<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Financial</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ بندی کی واضح ٹائم لائن نہ ملنے پر ڈالر کی قدر میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284535/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ خطاب کے بعد جمعرات کے روز امریکی ڈالر نے بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں دوبارہ مضبوطی حاصل کر لی، جس سے گزشتہ دو روز کی کمی ختم ہو گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس 99.925 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ بعد ازاں اس میں معمولی کمی کے بعد یہ 99.861 پر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے قبل ڈالر میں مسلسل دو روز تک کمی دیکھی گئی تھی کیونکہ مارکیٹ میں جنگ بندی کے امکانات پر امیدیں پیدا ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے، تاہم امریکی فوج آئندہ دو سے تین ہفتوں تک وہاں اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی۔ ان کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا مزید بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ کی امیدوں کو متاثر کیا ہے اور سرمایہ کار یہ سمجھنے لگے ہیں کہ تنازع میں فوری کمی کے بجائے مزید شدت آ سکتی ہے۔ اس صورتحال نے ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید پرکشش بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں میں تقریباً 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ میں رہے اور تقریباً 0.6 فیصد تک گر گئے۔ جاپانی ین بھی کمزور ہوا لیکن 160 کی اہم حد سے نیچے رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مارکیٹ کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لیبر مارکیٹ میں کمزوری سامنے آتی ہے تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، جو اس وقت تیل کی بڑھتی قیمتوں اور افراط زر کے خدشات کے باعث کم ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق حالیہ خطاب کے بعد جمعرات کے روز امریکی ڈالر نے بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں دوبارہ مضبوطی حاصل کر لی، جس سے گزشتہ دو روز کی کمی ختم ہو گئی۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیاں پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔</strong></p>
<p>ڈالر انڈیکس 99.925 کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جبکہ بعد ازاں اس میں معمولی کمی کے بعد یہ 99.861 پر 0.3 فیصد اضافے کے ساتھ ٹریڈ کرتا رہا۔ اس سے قبل ڈالر میں مسلسل دو روز تک کمی دیکھی گئی تھی کیونکہ مارکیٹ میں جنگ بندی کے امکانات پر امیدیں پیدا ہو گئی تھیں۔</p>
<p>صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع جلد ختم ہو سکتا ہے، تاہم امریکی فوج آئندہ دو سے تین ہفتوں تک وہاں اہداف کو نشانہ بناتی رہے گی۔ ان کے بیان کے بعد سرمایہ کاروں میں غیر یقینی کی فضا مزید بڑھ گئی۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے بیان نے مارکیٹ کی امیدوں کو متاثر کیا ہے اور سرمایہ کار یہ سمجھنے لگے ہیں کہ تنازع میں فوری کمی کے بجائے مزید شدت آ سکتی ہے۔ اس صورتحال نے ڈالر کو ایک محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مزید پرکشش بنا دیا ہے۔</p>
<p>یورو اور برطانوی پاؤنڈ دونوں میں تقریباً 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ ڈالر بھی دباؤ میں رہے اور تقریباً 0.6 فیصد تک گر گئے۔ جاپانی ین بھی کمزور ہوا لیکن 160 کی اہم حد سے نیچے رہا۔</p>
<p>اب مارکیٹ کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر لیبر مارکیٹ میں کمزوری سامنے آتی ہے تو فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات دوبارہ بڑھ سکتی ہیں، جو اس وقت تیل کی بڑھتی قیمتوں اور افراط زر کے خدشات کے باعث کم ہو چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284535</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 10:32:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/021030412a397db.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/021030412a397db.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
