<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یہ بوجھ زیادہ عرصے تک برداشت نہیں کیا جا سکتا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284499/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبائی حکومتوں نے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن کی سبسڈی کا بوجھ بانٹنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ سبسڈی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ناگزیر ہوگئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم نے اس فیصلے کے اعلان سے قبل وفاقی اکائیوں (صوبوں) سے مشاورت کی تھی یا نہیں،تاہم چاروں وزرائے اعلیٰ نے واضح وجوہات کی بنا پر اس کی توثیق کردی ہے تاکہ عام عوام ان مشکل حالات میں اپنے معیارِ زندگی کو جتنا ممکن ہوسکے برقرار رکھ سکیں جن کی ذمہ داری واضح اور غیر مبہم طور پر بیرونی عوامل پر عائد ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتحال جو بھی ہو، جنگی فریقین کے درمیان کسی بامعنی مفاہمت کے آثار نظر نہ آنے کے باعث ایندھن کی سپلائی میں تعطل کا دورانیہ تاحال غیر واضح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کے وزیراعظم کے عہد کی بنیاد پر دی جانے والی سبسڈی کی حتمی رقم کا فی الوقت درست تعین ممکن نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ملک کیلئے جو دہائیوں سے انتہائی محدود مالیاتی گنجائش کے مسائل کا شکار ہے اور یہی تشویش ان تمام 24 آئی ایم ایف پروگراموں کا مرکزی نقطہ رہی ہے جو ملک نے اپنی 79 سالہ تاریخ میں حاصل کیے، بشمول موجودہ 36 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے، ریونیو کی وصولی میں کسی بھی قسم کا بیرونی جھٹکا معیشت کی نزاکت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ سابقہ حکومتیں بھی مالیاتی گنجائش بڑھانے کے لیے عموماً دو اقدامات پر عمل کرتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا طریقہ یہ ہے کہ موجودہ ٹیکسز میں اضافہ کردیا جائے جو ادائیگی کی استطاعت کے اصول پر نہیں بلکہ وصولی میں آسانی کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریونیو کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں  پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں کسی بھی قسم کی کمی ہر روپے کی قدر کو کم کر دیتی ہے، جس سے سیلز ٹیکس کی وصولی بھی متاثر ہوتی ہے، آئی ایم ایف پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی جی ڈی پی میں کمی کی پیش گوئی کرچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر  پر شدید دباؤ کا سامنا ہے جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زیادہ تر ذخائر ادھار لیے گئے ہیں، یعنی دوست ممالک سے حاصل کردہ رول اوورز (قرض کی واپسی میں توسیع) اور کثیر الجہتی  و دو طرفہ  اداروں سے حاصل کردہ قرضے۔ یہ صورتحال خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمدی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار کے ساتھ  کسٹمز اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی وصولیاں بھی کم ہو جاتی ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکشاف کیا ہے کہ فروری 2026 تک ٹیکسوں میں 457 ارب روپے کی کمی  ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ کمی 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگی صورتحال سے پہلے کی ہے۔ قرینِ قیاس ہے کہ مارچ کے مہینے میں اس خسارے میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہماری پے در پے آنے والی حکومتیں عام طور پر پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ عزم کا دعویٰ کر سکیں۔ لیکن اکثر سالوں میں، جیسے ہی ملکی یا بیرونی عوامل کی وجہ سے مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے، اس رقم میں کٹوتی کر دی جاتی ہے، یہ صورتحال خاص طور پر ان ادوار میں زیادہ واضح ہوتی ہے جب ملک آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل پیرا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کو پہلے ہی بجٹ میں طے شدہ ہدف سے زیادہ خسارے کا سامنا تھا، اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے قبل ہی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی شروع کردی گئی تھی۔ تاہم، رواں سال مارچ میں حکومت نے ایندھن کی سبسڈی کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی خاطر پی ایس ڈی پی میں مزید 100 ارب روپے کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک کفایت شعاری پیکج کا بھی اعلان کیا ہے جس سے ہونے والی متوقع بچت شاید ضرورت سے زیادہ پرامید ہو، اگرچہ پی ایم آسٹیرٹی فنڈ قائم کر کے اس کی پہلی قسط کے طور پر 27 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ فنڈ ایک بڑے معاشی پیکج کا حصہ ہے، تاہم تنازع کے خاتمے تک آئی ایم ایف کے تحفظات دور کرنے کے لیے شاید کچھ جدید اکاؤنٹنگ اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی گنجائش پیدا کرنے اور ساتھ ہی مقامی و بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کو دو سے تین سال کے عرصے کے لیے اپنے موجودہ اخراجات  میں بڑی کٹوتی کرنی ہوگی۔ اس سے حکومت اور عوام دونوں کو تھوڑا ریلیف  ملے گا جس کے دوران ٹیکسوں میں اضافے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسی اصلاحات بھی لائی جائیں جو ٹیکس کے نظام کو منصفانہ، برابر اور نقائص سے پاک بنا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صوبائی حکومتوں نے وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ایندھن کی سبسڈی کا بوجھ بانٹنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ یہ سبسڈی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے پانچویں ہفتے میں داخل ہونے کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ناگزیر ہوگئی تھی۔</strong></p>
