<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مجموعی قرض 81.4 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284575/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا مجموعی عوامی قرض 81.4 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں ملکی اور بیرونی دونوں اقسام کے قرض شامل ہیں۔ بیرونی قرض 21 کھرب روپے سے زائد ہو چکا ہے، جبکہ فی کس قرض تقریباً 325,000 روپے تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے ڈائریکٹر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی، جس کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر فی کس قرض کا بوجھ تقریباً 325,000 روپے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی مالیاتی قرض میں مسلسل اضافہ بنیادی طور پر حکومت کے اخراجات کے آمدنی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے، جس میں تیل کی درآمدات ایک بڑا سبب ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ حکومت اندرونی قرضوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرتی ہے، تاہم اس کے لیے اکثر مزید قرض لیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے بڑھتے ہوئے قومی قرض پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اراکینِ پارلیمنٹ کی گرانٹس میں کمی پر غور نہیں کر رہی۔ انہوں نے وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاشی پالیسیاں بنائی جائیں جو ملک کے مفاد میں ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں کو دیے گئے 65 ارب روپے کے قرض کی تفصیلات بھی طلب کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا مجموعی عوامی قرض 81.4 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس میں ملکی اور بیرونی دونوں اقسام کے قرض شامل ہیں۔ بیرونی قرض 21 کھرب روپے سے زائد ہو چکا ہے، جبکہ فی کس قرض تقریباً 325,000 روپے تک پہنچ گیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ بات وزارتِ خزانہ کے ڈیبٹ آفس کے ڈائریکٹر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی، جس کا اجلاس سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ مردم شماری کی بنیاد پر فی کس قرض کا بوجھ تقریباً 325,000 روپے ہے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ وفاقی مالیاتی قرض میں مسلسل اضافہ بنیادی طور پر حکومت کے اخراجات کے آمدنی سے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے، جس میں تیل کی درآمدات ایک بڑا سبب ہیں۔</p>
<p>بریفنگ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ حکومت اندرونی قرضوں کی باقاعدگی سے ادائیگی کرتی ہے، تاہم اس کے لیے اکثر مزید قرض لیا جاتا ہے۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے بڑھتے ہوئے قومی قرض پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اراکینِ پارلیمنٹ کی گرانٹس میں کمی پر غور نہیں کر رہی۔ انہوں نے وزارتِ خزانہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے معاشی پالیسیاں بنائی جائیں جو ملک کے مفاد میں ہوں۔</p>
<p>انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں کو دیے گئے 65 ارب روپے کے قرض کی تفصیلات بھی طلب کیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284575</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 10:55:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/03105346093ab9e.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/03105346093ab9e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
