<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلسطینیوں کیخلاف سزائے موت کا اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی شدید مذمت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284554/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے اپنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایسے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی جو مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے اور جس کا عملی اطلاق فلسطینیوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جومقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بلکہ ان کے وجود تک سے انکار کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفترِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے امتیازی اور جارحانہ اقدامات ایک ایسے نظام کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ہے جب کہ یہ طرز عمل فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق اور ان کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے ذریعے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے کیا گیا ایک بڑا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف ان اسرائیلیوں پر لاگو ہوگا جو ایسے قتل کے مرتکب ہوں گے جن کے حملوں کا مقصد اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے لیے تو سزائے موت کا باعث بنے گا لیکن اسی طرح کے جرائم کرنے والے یہودی اسرائیلیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس قانون سازی نے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا ہے جو پہلے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں اپنی جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ قانون سازی خصوصاً اس کے فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی اطلاق کے تناظر میں ایک خطرناک شدت اختیار کرنے کے مترادف ہے، ایسے اقدامات سے تناؤ میں مزید اضافہ اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قابل اعتماد اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے خطرات سے خبردار کیا جن میں تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، فاقہ کشی اور بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کے ایک تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسلی امتیاز پر مبنی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی اپنی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض طاقت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو زمینی صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے استحکام کو برقرار رکھنے اور مزید بگاڑ کو روکنے کےلئے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزرائے خارجہ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ قابض قوت (اسرائیل) کی جانب سے عائد کردہ ان اقدامات سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے جو زمینی سطح پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور استحکام برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے اپنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایسے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی جو مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے اور جس کا عملی اطلاق فلسطینیوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جومقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بلکہ ان کے وجود تک سے انکار کرتا ہے۔</p>
<p>دفترِ خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے امتیازی اور جارحانہ اقدامات ایک ایسے نظام کو مضبوط کر رہے ہیں جو نسل پرستی پر مبنی ہے جب کہ یہ طرز عمل فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق اور ان کے وجود سے انکار کے مترادف ہے۔</p>
<p>اس اقدام کے ذریعے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے کیا گیا ایک بڑا وعدہ پورا کردیا گیا ہے۔</p>
<p>ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف ان اسرائیلیوں پر لاگو ہوگا جو ایسے قتل کے مرتکب ہوں گے جن کے حملوں کا مقصد اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے لیے تو سزائے موت کا باعث بنے گا لیکن اسی طرح کے جرائم کرنے والے یہودی اسرائیلیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔</p>
<p>اس قانون سازی نے اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر تنقید کو جنم دیا ہے جو پہلے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں اپنی جنگ کی وجہ سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ قانون سازی خصوصاً اس کے فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی اطلاق کے تناظر میں ایک خطرناک شدت اختیار کرنے کے مترادف ہے، ایسے اقدامات سے تناؤ میں مزید اضافہ اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قابل اعتماد اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے خطرات سے خبردار کیا جن میں تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، فاقہ کشی اور بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کے ایک تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسلی امتیاز پر مبنی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی اپنی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض طاقت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو زمینی صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے استحکام کو برقرار رکھنے اور مزید بگاڑ کو روکنے کےلئے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>وزرائے خارجہ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ قابض قوت (اسرائیل) کی جانب سے عائد کردہ ان اقدامات سے گریز کرنا انتہائی ضروری ہے جو زمینی سطح پر کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور استحکام برقرار رکھنے اور صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284554</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 17:27:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/021514023054621.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/021514023054621.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
