<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف کو برطرف کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284568/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ میں محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے اعلیٰ ترین عسکری عہدوں پر بڑی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ رینڈی جارج فوری طور پر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، حالانکہ ان کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال سے زائد وقت باقی تھا۔ بیان میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا گیا، تاہم برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جو ماضی میں ایک ٹی وی میزبان بھی رہ چکے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے فوجی قیادت میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی جرنیلوں اور ایڈمرلز کو بھی عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکی افواج کی تعیناتی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کے ہزاروں اہلکار، خصوصاً ایلیٹ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے دستے، خطے میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جو ممکنہ زمینی کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق جنرل کرسٹوفر لا نیو عارضی طور پر چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ رینڈی جارج، جو عراق اور افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں، 2023 میں اس عہدے پر فائز ہوئے تھے اور انہیں فوجی قیادت میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق پینٹاگون میں حالیہ تبدیلیاں امریکی فوجی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ میں محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے اعلیٰ ترین عسکری عہدوں پر بڑی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>پینٹاگون نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ رینڈی جارج فوری طور پر اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں، حالانکہ ان کی مدت ملازمت میں ابھی ایک سال سے زائد وقت باقی تھا۔ بیان میں ان کی دہائیوں پر محیط خدمات کو سراہا گیا، تاہم برطرفی کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی۔</p>
<p>وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ، جو ماضی میں ایک ٹی وی میزبان بھی رہ چکے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قومی سلامتی پالیسی کو نافذ کرنے کے لیے تیزی سے فوجی قیادت میں تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی جرنیلوں اور ایڈمرلز کو بھی عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔</p>
<p>ادھر مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث امریکی افواج کی تعیناتی میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ امریکی فوج کے ہزاروں اہلکار، خصوصاً ایلیٹ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے دستے، خطے میں پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جو ممکنہ زمینی کارروائیوں کا عندیہ دیتے ہیں۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق جنرل کرسٹوفر لا نیو عارضی طور پر چیف آف اسٹاف کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ رینڈی جارج، جو عراق اور افغانستان میں خدمات انجام دے چکے ہیں، 2023 میں اس عہدے پر فائز ہوئے تھے اور انہیں فوجی قیادت میں ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا تھا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق پینٹاگون میں حالیہ تبدیلیاں امریکی فوجی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284568</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 09:10:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/03090719a81cee4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/03090719a81cee4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
