<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایف سی کی جانب سے پاکستان کے نجی شعبے کے لیے 2.7 بلین ڈالر کی فراہمی کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284514/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک کے مالیاتی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے رواں سال کے لیے پاکستان کے لیے تقریباً 2.7 ارب ڈالر (2 ارب 70 کروڑ ڈالر) کی رقم مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور آئی ایف سی کے حکام کے درمیان ملاقات میں طے پانے والے اس عزم کا مقصد معیشت کے اہم شعبوں میں نجی شعبے کی ترقی، بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کی توسیع اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ڈویژنل ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز سے ملاقات کی، جنہوں نے فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ورلڈ بینک کی پاکستان کیلئے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور آئی ایف سی کے کنٹری منیجر ناز خان بھی موجود تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے سائمن اینڈریوز کو ان کی حالیہ تعیناتی پر خوش آمدید کہا اور گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں آئی ایف سی کی بڑھتی ہوئی شمولیت، بالخصوص سرمایہ کاری، تجارتی مالیات اور مشاورتی تعاون کو سراہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے آئی ایف سی کی مقامی قیادت کے مثبت اثرات اور ان کے فوری ردعمل کے عمل کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سطح پر موجودگی میں اضافے سے باہمی تعاون اور نتائج کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایف سی کے وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں اپنے بڑھتے ہوئے پورٹ فولیو کے بارے میں بریفنگ دی جو اب سالانہ 2 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ رواں سال کے لیے تقریباً 2.7 بلین ڈالر مختص کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق، تعاون کے کلیدی شعبوں میں رسک شیئرنگ اور ضمانتی سہولیات کے ذریعے مالیاتی شعبے کی مدد کرنا شامل ہے تاکہ تجارت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی مالی معاونت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مقامی کرنسی میں فنانسنگ کی توسیع اور مستقبل کے اقدامات جیسے کہ ڈائیورسیفائیڈ پیمنٹ رائٹس کی سہولت اور ایک معروف مقامی بینک کے ساتھ مل کر گرین بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری، بالخصوص بنیادی ڈھانچے اور عوامی و نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے منصوبوں کو مزید وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ شہری نظامِ آب (واٹر مینجمنٹ) اور تقسیم کی کارکردگی بہتر بنانے جیسے منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں اطراف نے اس ضرورت کا اعتراف کیا کہ بینک ایبل (سرمایہ کاری کے قابل) منصوبوں کی ایک مضبوط فہرست تیار کی جائے اور توانائی، نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے باہمی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرخزانہ نے مالیاتی حل کے لیے ’کلائنٹ سینٹرک‘ (صارف دوست یا گاہک کی ضروریات کے مطابق) نقطہ نظر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، بالخصوص مقامی کرنسی میں قرضوں کی فراہمی میں سہولت کاری پر، تاکہ نجی شعبے کی ترقی میں مدد مل سکے اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس طرح کے اقدامات غیر ملکی کرنسی کی آمد کا متبادل نہیں بلکہ اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں اور پائیدار معاشی توسیع کے لیے ناگزیر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات میں روزگار کی فراہمی، انٹرپرینیور شپ (کاروباری نظام) اور اختراع (انوویشن) کے حوالے سے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں ونچر کیپٹل ایکو سسٹم کی تشکیل اور پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت کو مضبوط بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔ دونوں اطراف نے حکومت اور کاروباری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کی تاکہ ایک مؤثر اور مستعد پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وسیع تر بات چیت میں علاقائی معاشی روابط، خاص طور پر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات اور زرعی کاروبار (ایگری بزنس)، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی روابط میں ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محمد اورنگزیب نے وفد کو عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی جس میں توانائی کی سپلائی چین کا فعال انتظام، مالیاتی نظم و ضبط اور سبسڈی کے ہدف شدہ فریم ورک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں اطراف نے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے، ترجیحی اقدامات پر عمل درآمد کو تیز کرنے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار و ہمہ گیر معاشی ترقی کے لیے ورلڈ بینک گروپ کے تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک کے مالیاتی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) نے رواں سال کے لیے پاکستان کے لیے تقریباً 2.7 ارب ڈالر (2 ارب 70 کروڑ ڈالر) کی رقم مختص کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔</strong></p>
