<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ جنگ بندی پر آمادہ ہیں، امریکی نائب صدر کا پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغام</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284529/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے جاری تنازع کے حوالے سے پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں، جس سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے بڑھتے ہوئے کردار کا عندیہ ملتا ہے۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق جے ڈی وینس نے منگل کے روز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران سے متعلق اہم پیغامات پہنچائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جے ڈی وینس نے نجی طور پر یہ اشارہ دیا کہ امریکہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکی مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک سخت پیغام بھی دیا کہ اگر تہران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو ایرانی تنصیبات پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ڈی وینس اس تنازع کے حل کے لیے زیادہ متحرک نظر آ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر 2028 کے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار بھی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں بیرون ملک طویل امریکی فوجی مداخلت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کی امید میں ایسے حملے 6 اپریل تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے جاری تنازع کے حوالے سے پاکستان کے ذریعے سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں، جس سے اس جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے بڑھتے ہوئے کردار کا عندیہ ملتا ہے۔ ایک باخبر ذریعے کے مطابق جے ڈی وینس نے منگل کے روز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ایران سے متعلق اہم پیغامات پہنچائے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر جے ڈی وینس نے نجی طور پر یہ اشارہ دیا کہ امریکہ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکی مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ایک سخت پیغام بھی دیا کہ اگر تہران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو ایرانی تنصیبات پر دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔</p>
<p>جے ڈی وینس اس تنازع کے حل کے لیے زیادہ متحرک نظر آ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر 2028 کے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار بھی سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں بیرون ملک طویل امریکی فوجی مداخلت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو ایران کے انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم کسی ممکنہ معاہدے کی امید میں ایسے حملے 6 اپریل تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284529</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 09:15:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/02091420fce3bd8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/02091420fce3bd8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
