<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:12:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:12:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے پام بونڈی کو امریکی اٹارنی جنرل کے عہدے سے برطرف کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284569/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کی۔ یہ فیصلہ ان کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد کیا گیا، خاص طور پر بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی فائلوں کے معاملے میں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بھی ناخوش تھے کہ پام بونڈی ان ناقدین اور مخالفین کے خلاف مقدمات چلانے میں تیزی نہیں دکھا رہیں جنہیں وہ قانونی کارروائی کا سامنا کرانا چاہتے تھے۔ اپنے دور میں پام بونڈی نے ٹرمپ کے ایجنڈے کا بھرپور دفاع کیا، تاہم ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے محکمہ انصاف کی روایتی خودمختاری کو کمزور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیفری ایپسٹین، جو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات میں ملوث تھا، کے کیس سے متعلق دستاویزات کے اجرا میں مبینہ تاخیر اور بدانتظامی نے پام بونڈی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس معاملے پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ ٹرمپ کے اتحادیوں اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تنازع اس وقت مزید حساس ہو گیا جب ٹرمپ کے ماضی میں ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق کئی دہائیاں قبل ختم ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، جس کی تصدیق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کی۔ یہ فیصلہ ان کی کارکردگی پر بڑھتی ہوئی مایوسی کے بعد کیا گیا، خاص طور پر بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین سے متعلق تفتیشی فائلوں کے معاملے میں۔</strong></p>
<p>رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بھی ناخوش تھے کہ پام بونڈی ان ناقدین اور مخالفین کے خلاف مقدمات چلانے میں تیزی نہیں دکھا رہیں جنہیں وہ قانونی کارروائی کا سامنا کرانا چاہتے تھے۔ اپنے دور میں پام بونڈی نے ٹرمپ کے ایجنڈے کا بھرپور دفاع کیا، تاہم ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے محکمہ انصاف کی روایتی خودمختاری کو کمزور کیا۔</p>
<p>جیفری ایپسٹین، جو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ کے الزامات میں ملوث تھا، کے کیس سے متعلق دستاویزات کے اجرا میں مبینہ تاخیر اور بدانتظامی نے پام بونڈی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس معاملے پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ ٹرمپ کے اتحادیوں اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کی جانب سے بھی سخت تنقید کی گئی۔</p>
<p>یہ تنازع اس وقت مزید حساس ہو گیا جب ٹرمپ کے ماضی میں ایپسٹین کے ساتھ تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے گئے، اگرچہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق کئی دہائیاں قبل ختم ہو چکا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284569</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 09:26:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/030924201f26a64.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/030924201f26a64.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
