<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:29:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:29:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں تیزی، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے طلب متاثر ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284544/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مارچ 2026 میں فروخت میں زبردست بحالی ریکارڈ کی۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافے کے ساتھ 1.44 ملین ٹن تک پہنچ گئی جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 1.22 ملین ٹن تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہانہ بنیاد پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ اضافہ بہتر ہوتی ہوئی معاشی سرگرمیوں، مہنگائی میں کمی اور اسمگلنگ پر بہتر کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاک-ایران تنازع کی وجہ سے پٹرولیم  قیمتوں میں اضافے کے باوجود فروخت مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی فروخت 12.4 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 11.8 ملین ٹن کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنوعات کے لحاظ سے ہائی اسپیڈ ڈیزل  اور پٹرول کی فروخت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ڈیزل کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پٹرول کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اور فروری کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرنس آئل کی فروخت میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی  جس میں سالانہ بنیادوں پر 62 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 98 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ میں پٹرول کی اوسط قیمت فروری کے 255.67 روپے کے مقابلے میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 310.17 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافہ ہوا جو فروری کی اوسط قیمت 272.04 روپے سے بڑھ کر 324.86 روپے فی لٹر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں میں اس قدر بھاری اضافے کے باوجود تیل کی مجموعی فروخت میں اضافہ ہوتا ہوا دکھائی دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنیوں کے لحاظ سے بات کی جائے تو پاکستان اسٹیٹ آئل  نے مارچ میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی برتری برقرار رکھی جب کہ اٹک پٹرولیم لمیٹڈ  کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وافی انرجی نے مارچ میں 103,000 ٹن کی فروخت ریکارڈ کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب حیسکول کی فروخت 45,000 ٹن رہی جس میں سالانہ بنیادوں پر 9 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے مالی سال 2026  کے لیے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 1.47 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے پہلے 9 ماہ  کے دوران 1.13 ٹریلین روپے یعنی 77 فیصد ہدف پہلے ہی حاصل کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ہمیں اپریل میں تیل کی فروخت میں کمی کی توقع ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھی ہوئی قیمتیں طلب کو کم کرسکتی ہیں۔ مزید برآں حکومت ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرسکتی ہے کیونکہ پٹرول پر پرائس ڈیفرینشل کلیم (پی ڈی سی) 96 روپے فی لٹر اور ڈیزل پر 204 روپے فی لٹر تک پہنچ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) نے مارچ 2026 میں فروخت میں زبردست بحالی ریکارڈ کی۔ رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی فروخت سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافے کے ساتھ 1.44 ملین ٹن تک پہنچ گئی جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 1.22 ملین ٹن تھی۔</strong></p>
<p>ماہانہ بنیاد پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی فروخت میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ اضافہ بہتر ہوتی ہوئی معاشی سرگرمیوں، مہنگائی میں کمی اور اسمگلنگ پر بہتر کنٹرول کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ پاک-ایران تنازع کی وجہ سے پٹرولیم  قیمتوں میں اضافے کے باوجود فروخت مستحکم رہی۔</p>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ کے دوران آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مجموعی فروخت 12.4 ملین ٹن رہی جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 11.8 ملین ٹن کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>مصنوعات کے لحاظ سے ہائی اسپیڈ ڈیزل  اور پٹرول کی فروخت میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ڈیزل کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 21 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ پٹرول کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد اور فروری کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>فرنس آئل کی فروخت میں بھی نمایاں بحالی دیکھی گئی  جس میں سالانہ بنیادوں پر 62 فیصد اور ماہانہ بنیادوں پر 98 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔</p>
<p>مارچ میں پٹرول کی اوسط قیمت فروری کے 255.67 روپے کے مقابلے میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 310.17 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافہ ہوا جو فروری کی اوسط قیمت 272.04 روپے سے بڑھ کر 324.86 روپے فی لٹر رہی۔</p>
<p>قیمتوں میں اس قدر بھاری اضافے کے باوجود تیل کی مجموعی فروخت میں اضافہ ہوتا ہوا دکھائی دیا۔</p>
<p>کمپنیوں کے لحاظ سے بات کی جائے تو پاکستان اسٹیٹ آئل  نے مارچ میں سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد اضافے کے ساتھ اپنی برتری برقرار رکھی جب کہ اٹک پٹرولیم لمیٹڈ  کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>وافی انرجی نے مارچ میں 103,000 ٹن کی فروخت ریکارڈ کی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب حیسکول کی فروخت 45,000 ٹن رہی جس میں سالانہ بنیادوں پر 9 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے مالی سال 2026  کے لیے پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کی مد میں 1.47 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس میں سے پہلے 9 ماہ  کے دوران 1.13 ٹریلین روپے یعنی 77 فیصد ہدف پہلے ہی حاصل کیا جاچکا ہے۔</p>
<p>رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ہمیں اپریل میں تیل کی فروخت میں کمی کی توقع ہے کیونکہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھی ہوئی قیمتیں طلب کو کم کرسکتی ہیں۔ مزید برآں حکومت ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرسکتی ہے کیونکہ پٹرول پر پرائس ڈیفرینشل کلیم (پی ڈی سی) 96 روپے فی لٹر اور ڈیزل پر 204 روپے فی لٹر تک پہنچ گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284544</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 13:03:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0212532996b3002.webp" type="image/webp" medium="image" height="421" width="750">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0212532996b3002.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
