاری کرے گی جن میں ٹائم ٹیبل میں تبدیلی اور آن لائن کلاسز پر منتقلی جیسے آپشنز زیرِ غور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام اسکولوں کے لیے الیکٹرک بسوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت بھی دیں گے اور اس عمل میں حصہ لینے والے اداروں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش نے ایندھن کی قلت پر قابو پانے کے لیے اس کی راشننگ (مخصوص مقدار میں فراہمی) شروع کردی ہے، اس کے علاوہ خوف و ہراس کی بنیاد پر خریداری ، ذخیرہ اندوزی اور لمبی قطاروں کے پیشِ نظر گاڑیوں کی فروخت کو محدود اور فیول اسٹیشنز کے اوقات کار کو کم کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خبردار کیا ہے کہ بڑی تعطیلات کے دوران کچھ نرمی کے باوجود سپلائی کی صورتحال بدستور سخت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کے سرکاری ادارے تقریباً 17.5 کروڑ کی آبادی کے لیے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں جبکہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر متبادل ذرائع بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت ایندھن اور ایل این جی کی درآمدات کی ادائیگی میں مدد کے لیے 2.5 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی مالی امداد بھی تلاش کررہی ہے کیونکہ توانائی کے بڑھتے  اخراجات نے زرمبادلہ  ذخائر پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بنگلہ دیش نے توانائی کی کھپت کو کم کرنے کیلئے نئے اقدامات متعارف کرادیے ہیں جس کے تحت دفتری اوقات کار میں کمی اور سرکاری اخراجات میں کٹوتی شامل ہے، یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جارہے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع نے ایندھن کی عالمی منڈیوں کو درہم برہم اور اس جنوبی ایشیائی ملک میں بجلی کی فراہمی کو شدید متاثر کردیا ہے۔</strong></p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو کابینہ سے منظور شدہ ان اقدامات کا مقصد بنگلہ دیش میں توانائی کی صورتحال کو مستحکم کرنا ہے۔ بنگلہ دیش ایندھن کی درآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے اور ایران کے ساتھ امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث پیدا ہونے والی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی کی غیر یقینی صورتحال سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔</p>
<p>نئے قواعد کے تحت سرکاری دفاتر صبح 9 سے شام 4 بجے تک کام کرینگے جب کہ بجلی کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مارکیٹوں اور شاپنگ سینٹرز کو شام 6 بجے تک بند کرنا لازمی ہوگا۔</p>
<p>حکومت نے غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کٹوتی کا حکم بھی دیا ہے اور صنعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بجلی کا استعمال کم کریں، جس میں مثال کے طور پر غیر ضروری اور اضافی لائٹس کے استعمال پر پابندیاں شامل ہیں۔</p>
<p>وزارتِ تعلیم اتوار سے اسکولوں کے لیے ہدایات جاری کرے گی جن میں ٹائم ٹیبل میں تبدیلی اور آن لائن کلاسز پر منتقلی جیسے آپشنز زیرِ غور ہیں۔</p>
<p>حکام اسکولوں کے لیے الیکٹرک بسوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت بھی دیں گے اور اس عمل میں حصہ لینے والے اداروں کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔</p>
<p>بنگلہ دیش نے ایندھن کی قلت پر قابو پانے کے لیے اس کی راشننگ (مخصوص مقدار میں فراہمی) شروع کردی ہے، اس کے علاوہ خوف و ہراس کی بنیاد پر خریداری ، ذخیرہ اندوزی اور لمبی قطاروں کے پیشِ نظر گاڑیوں کی فروخت کو محدود اور فیول اسٹیشنز کے اوقات کار کو کم کردیا گیا ہے۔</p>
<p>حکام نے خبردار کیا ہے کہ بڑی تعطیلات کے دوران کچھ نرمی کے باوجود سپلائی کی صورتحال بدستور سخت ہے۔</p>
<p>بنگلہ دیش کے سرکاری ادارے تقریباً 17.5 کروڑ کی آبادی کے لیے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں جبکہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر متبادل ذرائع بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>حکومت ایندھن اور ایل این جی کی درآمدات کی ادائیگی میں مدد کے لیے 2.5 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی مالی امداد بھی تلاش کررہی ہے کیونکہ توانائی کے بڑھتے  اخراجات نے زرمبادلہ  ذخائر پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284579</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 11:38:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/03113509acb344a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/03113509acb344a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