<p>اعلامیے کے مطابق وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور آئی ایف سی کے حکام کے درمیان ملاقات میں طے پانے والے اس عزم کا مقصد معیشت کے اہم شعبوں میں نجی شعبے کی ترقی، بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کی توسیع اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے آئی ایف سی کے پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ڈویژنل ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز سے ملاقات کی، جنہوں نے فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔ اس موقع پر ورلڈ بینک کی پاکستان کیلئے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار اور آئی ایف سی کے کنٹری منیجر ناز خان بھی موجود تھیں۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے سائمن اینڈریوز کو ان کی حالیہ تعیناتی پر خوش آمدید کہا اور گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں آئی ایف سی کی بڑھتی ہوئی شمولیت، بالخصوص سرمایہ کاری، تجارتی مالیات اور مشاورتی تعاون کو سراہا۔</p>
<p>انہوں نے آئی ایف سی کی مقامی قیادت کے مثبت اثرات اور ان کے فوری ردعمل کے عمل کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ سطح پر موجودگی میں اضافے سے باہمی تعاون اور نتائج کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔</p>
<p>آئی ایف سی کے وفد نے وزیر خزانہ کو پاکستان میں اپنے بڑھتے ہوئے پورٹ فولیو کے بارے میں بریفنگ دی جو اب سالانہ 2 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ رواں سال کے لیے تقریباً 2.7 بلین ڈالر مختص کرنے کا عزم کیا گیا ہے۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق، تعاون کے کلیدی شعبوں میں رسک شیئرنگ اور ضمانتی سہولیات کے ذریعے مالیاتی شعبے کی مدد کرنا شامل ہے تاکہ تجارت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی مالی معاونت کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، زرمبادلہ کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مقامی کرنسی میں فنانسنگ کی توسیع اور مستقبل کے اقدامات جیسے کہ ڈائیورسیفائیڈ پیمنٹ رائٹس کی سہولت اور ایک معروف مقامی بینک کے ساتھ مل کر گرین بانڈ کا اجرا بھی شامل ہے۔</p>
<p>ملاقات میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری، بالخصوص بنیادی ڈھانچے اور عوامی و نجی شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے منصوبوں کو مزید وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔</p>
<p>اگرچہ شہری نظامِ آب (واٹر مینجمنٹ) اور تقسیم کی کارکردگی بہتر بنانے جیسے منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم دونوں اطراف نے اس ضرورت کا اعتراف کیا کہ بینک ایبل (سرمایہ کاری کے قابل) منصوبوں کی ایک مضبوط فہرست تیار کی جائے اور توانائی، نقل و حمل (ٹرانسپورٹ) اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے باہمی ہم آہنگی کو مزید بہتر بنایا جائے۔</p>
<p>وزیرخزانہ نے مالیاتی حل کے لیے ’کلائنٹ سینٹرک‘ (صارف دوست یا گاہک کی ضروریات کے مطابق) نقطہ نظر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا، بالخصوص مقامی کرنسی میں قرضوں کی فراہمی میں سہولت کاری پر، تاکہ نجی شعبے کی ترقی میں مدد مل سکے اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اس طرح کے اقدامات غیر ملکی کرنسی کی آمد کا متبادل نہیں بلکہ اس کے مددگار ثابت ہوتے ہیں اور پائیدار معاشی توسیع کے لیے ناگزیر ہیں۔</p>
<p>ملاقات میں روزگار کی فراہمی، انٹرپرینیور شپ (کاروباری نظام) اور اختراع (انوویشن) کے حوالے سے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں ونچر کیپٹل ایکو سسٹم کی تشکیل اور پالیسی سازی میں نجی شعبے کی شمولیت کو مضبوط بنانے کی تجاویز شامل تھیں۔ دونوں اطراف نے حکومت اور کاروباری اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مذاکرات کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے طریقہ کار پر بھی بات چیت کی تاکہ ایک مؤثر اور مستعد پالیسی سازی میں مدد مل سکے۔</p>
<p>وسیع تر بات چیت میں علاقائی معاشی روابط، خاص طور پر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات اور زرعی کاروبار (ایگری بزنس)، بنیادی ڈھانچے اور تجارتی روابط میں ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر غور کیا گیا۔</p>
<p>محمد اورنگزیب نے وفد کو عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی جس میں توانائی کی سپلائی چین کا فعال انتظام، مالیاتی نظم و ضبط اور سبسڈی کے ہدف شدہ فریم ورک شامل ہیں۔</p>
<p>دونوں اطراف نے باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے، ترجیحی اقدامات پر عمل درآمد کو تیز کرنے اور پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار و ہمہ گیر معاشی ترقی کے لیے ورلڈ بینک گروپ کے تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لانے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284514</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Apr 2026 11:12:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/011422566d9823c.webp" type="image/webp" medium="image" height="745" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/011422566d9823c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
