<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بندرگاہوں پر رش : پھنسے ہوئے کنٹینرز نکالنے کے لیے 30 روزہ پلان بنانے کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284556/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے رش کو کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے  جامع 30 روزہ ایکشن پلان کی ہدایت جاری کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پھنسے ہوئے کنٹینرز اور نیلامی کے قابل کارگو کی منتقلی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پورٹ حکام کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر بندرگاہوں پر موجود اضافی سامان اور کنٹینرز کو ٹھکانے لگانے کے عمل کو حتمی شکل دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان اشیاء کو بندرگاہ کے اندرونی حصوں (آن ڈاک ایریاز) سے نکال کر فوری طور پر مختص کردہ آف ڈاک سہولیات میں منتقل کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بندرگاہوں کے آپریشنز ہر صورت بلا تعطل جاری رہنے چاہئیں، تاکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو یا لاوارث کنٹینرز کی وجہ سے مقامی تجارت کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بندرگاہوں کی بہتر کارکردگی اور علاقائی صورتحال کے باعث ٹرانس شپمنٹ کارگو کے حجم میں اضافے کا تذکرہ کرتے ہوئے جنید انور چوہدری نے واضح تجارتی شرائط پر مبنی  ایسا طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا جس کے تحت اس کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر منتقل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کے لیے ایک جدید اور دور اندیش فریم ورک کی ضرورت ہے، تاکہ خطے میں ابھرنے والے نئے اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کنٹینرز کو اسکائی میڈیا ٹرمینل، الحمد ٹرمینل اور ناردرن بائی پاس جیسے مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کو ہدایت کی کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز سے منتقلی کے تفصیلی منصوبے حاصل کر کے ہفتے کے اختتام تک کسٹمز اور ذیلی کمیٹی کو فراہم کرے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسٹمز ایک ماہ کے اندر نیلامی کے عمل کو مکمل کرے گا جبکہ ٹرمینل آپریٹرز اسی مدت میں فالتو سامان اور غیر استعمال شدہ آلات کو تلف کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے لاجسٹکس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے بندرگاہوں پر بڑھتے ہوئے رش کو کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے  جامع 30 روزہ ایکشن پلان کی ہدایت جاری کر دی ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو پھنسے ہوئے کنٹینرز اور نیلامی کے قابل کارگو کی منتقلی سے متعلق ذیلی کمیٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے پورٹ حکام کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر بندرگاہوں پر موجود اضافی سامان اور کنٹینرز کو ٹھکانے لگانے کے عمل کو حتمی شکل دیں۔</p>
<p>سرکاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ان اشیاء کو بندرگاہ کے اندرونی حصوں (آن ڈاک ایریاز) سے نکال کر فوری طور پر مختص کردہ آف ڈاک سہولیات میں منتقل کریں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بندرگاہوں کے آپریشنز ہر صورت بلا تعطل جاری رہنے چاہئیں، تاکہ ٹرانس شپمنٹ کارگو یا لاوارث کنٹینرز کی وجہ سے مقامی تجارت کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>بندرگاہوں کی بہتر کارکردگی اور علاقائی صورتحال کے باعث ٹرانس شپمنٹ کارگو کے حجم میں اضافے کا تذکرہ کرتے ہوئے جنید انور چوہدری نے واضح تجارتی شرائط پر مبنی  ایسا طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا جس کے تحت اس کارگو کو آف ڈاک ٹرمینلز پر منتقل کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو اپنی بندرگاہوں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے اور اسے وسعت دینے کے لیے ایک جدید اور دور اندیش فریم ورک کی ضرورت ہے، تاکہ خطے میں ابھرنے والے نئے اقتصادی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔</p>
<p>بریفنگ کے دوران حکام نے بتایا کہ پھنسے ہوئے کنٹینرز کو اسکائی میڈیا ٹرمینل، الحمد ٹرمینل اور ناردرن بائی پاس جیسے مقامات پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کو ہدایت کی کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز سے منتقلی کے تفصیلی منصوبے حاصل کر کے ہفتے کے اختتام تک کسٹمز اور ذیلی کمیٹی کو فراہم کرے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ کسٹمز ایک ماہ کے اندر نیلامی کے عمل کو مکمل کرے گا جبکہ ٹرمینل آپریٹرز اسی مدت میں فالتو سامان اور غیر استعمال شدہ آلات کو تلف کریں گے۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے لاجسٹکس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284556</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 17:09:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/02161653b3704f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/02161653b3704f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