<p>اگرچہ ابھی یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم نے اس فیصلے کے اعلان سے قبل وفاقی اکائیوں (صوبوں) سے مشاورت کی تھی یا نہیں،تاہم چاروں وزرائے اعلیٰ نے واضح وجوہات کی بنا پر اس کی توثیق کردی ہے تاکہ عام عوام ان مشکل حالات میں اپنے معیارِ زندگی کو جتنا ممکن ہوسکے برقرار رکھ سکیں جن کی ذمہ داری واضح اور غیر مبہم طور پر بیرونی عوامل پر عائد ہوتی ہے۔</p>
<p>صورتحال جو بھی ہو، جنگی فریقین کے درمیان کسی بامعنی مفاہمت کے آثار نظر نہ آنے کے باعث ایندھن کی سپلائی میں تعطل کا دورانیہ تاحال غیر واضح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں نہ بڑھانے کے وزیراعظم کے عہد کی بنیاد پر دی جانے والی سبسڈی کی حتمی رقم کا فی الوقت درست تعین ممکن نہیں ہے۔</p>
<p>پاکستان جیسے ملک کیلئے جو دہائیوں سے انتہائی محدود مالیاتی گنجائش کے مسائل کا شکار ہے اور یہی تشویش ان تمام 24 آئی ایم ایف پروگراموں کا مرکزی نقطہ رہی ہے جو ملک نے اپنی 79 سالہ تاریخ میں حاصل کیے، بشمول موجودہ 36 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے، ریونیو کی وصولی میں کسی بھی قسم کا بیرونی جھٹکا معیشت کی نزاکت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ سابقہ حکومتیں بھی مالیاتی گنجائش بڑھانے کے لیے عموماً دو اقدامات پر عمل کرتی رہی ہیں۔</p>
<p>پہلا طریقہ یہ ہے کہ موجودہ ٹیکسز میں اضافہ کردیا جائے جو ادائیگی کی استطاعت کے اصول پر نہیں بلکہ وصولی میں آسانی کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریونیو کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں  پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو میں کسی بھی قسم کی کمی ہر روپے کی قدر کو کم کر دیتی ہے، جس سے سیلز ٹیکس کی وصولی بھی متاثر ہوتی ہے، آئی ایم ایف پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں عالمی جی ڈی پی میں کمی کی پیش گوئی کرچکا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان کو اپنے غیر ملکی زرمبادلہ  ذخائر  پر شدید دباؤ کا سامنا ہے جس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زیادہ تر ذخائر ادھار لیے گئے ہیں، یعنی دوست ممالک سے حاصل کردہ رول اوورز (قرض کی واپسی میں توسیع) اور کثیر الجہتی  و دو طرفہ  اداروں سے حاصل کردہ قرضے۔ یہ صورتحال خام مال اور نیم تیار شدہ مصنوعات کی درآمدی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار کے ساتھ  کسٹمز اور ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ہونے والی وصولیاں بھی کم ہو جاتی ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکشاف کیا ہے کہ فروری 2026 تک ٹیکسوں میں 457 ارب روپے کی کمی  ریکارڈ کی گئی ہے اور یہ کمی 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی جنگی صورتحال سے پہلے کی ہے۔ قرینِ قیاس ہے کہ مارچ کے مہینے میں اس خسارے میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہماری پے در پے آنے والی حکومتیں عام طور پر پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے بجٹ میں مختص رقم کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہیں تاکہ اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں کے لیے زیادہ عزم کا دعویٰ کر سکیں۔ لیکن اکثر سالوں میں، جیسے ہی ملکی یا بیرونی عوامل کی وجہ سے مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے، اس رقم میں کٹوتی کر دی جاتی ہے، یہ صورتحال خاص طور پر ان ادوار میں زیادہ واضح ہوتی ہے جب ملک آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل پیرا ہو۔</p>
<p>یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکومت کو پہلے ہی بجٹ میں طے شدہ ہدف سے زیادہ خسارے کا سامنا تھا، اسی لیے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے آغاز سے قبل ہی ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی شروع کردی گئی تھی۔ تاہم، رواں سال مارچ میں حکومت نے ایندھن کی سبسڈی کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی خاطر پی ایس ڈی پی میں مزید 100 ارب روپے کی کٹوتی کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے ایک کفایت شعاری پیکج کا بھی اعلان کیا ہے جس سے ہونے والی متوقع بچت شاید ضرورت سے زیادہ پرامید ہو، اگرچہ پی ایم آسٹیرٹی فنڈ قائم کر کے اس کی پہلی قسط کے طور پر 27 ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ فنڈ ایک بڑے معاشی پیکج کا حصہ ہے، تاہم تنازع کے خاتمے تک آئی ایم ایف کے تحفظات دور کرنے کے لیے شاید کچھ جدید اکاؤنٹنگ اقدامات کرنے کی ضرورت پڑے۔</p>
<p>مالیاتی گنجائش پیدا کرنے اور ساتھ ہی مقامی و بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے حکومت کو دو سے تین سال کے عرصے کے لیے اپنے موجودہ اخراجات  میں بڑی کٹوتی کرنی ہوگی۔ اس سے حکومت اور عوام دونوں کو تھوڑا ریلیف  ملے گا جس کے دوران ٹیکسوں میں اضافے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ایسی اصلاحات بھی لائی جائیں جو ٹیکس کے نظام کو منصفانہ، برابر اور نقائص سے پاک بنا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284499</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 11:47:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/01114631e43e64c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/01114631e43e64c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
