<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج : فروخت کا دباؤ برقرار، انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284577/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو فروخت کا دباؤ غالب رہا جس کی بڑی وجوہات عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس تیزی سے گر کر 149,000 کی سطح سے نیچے آگیا جبکہ سیشن کے ابتدائی حصے میں 148,796.54 کی کم ترین سطح کو چھو لیا۔ تاہم یہ مندی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو سہارا دیا اور انڈیکس 152,103 کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہ پہر کے وقت مارکیٹ میں ایک بار پھر معمولی بہتری دیکھی گئی لیکن اختتامی لمحات میں فروخت کا دباؤ دوبارہ حاوی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,612.55 پوائنٹس یا 1.06 فیصد کمی کے ساتھ 150,398.71 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپٹل کے مطابق اگرچہ گزشتہ سیشن کی گھبراہٹ کے مقابلے میں گراوٹ کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے تاہم پٹرولیم قیمتوں میں ریکارڈ اضافے اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے امتزاج نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ایکسچینج جمعرات کو ایک بار پھر فروخت کے شدید دباؤ کی زد میں رہی، کیونکہ منفی عالمی اشاروں نے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت کو جنم دیا۔ اس صورتحال نے بینچ مارک انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا اور گزشتہ سیشن میں ہونے والے خاطر خواہ منافع کا ایک بڑا حصہ ختم کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,500.30 پوائنٹس (2.25 فیصد) کی کمی سے 152,011.26 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی حکومت نے جمعرات کو پٹرول کی قیمت میں 43 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ کردیا، جو کہ اب تک کا ریکارڈ اضافہ ہے، تاہم کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے تحفظ کے لیے تین ماہ کی عارضی سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ( کی قیمت میں 184.49 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران میں جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں عالمی سطح پر چین کے شیئرز میں جمعہ کو گراوٹ دیکھی گئی اور مقامی تعطیل سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل تیسرے ہفتے مندی کی جانب گامزن رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسٹر کی تعطیلات کے باعث ہانگ کانگ کی مارکیٹ بند رہی۔ چین کے بلیو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس میں لنچ بریک تک 0.6 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا۔ سال 2025 میں 23 فیصد اضافے کے بعد انڈیکس اس ہفتے 1.2 فیصد کمی کے ساتھ بند ہونے کی جانب مائل ہے، جس سے گراوٹ کا سلسلہ مسلسل تیسرے ہفتے بھی برقرار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین کی آن شور مارکیٹ پیر کو چنگ منگ کی تعطیل کے باعث بند رہے گی۔ بی او سی انٹرنیشنل کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو اب تک آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور تیل کی سپلائی چین کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے واضح تفصیلات کا انتظار ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے بعد 279.10 پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 352.27  ملین سے بڑھ کر 471.94 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.51 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 24.64 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنجویکو پی کے 97.21 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 28.34 ملین اور پاک ریفائنری 24.22 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جمعہ کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 132 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 279 میں کمی جبکہ 72 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/03182325f63c674.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/03182325f63c674.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو فروخت کا دباؤ غالب رہا جس کی بڑی وجوہات عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہیں، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1 فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>مارکیٹ کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس تیزی سے گر کر 149,000 کی سطح سے نیچے آگیا جبکہ سیشن کے ابتدائی حصے میں 148,796.54 کی کم ترین سطح کو چھو لیا۔ تاہم یہ مندی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو سہارا دیا اور انڈیکس 152,103 کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا۔</p>
<p>سہ پہر کے وقت مارکیٹ میں ایک بار پھر معمولی بہتری دیکھی گئی لیکن اختتامی لمحات میں فروخت کا دباؤ دوبارہ حاوی ہو گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,612.55 پوائنٹس یا 1.06 فیصد کمی کے ساتھ 150,398.71 پر بند ہوا۔</p>
<p>بہتری کیپٹل کے مطابق اگرچہ گزشتہ سیشن کی گھبراہٹ کے مقابلے میں گراوٹ کی رفتار کچھ سست ہوئی ہے تاہم پٹرولیم قیمتوں میں ریکارڈ اضافے اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے امتزاج نے سرمایہ کاروں کے اعتماد پر دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔</p>
<p>اسٹاک ایکسچینج جمعرات کو ایک بار پھر فروخت کے شدید دباؤ کی زد میں رہی، کیونکہ منفی عالمی اشاروں نے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت کو جنم دیا۔ اس صورتحال نے بینچ مارک انڈیکس کو تیزی سے نیچے دھکیل دیا اور گزشتہ سیشن میں ہونے والے خاطر خواہ منافع کا ایک بڑا حصہ ختم کردیا۔</p>
<p>جمعرات کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 3,500.30 پوائنٹس (2.25 فیصد) کی کمی سے 152,011.26 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>وفاقی حکومت نے جمعرات کو پٹرول کی قیمت میں 43 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں 55 فیصد اضافہ کردیا، جو کہ اب تک کا ریکارڈ اضافہ ہے، تاہم کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے تحفظ کے لیے تین ماہ کی عارضی سبسڈی برقرار رکھی گئی ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرول کی قیمت میں 137.23 روپے فی لٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ( کی قیمت میں 184.49 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ایران میں جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p>علاوہ ازیں عالمی سطح پر چین کے شیئرز میں جمعہ کو گراوٹ دیکھی گئی اور مقامی تعطیل سے قبل مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی وجہ سے مارکیٹ مسلسل تیسرے ہفتے مندی کی جانب گامزن رہی۔</p>
<p>ایسٹر کی تعطیلات کے باعث ہانگ کانگ کی مارکیٹ بند رہی۔ چین کے بلیو چپ سی ایس آئی 300 انڈیکس میں لنچ بریک تک 0.6 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا۔ سال 2025 میں 23 فیصد اضافے کے بعد انڈیکس اس ہفتے 1.2 فیصد کمی کے ساتھ بند ہونے کی جانب مائل ہے، جس سے گراوٹ کا سلسلہ مسلسل تیسرے ہفتے بھی برقرار رہا۔</p>
<p>چین کی آن شور مارکیٹ پیر کو چنگ منگ کی تعطیل کے باعث بند رہے گی۔ بی او سی انٹرنیشنل کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کو اب تک آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور تیل کی سپلائی چین کے بحران سے نمٹنے کے حوالے سے واضح تفصیلات کا انتظار ہے، جس کی وجہ سے خام تیل کی فراہمی سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔</p>
<p>دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے بعد 279.10 پر بند ہوئی۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 352.27  ملین سے بڑھ کر 471.94 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 19.51 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 24.64 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>سنجویکو پی کے 97.21 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 28.34 ملین اور پاک ریفائنری 24.22 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جمعہ کو مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 132 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 279 میں کمی جبکہ 72 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/03182325f63c674.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/03182325f63c674.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284577</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 18:37:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/03111512bc258b7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/03111512bc258b7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
