<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ضائع ہونے والی گیسوں سے ایل این جی تیار کرنے کے منصوبے کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284498/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس دریافت کرنے والی  کمپنیوں میں سے ایک، ماری انرجیز لمیٹڈ نے غنی کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (جی سی آئی ایل) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ایک اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) قائم کی جاسکے۔ اس منصوبے کا مقصد ضائع ہونے والی گیسوں کو تجارتی طور پر فروخت کے قابل مصنوعات، بشمول ایل این جی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لسٹڈ کمپنی نے اس اہم پیشرفت کے بارے میں اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق ماری انرجیز اور جی سی آئی ایل نے مشترکہ طور پر ایک پروجیکٹ کمپنی قائم کی ہے جس کا نام جی ایچ جی ایمیشنز مٹیگیشن لمیٹڈ (جی ای ایم) رکھا گیا ہے۔ اس کمپنی کا مقصد سچل گیس پروسیسنگ کمپلیکس (ایس جی پی سی) سے خارج ہونے والی گیسوں میں سے ہائیڈرو کاربنز کو دوبارہ حاصل کر کے میتھین کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ایل این جی کے ساتھ صنعتی اور فوڈ گریڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او 2) تیار کرکے اسے فروخت کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماری انرجیز نے آگاہ کیا کہ اس منصوبے کیلئے درکار فنڈز کا بندوبست اسپانسرز (شراکت داروں) کے حصص (ایکویٹی) اور حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ ابی ایل) کے ذریعے حاصل کردہ قرض  کے اشتراک سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں 31 مارچ 2026 کو اسلام آباد میں ماری انرجیز کے ہیڈ آفس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کو اس پروجیکٹ کے لیے فنڈز (پروجیکٹ فنانسنگ) فراہم کرنے کی باضابطہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈھرکی، سندھ میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے گیس فیلڈ (ماڑی گیس فیلڈ) کو چلانے کی بدولت، ماری انرجیز  ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کا ایک مربوط ادارہ ہے، جس کی کامیابی کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو کہ قومی سطح پر انڈسٹری کی اوسط شرح (33 فیصد) اور بین الاقوامی سطح کی اوسط (14 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماری انرجیز کے بڑے صارفین میں کھاد تیار کرنے والے کارخانے، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، گیس کی تقسیم کار کمپنیاں اور ریفائنریاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی سب سے بڑی تیل و گیس دریافت کرنے والی  کمپنیوں میں سے ایک، ماری انرجیز لمیٹڈ نے غنی کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ (جی سی آئی ایل) کے ساتھ شراکت داری کی ہے تاکہ ایک اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) قائم کی جاسکے۔ اس منصوبے کا مقصد ضائع ہونے والی گیسوں کو تجارتی طور پر فروخت کے قابل مصنوعات، بشمول ایل این جی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں تبدیل کرنا ہے۔</strong></p>
<p>لسٹڈ کمپنی نے اس اہم پیشرفت کے بارے میں اسٹاک ایکسچینج کو ایک نوٹس کے ذریعے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق ماری انرجیز اور جی سی آئی ایل نے مشترکہ طور پر ایک پروجیکٹ کمپنی قائم کی ہے جس کا نام جی ایچ جی ایمیشنز مٹیگیشن لمیٹڈ (جی ای ایم) رکھا گیا ہے۔ اس کمپنی کا مقصد سچل گیس پروسیسنگ کمپلیکس (ایس جی پی سی) سے خارج ہونے والی گیسوں میں سے ہائیڈرو کاربنز کو دوبارہ حاصل کر کے میتھین کے اخراج کو کم کرنا ہے۔ اس عمل کے ذریعے ایل این جی کے ساتھ صنعتی اور فوڈ گریڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ (سی او 2) تیار کرکے اسے فروخت کیا جائے گا۔</p>
<p>ماری انرجیز نے آگاہ کیا کہ اس منصوبے کیلئے درکار فنڈز کا بندوبست اسپانسرز (شراکت داروں) کے حصص (ایکویٹی) اور حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ ابی ایل) کے ذریعے حاصل کردہ قرض  کے اشتراک سے کیا جائے گا۔</p>
<p>اس سلسلے میں 31 مارچ 2026 کو اسلام آباد میں ماری انرجیز کے ہیڈ آفس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران حبیب بینک لمیٹڈ (ایچ بی ایل) کو اس پروجیکٹ کے لیے فنڈز (پروجیکٹ فنانسنگ) فراہم کرنے کی باضابطہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔</p>
<p>ڈھرکی، سندھ میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے گیس فیلڈ (ماڑی گیس فیلڈ) کو چلانے کی بدولت، ماری انرجیز  ملک میں قدرتی گیس پیدا کرنے والا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔</p>
<p>کمپنی تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کا ایک مربوط ادارہ ہے، جس کی کامیابی کی شرح تقریباً 70 فیصد ہے جو کہ قومی سطح پر انڈسٹری کی اوسط شرح (33 فیصد) اور بین الاقوامی سطح کی اوسط (14 فیصد) سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>ماری انرجیز کے بڑے صارفین میں کھاد تیار کرنے والے کارخانے، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں، گیس کی تقسیم کار کمپنیاں اور ریفائنریاں شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284498</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 11:31:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/011118342e3baa7.webp" type="image/webp" medium="image" height="701" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/011118342e3baa7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
