<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:17:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:17:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ای سی سی کی پی ایس ڈی پی سے 100 ارب روپے کاٹ کر وزیراعظم آسٹریٹی فنڈ کو منتقل کرنے کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284530/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی) نے وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ مالی سال 2025-26 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام( پی ایس ڈی پی) کی مد میں مختص فنڈز میں سے 100 ارب روپے واپس کریں، جنہیں ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس(ٹی ایس جیز) کے طور پر وزیر اعظم کے آسٹریٹی فنڈ میں منتقل کیا جائے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 مارچ 2026 کو فنانس ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 19 مارچ 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خلیجی خطے میں جاری تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے ہدایت دی تھی کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فرق کے دعووں کی ادائیگی کے لیے 100 ارب روپے پی ایس ڈی پی فنڈز سے استعمال کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد 24 مارچ 2026 کو فنانس ڈویژن نے پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹوز ڈویژن سے درخواست کی کہ موجودہ مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی کی منظوریوں کو 900 ارب روپے تک محدود رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنز کو 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز واپس کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ یہ رقم فنانس ڈویژن کے حوالے کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنانس ڈویژن نے درخواست کی کہ واپس کیے گئے پی ایس ڈی پی فنڈز کو ڈیمانڈ نمبر 47 کے تحت ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے مختص کیا جائے اور بعد ازاں انہیں وزیراعظم آسٹریٹی فنڈ 2026 میں منتقل کر دیا جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فرق کے دعووں کی ادائیگی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ یہ فنڈز وزیر اعظم آسٹریٹی فنڈ 2026 میں منتقل کیے جائیں گے، جس کی کمیٹی نے متفقہ طور پر منظوری دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ فنڈز مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں ردوبدل اور بچت کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، جس کی نگرانی پلاننگ ڈویژن کرے گا۔ اس عمل کا مقصد اہم اور بہتر کارکردگی دکھانے والے منصوبوں کو متاثر کیے بغیر مالی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر کچھ فنڈز پہلے ہی واپس کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی( ای سی سی) نے وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت دی ہے کہ وہ مالی سال 2025-26 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام( پی ایس ڈی پی) کی مد میں مختص فنڈز میں سے 100 ارب روپے واپس کریں، جنہیں ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس(ٹی ایس جیز) کے طور پر وزیر اعظم کے آسٹریٹی فنڈ میں منتقل کیا جائے گا۔</strong></p>
<p>26 مارچ 2026 کو فنانس ڈویژن نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 19 مارچ 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں خلیجی خطے میں جاری تنازع کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے ہدایت دی تھی کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فرق کے دعووں کی ادائیگی کے لیے 100 ارب روپے پی ایس ڈی پی فنڈز سے استعمال کیے جائیں۔</p>
<p>اس کے بعد 24 مارچ 2026 کو فنانس ڈویژن نے پلاننگ، ڈویلپمنٹ اینڈ اسپیشل انیشی ایٹوز ڈویژن سے درخواست کی کہ موجودہ مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی کی منظوریوں کو 900 ارب روپے تک محدود رکھا جائے۔</p>
<p>اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق وزارتوں اور ڈویژنز کو 100 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز واپس کرنے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ یہ رقم فنانس ڈویژن کے حوالے کی جا سکے۔</p>
<p>فنانس ڈویژن نے درخواست کی کہ واپس کیے گئے پی ایس ڈی پی فنڈز کو ڈیمانڈ نمبر 47 کے تحت ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے مختص کیا جائے اور بعد ازاں انہیں وزیراعظم آسٹریٹی فنڈ 2026 میں منتقل کر دیا جائے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فرق کے دعووں کی ادائیگی کی جا سکے۔</p>
<p>اجلاس کے دوران اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ یہ فنڈز وزیر اعظم آسٹریٹی فنڈ 2026 میں منتقل کیے جائیں گے، جس کی کمیٹی نے متفقہ طور پر منظوری دے دی۔</p>
<p>کمیٹی نے نوٹ کیا کہ یہ فنڈز مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں ردوبدل اور بچت کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، جس کی نگرانی پلاننگ ڈویژن کرے گا۔ اس عمل کا مقصد اہم اور بہتر کارکردگی دکھانے والے منصوبوں کو متاثر کیے بغیر مالی گنجائش پیدا کرنا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر کچھ فنڈز پہلے ہی واپس کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284530</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 09:25:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/020921344cc23fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/020921344cc23fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
