<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا پیٹرولیم اور غذائی تجارت بڑھانے کا عزم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284574/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات اور غذائی اشیا جیسی زیادہ طلب والی اشیاء کی تجارت بڑھانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے، جس کا مقصد توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانا، قیمتوں کو مستحکم کرنا اور پاکستان کی معیشت کے لیے اہم شعبوں میں برآمدات کو فروغ دینا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور متحدہ عرب امارات کے وزیرِ بیرونی تجارت ثانی بن احمد الزیودی کے درمیان ہونے والی ایک ورچوئل ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں جاری تجارتی تعاون اور علاقائی اقتصادی اشتراک پر بات چیت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل، سیکرٹری تجارت جواد پال اور وزارتِ تجارت کے سینئر حکام بھی شریک تھے، جیسا کہ جمعہ کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا اور ہموار تجارتی سہولت کاری، لاجسٹک تعاون اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں پیٹرولیم مصنوعات، غذائی اشیاء اور دیگر زیادہ طلب والی اشیاء کے شعبوں پر خاص توجہ دی گئی، اور دونوں ممالک نے برآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت جام کمال خان نے متحدہ عرب امارات کی حکومت اور اس کے اداروں، بشمول دبئی اور ابوظہبی میں موجود مشنز اور نجی شعبے کے شراکت دار ڈی پی ورلڈ کی جانب سے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی چیلنجز اور کفایت شعاری کے اقدامات کے باوجود دونوں ممالک مضبوط تجارتی تعلقات برقرار رکھنے اور کاروبار میں سہولت کے لیے عملی حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثانی بن احمد الزیودی نے پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا اور گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے بہتر رابطہ کاری اور مرحلہ وار اقدامات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، اور اگلے ہفتے دونوں ممالک کی ٹیمیں باقی عملی اور لاجسٹک امور پر بات چیت کریں گی تاکہ دوطرفہ تجارت کے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات اور غذائی اشیا جیسی زیادہ طلب والی اشیاء کی تجارت بڑھانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے، جس کا مقصد توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانا، قیمتوں کو مستحکم کرنا اور پاکستان کی معیشت کے لیے اہم شعبوں میں برآمدات کو فروغ دینا ہے۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور متحدہ عرب امارات کے وزیرِ بیرونی تجارت ثانی بن احمد الزیودی کے درمیان ہونے والی ایک ورچوئل ملاقات کے دوران سامنے آئی، جس میں جاری تجارتی تعاون اور علاقائی اقتصادی اشتراک پر بات چیت کی گئی۔</p>
<p>اجلاس میں وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت رانا احسان افضل، سیکرٹری تجارت جواد پال اور وزارتِ تجارت کے سینئر حکام بھی شریک تھے، جیسا کہ جمعہ کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دیرینہ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو اجاگر کیا اور ہموار تجارتی سہولت کاری، لاجسٹک تعاون اور مارکیٹ تک بہتر رسائی کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>گفتگو میں پیٹرولیم مصنوعات، غذائی اشیاء اور دیگر زیادہ طلب والی اشیاء کے شعبوں پر خاص توجہ دی گئی، اور دونوں ممالک نے برآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>وزیر تجارت جام کمال خان نے متحدہ عرب امارات کی حکومت اور اس کے اداروں، بشمول دبئی اور ابوظہبی میں موجود مشنز اور نجی شعبے کے شراکت دار ڈی پی ورلڈ کی جانب سے تعاون پر اظہار تشکر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں معاشی چیلنجز اور کفایت شعاری کے اقدامات کے باوجود دونوں ممالک مضبوط تجارتی تعلقات برقرار رکھنے اور کاروبار میں سہولت کے لیے عملی حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔</p>
<p>ثانی بن احمد الزیودی نے پاکستان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا اور گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کو سراہتے ہوئے بہتر رابطہ کاری اور مرحلہ وار اقدامات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ ہو۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا، اور اگلے ہفتے دونوں ممالک کی ٹیمیں باقی عملی اور لاجسٹک امور پر بات چیت کریں گی تاکہ دوطرفہ تجارت کے مزید مواقع تلاش کیے جا سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284574</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 10:41:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0310371414ffad8.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0310371414ffad8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
