<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:24:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ کی امریکن بزنس فورم کے وفد سے ملاقات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284572/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو فنانس ڈویژن میں امریکن بزنس فورم (اے بی ایف) کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت فورم کے صدر عثمان خالد وحید نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی اور مالیاتی و بیرونی محاذ پر پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مثبت روابط کا بھی ذکر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی چیلنجز کے باوجود حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے اور پائیدار ترقی کے لیے ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے کے مسائل کے حل، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور اہم وزارتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے لیے اپنے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکن بزنس فورم کے اراکین نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اہم نکات میں ٹیکس پالیسی میں بہتری، تعمیل کے بوجھ میں کمی، برآمدات کے فروغ کے لیے مراعات، اور زرمبادلہ کے بہاؤ میں سہولت شامل تھی۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے مستقل اور قابلِ پیش گو پالیسیوں کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو میں مختلف شعبہ جات کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔ فارماسیوٹیکل سیکٹر کے نمائندوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے برآمدات کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے، اور یہ شعبہ تقریباً 1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3 سے 5 ارب ڈالر تک برآمدات لے جا سکتا ہے، جس کے لیے کسی مالی سبسڈی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہوں نے قواعد و ضوابط کی جدید کاری اور قیمتوں کے فیصلوں میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو فنانس ڈویژن میں امریکن بزنس فورم (اے بی ایف) کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت فورم کے صدر عثمان خالد وحید نے کی۔</strong></p>
<p>وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی اور مالیاتی و بیرونی محاذ پر پیش رفت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مثبت روابط کا بھی ذکر کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور علاقائی چیلنجز کے باوجود حکومت معاشی استحکام برقرار رکھنے اور پائیدار ترقی کے لیے ساختی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے توانائی کے شعبے کے مسائل کے حل، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور اہم وزارتوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے لیے اپنے زیر صدارت ایک اعلیٰ سطح کمیٹی کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>امریکن بزنس فورم کے اراکین نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ اہم نکات میں ٹیکس پالیسی میں بہتری، تعمیل کے بوجھ میں کمی، برآمدات کے فروغ کے لیے مراعات، اور زرمبادلہ کے بہاؤ میں سہولت شامل تھی۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے مستقل اور قابلِ پیش گو پالیسیوں کی ضرورت ہے۔</p>
<p>گفتگو میں مختلف شعبہ جات کے مسائل پر بھی بات چیت ہوئی۔ فارماسیوٹیکل سیکٹر کے نمائندوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات کے ذریعے برآمدات کو نمایاں طور پر بڑھایا جا سکتا ہے، اور یہ شعبہ تقریباً 1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 3 سے 5 ارب ڈالر تک برآمدات لے جا سکتا ہے، جس کے لیے کسی مالی سبسڈی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہوں نے قواعد و ضوابط کی جدید کاری اور قیمتوں کے فیصلوں میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284572</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 10:09:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/03100208ee0cc4b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/03100208ee0cc4b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
