<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضائع شدہ خوراک کی قیمت اور اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284541/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع کا حجم حیران کن حد تک بڑا ہے، اس کے باوجود یہ ہمارے دور کی ان ناکامیوں میں سے ایک ہے جس کا مقابلہ کرنے کی کوششیں اب تک سب سے کم مؤثر رہی ہیں۔ اس سال 30 مارچ کو زیرو ویسٹ کا عالمی دن منایا گیا جس نے اس پہلو پر توجہ مرکوز کی جسے ہم روزانہ کوڑے دان کی نذر کردیتے ہیں، یعنی وہ کھانے کے قابل خوراک جو اپنے مقصد (انسانی ضرورت) کو کبھی پورا نہیں کر پاتی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی)  کے مطابق دنیا بھر میں قابلِ استعمال خوراک کی بہت بڑی مقدار جو سالانہ ایک ارب ٹن سے زیادہ ہے گھروں، ریسٹورنٹس اور ریٹیل چینز میں ضائع ہورہی ہے۔ یہ ضیاع غذائی تحفظ کو ختم کررہا ہے، ماحولیاتی بگاڑ میں تیزی لا رہا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہماری مزاحمتی قوت کو کمزور کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بڑے پیمانے پر ہونے والے ضیاع کا معاشی نقصان کھربوں تک جا پہنچتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑا نقصان اس نظام میں ہے جو وافر مقدار میں پیداوار تو کرتا ہے لیکن اسے بے دریغ لٹانے کے لیے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ نظام ہماری روزمرہ کی عادات اور انتخاب سے ہی تشکیل پاتا اور برقرار رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ اس دن کے لیے یو این ای پی  کی مہم کے خلاصے زیرو ویسٹ کا آغاز آپ کی پلیٹ سے ہوتا ہے میں اجاگر کیا گیا ہے، یہ بحران جتنا نظامی نااہلیوں  کے بارے میں ہے، اتنا ہی انفرادی رویوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ بات اس وقت مزید واضح ہوجاتی ہے جب ان اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے, سالانہ فی کس تقریباً 132 کلوگرام خوراک ضائع کردی جاتی ہے جس میں سے گھرانے تقریباً 79 کلوگرام کے ذمہ دار ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ضیاع ہماری روزمرہ کی کھپت میں کتنی گہرائی تک جڑ پکڑ چکا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ بات یہ ہے کہ یہ ایک بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اندازے کے مطابق خوراک کا نقصان اور ضیاع عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں 8 سے 10 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے جبکہ اور گینک فضلے کے سڑنے کے عمل سے خارج ہونے والی میتھین گیس کا حصہ 14 فیصد تک ہے۔ میتھین، جو قلیل مدت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ طاقتور اثر رکھتی ہے، تیزی سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ کررہی ہے، یہ نہ صرف غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ موسمیاتی نظام پر بھی شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بات کی جائے تو وزارتِ خوراک کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک اپنی سالانہ غذائی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ ضائع کر دیتا ہے۔ یہ ضیاع 2 کروڑ ٹن خوراک پر مشتمل ہے جس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں یو این ای پی کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2024 نے پاکستان میں سالانہ فی کس خوراک کا ضیاع 212 کلوگرام بتایا ہے جو عالمی سطح پر بلند ترین شرح میں سے ایک ہے۔ ماحولیاتی وسائل پر بوجھ ڈالنے کے ساتھ یہ ضیاع ملک میں غذائی قلت کے بحران کو بھی سنگین بنارہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں غذائی قلت 2004-06 کے 17 فیصد سے بڑھ کر 2021-23 میں 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک واضح اور تکلیف دہ تضاد ہے، ایک طرف کھانے کے قابل خوراک کچرے میں پھینکی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف لاکھوں لوگ غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال خوراک کے ضیاع میں کمی اور غذائی تحفظ کے درمیان مضبوط ربط پیدا کرنے کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پاکستان اور دنیا کو جس چیز کی فوری ضرورت ہے وہ خوراک کی خریداری، تیاری اور اس کی قدر و قیمت کے حوالے سے شعوری تبدیلیاں لانا ہے۔ جیسا کہ یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے زور دیا ہے، اس تبدیلی کو عوامی آگاہی کی ایسی مستقل مہمات کے ذریعے فعال بنانا چاہیے جو صارفین کے رویوں کو نئے سانچے میں ڈھال سکیں۔ اس کے لیے تعلیمی نصاب میں غذائی خواندگی کو شامل کرنا اور ریٹیلرز و ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ) سیکٹر پر زور دینا ضروری ہے کہ وہ اسٹاک کے بہتر انتظام، میعاد ختم ہونے کے قریب اشیاء کی قیمتوں میں کمی  اور زیرو ویسٹ ڈائننگ ماڈلز کے ذریعے ضیاع کو کم سے کم کریں۔ ان ماڈلز میں کچن تمام اجزاء کا مکمل استعمال کرتے ہیں، بچا ہوا کھانا کم سے کم کرتے ہیں اور ناگزیر فضلے کو کھاد بنا کر دوبارہ خوراک کے نظام کا حصہ بناتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تاریخوں کے لیبل لگانے کے مبہم طریقوں میں اصلاح لانا بھی انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ’بیسٹ بی فور کی تاریخوں کے بارے میں پائی جانے والی عام غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ یہ تاریخیں اکثر خوراک کے معیار کی نشاندہی کرتی ہیں نہ کہ اس کی حفاظت کی، لیکن عام طور پر انہیں استعمال کی آخری ڈیڈ لائن سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے گھرانے وہ کھانا بھی پھینک دیتے ہیں جو مکمل طور پر کھانے کے قابل ہوتا ہے اور یوں بڑے پیمانے پر ضیاع میں اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر پالیسی کی سطح پر حکومتیں خوراک کے ضیاع کی روک تھام کو اپنی موسمیاتی حکمتِ عملیوں، حیاتیاتی تنوع کے ایکشن پلانز اور زراعت، شہری ترقی اور سرکلر اکانومیز کے قومی ڈھانچوں میں شامل کر کے اس مشن کو مزید مضبوط بناسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گردشی نظام  کو فروغ دینے کا مطلب ایسے غذائی نظام وضع کرنا ہے جہاں وسائل کا دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ ممکن ہو اور اوگینک فضلے سے کھاد بنانے سے لے کر مٹی کی زرخیزی کی بحالی کے لیے غذائی اجزاء کے حصول تک جبکہ سپلائی چینز میں نگرانی، قوانین کے نفاذ اور ایسی اختراعات کی حمایت کو یقینی بنانا جو ضیاع کو کم سے کم کرنے پر مرکوز ہوں۔ اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں 2.3 ارب افراد کو درمیانی سے شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، ایسے میں خوراک کے ضیاع میں کمی اب ایک اخلاقی فریضہ بن چکا ہے۔ جو خوراک ہم پیدا کرتے ہیں، اسے ضائع کرنے کے بجائے زندگیوں کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں خوراک کے ضیاع کا حجم حیران کن حد تک بڑا ہے، اس کے باوجود یہ ہمارے دور کی ان ناکامیوں میں سے ایک ہے جس کا مقابلہ کرنے کی کوششیں اب تک سب سے کم مؤثر رہی ہیں۔ اس سال 30 مارچ کو زیرو ویسٹ کا عالمی دن منایا گیا جس نے اس پہلو پر توجہ مرکوز کی جسے ہم روزانہ کوڑے دان کی نذر کردیتے ہیں، یعنی وہ کھانے کے قابل خوراک جو اپنے مقصد (انسانی ضرورت) کو کبھی پورا نہیں کر پاتی۔</strong></p>
<p>اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی)  کے مطابق دنیا بھر میں قابلِ استعمال خوراک کی بہت بڑی مقدار جو سالانہ ایک ارب ٹن سے زیادہ ہے گھروں، ریسٹورنٹس اور ریٹیل چینز میں ضائع ہورہی ہے۔ یہ ضیاع غذائی تحفظ کو ختم کررہا ہے، ماحولیاتی بگاڑ میں تیزی لا رہا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ہماری مزاحمتی قوت کو کمزور کررہا ہے۔</p>
<p>اس بڑے پیمانے پر ہونے والے ضیاع کا معاشی نقصان کھربوں تک جا پہنچتا ہے، لیکن اس سے بھی بڑا نقصان اس نظام میں ہے جو وافر مقدار میں پیداوار تو کرتا ہے لیکن اسے بے دریغ لٹانے کے لیے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یہ نظام ہماری روزمرہ کی عادات اور انتخاب سے ہی تشکیل پاتا اور برقرار رہتا ہے۔</p>
<p>جیسا کہ اس دن کے لیے یو این ای پی  کی مہم کے خلاصے زیرو ویسٹ کا آغاز آپ کی پلیٹ سے ہوتا ہے میں اجاگر کیا گیا ہے، یہ بحران جتنا نظامی نااہلیوں  کے بارے میں ہے، اتنا ہی انفرادی رویوں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ یہ بات اس وقت مزید واضح ہوجاتی ہے جب ان اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے, سالانہ فی کس تقریباً 132 کلوگرام خوراک ضائع کردی جاتی ہے جس میں سے گھرانے تقریباً 79 کلوگرام کے ذمہ دار ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ضیاع ہماری روزمرہ کی کھپت میں کتنی گہرائی تک جڑ پکڑ چکا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان دہ بات یہ ہے کہ یہ ایک بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحران کو جنم دے رہا ہے۔</p>
