<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے برطانیہ کو فری ٹریڈ ایگریمنٹ کی تجویز دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284536/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کی طرف پیش رفت کو تجویز کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا فطری تسلسل قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجویز اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور برطانیہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیٹیکل ایڈورڈ لیویلین کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں زیر بحث آئی، جس میں دو طرفہ تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان–برطانیہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور صحت و لائف سائنسز کے شعبے میں ورکنگ گروپ کے قیام کو سراہا گیا۔ دونوں فریقین نے آئی ٹی، زراعت، پروفیشنل سروسز اور تعلیم و اسکلز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپس کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقع پر جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان تجارتی ماحول بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ساختی اصلاحات کے عمل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ٹیرف پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات پاکستان کو زیادہ مسابقتی اور کاروبار دوست ملک بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میں تسلسل اور بتدریج اصلاحات طویل المدتی سرمایہ کار اعتماد کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے سیکریٹری جواد پال نے بھی کہا کہ جاری تجارتی مکالمہ مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کو طویل مدت میں ایف ٹی اے پر غور کرنا چاہیے، اور اسے پاکستان اور برطانیہ کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا فطری تسلسل قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی وفد نے پاکستان کے دانشورانہ املاک کے مجوزہ فریم ورک میں تبدیلیوں سے متعلق اپنی تجاویز پر غور کرنے کی درخواست کی اور پالیسی میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ ایڈ لیویلین نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف پالیسیوں پر نہیں بلکہ حکومت کے واضح اشاروں اور شفافیت پر بھی منحصر ہوتا ہے، اور بروقت مشاورت بین الاقوامی کاروبار کو مزید اعتماد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے جی آئی (جغرافیائی اشاریے) اور پاکستانی باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک رجسٹریشن کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس پر مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی امور پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی بات ہوئی اور عالمی تجارت کے لیے بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات اور خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے برآمدات پر بڑھنے والے میری ٹائم چارجز کا مسئلہ اٹھایا اور رسک زونز کے منصفانہ جائزے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تجارت، توانائی اور علاقائی استحکام سے متعلق مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی حکومت نے برطانیہ کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ایف ٹی اے) کی طرف پیش رفت کو تجویز کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات کا فطری تسلسل قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>یہ تجویز اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان اور برطانیہ کے ڈائریکٹر جنرل پولیٹیکل ایڈورڈ لیویلین کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات میں زیر بحث آئی، جس میں دو طرفہ تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی موجود تھیں۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاکستان–برطانیہ ٹریڈ ڈائیلاگ میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور صحت و لائف سائنسز کے شعبے میں ورکنگ گروپ کے قیام کو سراہا گیا۔ دونوں فریقین نے آئی ٹی، زراعت، پروفیشنل سروسز اور تعلیم و اسکلز کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپس کو فعال کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>اس موقع پر جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان تجارتی ماحول بہتر بنانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ساختی اصلاحات کے عمل کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ٹیرف پالیسی اور ریگولیٹری اصلاحات پاکستان کو زیادہ مسابقتی اور کاروبار دوست ملک بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پالیسی میں تسلسل اور بتدریج اصلاحات طویل المدتی سرمایہ کار اعتماد کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔</p>
<p>وزارت تجارت کے سیکریٹری جواد پال نے بھی کہا کہ جاری تجارتی مکالمہ مستقبل کے تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک کو طویل مدت میں ایف ٹی اے پر غور کرنا چاہیے، اور اسے پاکستان اور برطانیہ کے بڑھتے ہوئے اقتصادی تعلقات کا فطری تسلسل قرار دیا۔</p>
<p>برطانوی وفد نے پاکستان کے دانشورانہ املاک کے مجوزہ فریم ورک میں تبدیلیوں سے متعلق اپنی تجاویز پر غور کرنے کی درخواست کی اور پالیسی میں تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ ایڈ لیویلین نے کہا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد صرف پالیسیوں پر نہیں بلکہ حکومت کے واضح اشاروں اور شفافیت پر بھی منحصر ہوتا ہے، اور بروقت مشاورت بین الاقوامی کاروبار کو مزید اعتماد فراہم کرتی ہے۔</p>
<p>دونوں فریقین نے جی آئی (جغرافیائی اشاریے) اور پاکستانی باسمتی چاول کے ٹریڈ مارک رجسٹریشن کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور اس پر مزید رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>عالمی امور پر گفتگو کے دوران آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت پر بھی بات ہوئی اور عالمی تجارت کے لیے بڑھتے ہوئے شپنگ اخراجات اور خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پاکستان نے برآمدات پر بڑھنے والے میری ٹائم چارجز کا مسئلہ اٹھایا اور رسک زونز کے منصفانہ جائزے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تجارت، توانائی اور علاقائی استحکام سے متعلق مشترکہ چیلنجز کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284536</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Apr 2026 10:46:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0310462827677f0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0310462827677f0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
