<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کی جنگ شپنگ کے اخراجات میں اضافہ کیسے کر رہی ہے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284500/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سطح پر شپنگ اور تجارت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق ایندھن اور سامان کی ترسیل کے نرخ بڑھ گئے ہیں کیونکہ جہاز رانی کی صلاحیت کم ہو گئی ہے اور کئی جہاز خلیجی خطے میں حملوں کے خدشے کے باعث سفر سے گریز کر رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض جہاز طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں، جس سے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تیل کی سپلائی میں کمی نے بحری جہازوں کے ایندھن کی قیمت کو بھی اوپر دھکیل دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہاپاگ لائیڈ کے چیف ایگزیکٹو رولف ہیبن جانسن کے مطابق کمپنی کو اپر گلف ریجن سے اور اس کی طرف بکنگ روکنا پڑی ہے کیونکہ جہازوں کی آمد و رفت ممکن نہیں رہی۔ ان کے مطابق جنگ کے باعث کمپنی کے اخراجات میں ہفتہ وار 40 سے 50 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس میں ایندھن، انشورنس، کنٹینر اسٹوریج اور اندرون ملک ٹرانسپورٹ کے اخراجات شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت کمپنی کے چھ جہاز استعمال کے قابل نہیں رہے، جس سے مجموعی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل بردار جہازوں کی چارٹرنگ لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ بڑے سیز میکس خام تیل بردار جہاز کی یومیہ آمدن، جو چارٹر لاگت کا ایک بالواسطہ پیمانہ ہے، فروری کے بعد تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی شرح بھی اسی عرصے میں 90 ہزار ڈالر یومیہ تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلانٹس کے مطابق خلیج سے چین تک خام تیل کی ترسیل کی لاگت فروری کے آخر میں 46 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر چند دنوں میں تقریباً تین گنا ہو گئی، تاہم بعد میں کچھ کمی کے ساتھ مارچ کے آخر میں 64 ڈالر کے قریب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کنٹینر شپنگ کے اخراجات میں بھی 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض روٹس پر جنگی سرچارجز کے باعث نرخوں میں تقریباً 200 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور مال کو متبادل محفوظ ہبز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہازوں کے ایندھن یعنی بنکر فیول کی قیمت بھی تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور مارچ میں 1053 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جبکہ مہینے کے آخر میں یہ 936 ڈالر کے قریب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انشورنس کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جہاں جنگی رسک پریمیم بعض اوقات جہاز اور سامان کی مجموعی قیمت کے 3.5 سے 10 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جس سے شپنگ انڈسٹری پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آبنائے ہرمز کی بندش اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے عالمی سطح پر شپنگ اور تجارت کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ انڈسٹری ڈیٹا کے مطابق ایندھن اور سامان کی ترسیل کے نرخ بڑھ گئے ہیں کیونکہ جہاز رانی کی صلاحیت کم ہو گئی ہے اور کئی جہاز خلیجی خطے میں حملوں کے خدشے کے باعث سفر سے گریز کر رہے ہیں۔</strong></p>
<p>بعض جہاز طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کر رہے ہیں، جس سے اخراجات مزید بڑھ گئے ہیں۔ تیل کی سپلائی میں کمی نے بحری جہازوں کے ایندھن کی قیمت کو بھی اوپر دھکیل دیا ہے۔</p>
<p>ہاپاگ لائیڈ کے چیف ایگزیکٹو رولف ہیبن جانسن کے مطابق کمپنی کو اپر گلف ریجن سے اور اس کی طرف بکنگ روکنا پڑی ہے کیونکہ جہازوں کی آمد و رفت ممکن نہیں رہی۔ ان کے مطابق جنگ کے باعث کمپنی کے اخراجات میں ہفتہ وار 40 سے 50 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس میں ایندھن، انشورنس، کنٹینر اسٹوریج اور اندرون ملک ٹرانسپورٹ کے اخراجات شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت کمپنی کے چھ جہاز استعمال کے قابل نہیں رہے، جس سے مجموعی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔</p>
<p>تیل بردار جہازوں کی چارٹرنگ لاگت بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ بڑے سیز میکس خام تیل بردار جہاز کی یومیہ آمدن، جو چارٹر لاگت کا ایک بالواسطہ پیمانہ ہے، فروری کے بعد تین گنا سے زیادہ بڑھ کر 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر سے اوپر پہنچ گئی ہے۔ مائع قدرتی گیس لے جانے والے جہازوں کی شرح بھی اسی عرصے میں 90 ہزار ڈالر یومیہ تک پہنچ گئی۔</p>
<p>پلانٹس کے مطابق خلیج سے چین تک خام تیل کی ترسیل کی لاگت فروری کے آخر میں 46 ڈالر فی میٹرک ٹن سے بڑھ کر چند دنوں میں تقریباً تین گنا ہو گئی، تاہم بعد میں کچھ کمی کے ساتھ مارچ کے آخر میں 64 ڈالر کے قریب رہی۔</p>
<p>کنٹینر شپنگ کے اخراجات میں بھی 20 سے 25 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض روٹس پر جنگی سرچارجز کے باعث نرخوں میں تقریباً 200 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور مال کو متبادل محفوظ ہبز پر منتقل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>جہازوں کے ایندھن یعنی بنکر فیول کی قیمت بھی تقریباً دوگنی ہو گئی ہے اور مارچ میں 1053 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جبکہ مہینے کے آخر میں یہ 936 ڈالر کے قریب رہی۔</p>
<p>انشورنس کے اخراجات میں بھی شدید اضافہ ہوا ہے، جہاں جنگی رسک پریمیم بعض اوقات جہاز اور سامان کی مجموعی قیمت کے 3.5 سے 10 فیصد تک پہنچ گئے ہیں، جس سے شپنگ انڈسٹری پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284500</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 12:51:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/011232534cac1fb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/011232534cac1fb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