<p>ایک اندازے کے مطابق خوراک کا نقصان اور ضیاع عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے مجموعی اخراج میں 8 سے 10 فیصد تک حصہ ڈالتا ہے جبکہ اور گینک فضلے کے سڑنے کے عمل سے خارج ہونے والی میتھین گیس کا حصہ 14 فیصد تک ہے۔ میتھین، جو قلیل مدت میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ طاقتور اثر رکھتی ہے، تیزی سے گلوبل وارمنگ میں اضافہ کررہی ہے، یہ نہ صرف غذائی تحفظ کو نقصان پہنچا رہی ہے بلکہ موسمیاتی نظام پر بھی شدید دباؤ کا باعث بن رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی بات کی جائے تو وزارتِ خوراک کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک اپنی سالانہ غذائی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ ضائع کر دیتا ہے۔ یہ ضیاع 2 کروڑ ٹن خوراک پر مشتمل ہے جس کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر بنتی ہے۔</p>
<p>مزید برآں یو این ای پی کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2024 نے پاکستان میں سالانہ فی کس خوراک کا ضیاع 212 کلوگرام بتایا ہے جو عالمی سطح پر بلند ترین شرح میں سے ایک ہے۔ ماحولیاتی وسائل پر بوجھ ڈالنے کے ساتھ یہ ضیاع ملک میں غذائی قلت کے بحران کو بھی سنگین بنارہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں غذائی قلت 2004-06 کے 17 فیصد سے بڑھ کر 2021-23 میں 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ ایک واضح اور تکلیف دہ تضاد ہے، ایک طرف کھانے کے قابل خوراک کچرے میں پھینکی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف لاکھوں لوگ غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال خوراک کے ضیاع میں کمی اور غذائی تحفظ کے درمیان مضبوط ربط پیدا کرنے کی اشد ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>لہٰذا پاکستان اور دنیا کو جس چیز کی فوری ضرورت ہے وہ خوراک کی خریداری، تیاری اور اس کی قدر و قیمت کے حوالے سے شعوری تبدیلیاں لانا ہے۔ جیسا کہ یو این ای پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے زور دیا ہے، اس تبدیلی کو عوامی آگاہی کی ایسی مستقل مہمات کے ذریعے فعال بنانا چاہیے جو صارفین کے رویوں کو نئے سانچے میں ڈھال سکیں۔ اس کے لیے تعلیمی نصاب میں غذائی خواندگی کو شامل کرنا اور ریٹیلرز و ہاسپیٹلٹی (ہوٹلنگ) سیکٹر پر زور دینا ضروری ہے کہ وہ اسٹاک کے بہتر انتظام، میعاد ختم ہونے کے قریب اشیاء کی قیمتوں میں کمی  اور زیرو ویسٹ ڈائننگ ماڈلز کے ذریعے ضیاع کو کم سے کم کریں۔ ان ماڈلز میں کچن تمام اجزاء کا مکمل استعمال کرتے ہیں، بچا ہوا کھانا کم سے کم کرتے ہیں اور ناگزیر فضلے کو کھاد بنا کر دوبارہ خوراک کے نظام کا حصہ بناتے ہیں۔</p>
<p>اسی طرح تاریخوں کے لیبل لگانے کے مبہم طریقوں میں اصلاح لانا بھی انتہائی اہم ہے، خاص طور پر ’بیسٹ بی فور کی تاریخوں کے بارے میں پائی جانے والی عام غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ یہ تاریخیں اکثر خوراک کے معیار کی نشاندہی کرتی ہیں نہ کہ اس کی حفاظت کی، لیکن عام طور پر انہیں استعمال کی آخری ڈیڈ لائن سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ سے گھرانے وہ کھانا بھی پھینک دیتے ہیں جو مکمل طور پر کھانے کے قابل ہوتا ہے اور یوں بڑے پیمانے پر ضیاع میں اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>وسیع تر پالیسی کی سطح پر حکومتیں خوراک کے ضیاع کی روک تھام کو اپنی موسمیاتی حکمتِ عملیوں، حیاتیاتی تنوع کے ایکشن پلانز اور زراعت، شہری ترقی اور سرکلر اکانومیز کے قومی ڈھانچوں میں شامل کر کے اس مشن کو مزید مضبوط بناسکتی ہیں۔</p>
<p>گردشی نظام  کو فروغ دینے کا مطلب ایسے غذائی نظام وضع کرنا ہے جہاں وسائل کا دوبارہ استعمال اور ری سائیکلنگ ممکن ہو اور اوگینک فضلے سے کھاد بنانے سے لے کر مٹی کی زرخیزی کی بحالی کے لیے غذائی اجزاء کے حصول تک جبکہ سپلائی چینز میں نگرانی، قوانین کے نفاذ اور ایسی اختراعات کی حمایت کو یقینی بنانا جو ضیاع کو کم سے کم کرنے پر مرکوز ہوں۔ اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2025 میں 2.3 ارب افراد کو درمیانی سے شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، ایسے میں خوراک کے ضیاع میں کمی اب ایک اخلاقی فریضہ بن چکا ہے۔ جو خوراک ہم پیدا کرتے ہیں، اسے ضائع کرنے کے بجائے زندگیوں کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284541</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 14:50:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0212015879948fe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0212015879948fe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
