<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 06:32:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف پی سی سی آئی کا ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر زور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284501/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بی ایم پی پروگریسو کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر، ثاقب فیاض مگون نے صنعتی ترقی اور علاقائی رابطوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی شرط میں عارضی استثنیٰ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے برآمدکنندگان کے لیے ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیا۔ حکومت نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے مالی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری دی جس کے تحت اب ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے برآمدات کی اجازت ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وزیر تجارت جام کمال سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدی عمل کو آسان بنائے گا بلکہ سرحدی تجارت کو بھی فروغ دے گا جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایران سے صنعتی خام مال خصوصاً پٹرو کیمیکلز کی درآمد کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایران سے سستا خام مال دستیاب ہونے کی صورت میں پاکستانی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقامی اور عالمی مارکیٹ میں پیٹروکیمیکلز کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں جس کے باعث صنعتکار شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر ایران سے کم قیمت پر یہ خام مال درآمد کیا جائے تو نہ صرف صنعتوں کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں قیمت کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی ہوسکیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ پیداواری لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا جو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید وسعت دے کر صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ثاقب فیاض مگوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جو نہ صرف صنعتوں کو مضبوط کریں بلکہ ملک کو برآمدات کے میدان میں بھی آگے لے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بی ایم پی پروگریسو کے چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سینئر نائب صدر، ثاقب فیاض مگون نے صنعتی ترقی اور علاقائی رابطوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایران کے ساتھ دوطرفہ تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔</strong></p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے ایران کے راستے برآمدات کے لیے بینک گارنٹی اور لیٹر آف کریڈٹ (ایل سی) کی شرط میں عارضی استثنیٰ کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے برآمدکنندگان کے لیے ایک مثبت اور بروقت اقدام قرار دیا۔ حکومت نے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے مالی دستاویزات سے عارضی استثنیٰ کی منظوری دی جس کے تحت اب ایران، آذربائیجان اور وسطی ایشیائی ممالک کو زمینی راستوں کے ذریعے برآمدات کی اجازت ہو گی۔</p>
<p>انہوں نے وزیر تجارت جام کمال سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف برآمدی عمل کو آسان بنائے گا بلکہ سرحدی تجارت کو بھی فروغ دے گا جس سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایران سے صنعتی خام مال خصوصاً پٹرو کیمیکلز کی درآمد کے لیے بھی فوری اقدامات کیے جائیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ایران سے سستا خام مال دستیاب ہونے کی صورت میں پاکستانی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقامی اور عالمی مارکیٹ میں پیٹروکیمیکلز کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں جس کے باعث صنعتکار شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر ایران سے کم قیمت پر یہ خام مال درآمد کیا جائے تو نہ صرف صنعتوں کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستانی مصنوعات عالمی منڈیوں میں قیمت کے لحاظ سے زیادہ مسابقتی ہوسکیں گی۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ پیداواری لاگت میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہوگا جو زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ایران کے ساتھ تجارتی روابط کو مزید وسعت دے کر صنعتی ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے۔</p>
<p>ثاقب فیاض مگوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بزنس کمیونٹی کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے گی اور ایسے اقدامات کرے گی جو نہ صرف صنعتوں کو مضبوط کریں بلکہ ملک کو برآمدات کے میدان میں بھی آگے لے جائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284501</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 12:12:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/011210471ea5ec7.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/011210471ea5ec7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
