<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگ کے خاتمے کی امید، اسٹاک ایکسچینج میں تاریخی تیزی، انڈیکس 4.5 فیصد بڑھ گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284497/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کی امیدوں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں زبردست تیزی کا رجحان دوبارہ لوٹ آیا جس کے نتیجے میں بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4.5 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ابتدائی تجارت کے دوران ہی زبردست تیزی دیکھی گئی جو کہ بڑے پیمانے پر خریداری اور سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تیزی دوپہر کے آغاز تک برقرار رہی، دوپہر 12 بجے تک انڈیکس میں 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس غیر معمولی تیزی کی وجہ سے مارکیٹ ہالٹ نافذ کر دیا گیا اور حصص پر مبنی تمام مارکیٹوں کی لین دین معطل کردی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ایس ایکس کے نوٹس کے مطابق کے ایس ای-30 انڈیکس میں گزشتہ کاروباری دن کے اختتام کے مقابلے میں 5 فیصد اضافے کے باعث پی ایس ایکس قوانین کے تحت مارکیٹ ہالٹ نافذ کر دیا گیا اور اسی کے مطابق تمام ایکویٹی پر مبنی مارکیٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں ٹریڈنگ دوپہر 1 بج کر 8 منٹ پر دوبارہ شروع ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران دن کی بلند ترین سطح 157,347.17 پوائنٹس چھونے کے بعد مارکیٹ میں نمایاں کمی (پل بیک) دیکھی گئی لیکن اس کے باوجود مارکیٹ اپنے زیادہ تر اضافے (منافع) کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,768.25 پوائنٹس یا 4.55 فیصد اضافے سے 155,511.56 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپٹل کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی سرمایہ کاروں کے غیر معمولی جوش و خروش جذبے اور خوش آئند لہر کے باعث دیکھی جارہی ہے۔ ادارے کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی تناؤ میں کمی کی خبروں نے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر رسک آن رجحان کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ ٹرمپ کے غیر متوقع مصالحانہ بیانات کے باعث مارکیٹوں میں تیزی آئی، جس نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے شوق کو دوبارہ بیدار کیا اور پاکستان کی معاشی صورتحال کو وہ مہمیز فراہم کی جس کا اسے انتظار تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہمہ جہت تیزی کا تعلق سٹے بازی کے عارضی جوش و خروش کے بجائے حقیقی اور ٹھوس یقین سے ہے۔ ان سرمایہ کاروں کے لیے جنہوں نے کئی مہینوں کی محتاط خوش امیدی کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، آج کی صورتحال محض اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ مارکیٹ بالآخر ان بنیادی معاشی حقائق کے ہم پلہ ہو گئی ہے جو وہ کافی عرصے سے بیان کررہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ کئی روز کے مسلسل نقصانات کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھی گئی۔ اداروں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی خریداری کی بدولت انڈیکس میں بہتری آئی جبکہ مثبت میکرو اکنامک اشاروں اور کارپوریٹ شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,900.34 پوائنٹس یا 1.29 فیصد اضافے سے 148,743.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ تنازع میں کمی کی امیدوں کے باعث بدھ کو ایشیائی تجارتی سیشن کے آغاز پر اسٹاک اور بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب، مارچ کے لیے توقعات سے کہیں بہتر معاشی اعدادوشمار کے باعث جنوبی کوریا اور جاپان کے شیئرز میں بھی نمایاں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے مسلسل چار روز سے جاری گراوٹ کا سلسلہ تھم گیا۔ اس دوران جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد تک کی بڑی چھلانگ ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں بھی ایک موقع پر 3.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران پر اپنے فوجی حملے ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے تہران کا کسی معاہدے پر راضی ہونا لازمی شرط نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایکس (ٹویٹر) پر بتایا کہ صدر ٹرمپ بدھ کی رات 9 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6 بجے) قوم سے خطاب میں ایران کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اس پوسٹ کے بعد ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو وال اسٹریٹ پر شیئرز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ٹریڈرز جنگ کے خاتمے یا اس سے نکلنے کے ممکنہ راستے پر داؤ لگا رہے تھے جس کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 2.9 فیصد بڑھ گیا۔ دوسری جانب، ایشیا میں جب تجارت کا دوبارہ آغاز ہوا تو تیل کی منڈیاں کچھ دباؤ کا شکار رہیں تاہم برینٹ کروڈ فیوچرز 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 105.16 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس سے گزشتہ روز ہونے والی گراوٹ کا کچھ حد تک ازالہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 434.96 ملین شیئرز سے بڑھ کر 670.87 ملین تک پہنچ گیا۔شیئرز کی مالیت جو گزشتہ سیشن میں 22.54 ارب روپے تھی بڑھ کر 43.98 ارب روپے ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 78.57 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، بینک آف پنجاب (ایکس ڈی) 49.51 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور سینرجیکو پی کے 38.01 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 365 کمپنیوں کے نرخوں میں اضافہ، 67 میں کمی جبکہ 53 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت مستحکم رہی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/01182330b18359d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/01182330b18359d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کی امیدوں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں زبردست تیزی کا رجحان دوبارہ لوٹ آیا جس کے نتیجے میں بدھ کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4.5 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ابتدائی تجارت کے دوران ہی زبردست تیزی دیکھی گئی جو کہ بڑے پیمانے پر خریداری اور سرمایہ کاروں کے مضبوط اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>یہ تیزی دوپہر کے آغاز تک برقرار رہی، دوپہر 12 بجے تک انڈیکس میں 5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوگیا۔</p>
<p>اس غیر معمولی تیزی کی وجہ سے مارکیٹ ہالٹ نافذ کر دیا گیا اور حصص پر مبنی تمام مارکیٹوں کی لین دین معطل کردی گئی۔</p>
<p>پی ایس ایکس کے نوٹس کے مطابق کے ایس ای-30 انڈیکس میں گزشتہ کاروباری دن کے اختتام کے مقابلے میں 5 فیصد اضافے کے باعث پی ایس ایکس قوانین کے تحت مارکیٹ ہالٹ نافذ کر دیا گیا اور اسی کے مطابق تمام ایکویٹی پر مبنی مارکیٹس کو معطل کردیا گیا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں ٹریڈنگ دوپہر 1 بج کر 8 منٹ پر دوبارہ شروع ہو گئی۔</p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران دن کی بلند ترین سطح 157,347.17 پوائنٹس چھونے کے بعد مارکیٹ میں نمایاں کمی (پل بیک) دیکھی گئی لیکن اس کے باوجود مارکیٹ اپنے زیادہ تر اضافے (منافع) کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,768.25 پوائنٹس یا 4.55 فیصد اضافے سے 155,511.56 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بہتری کیپٹل کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں یہ تیزی سرمایہ کاروں کے غیر معمولی جوش و خروش جذبے اور خوش آئند لہر کے باعث دیکھی جارہی ہے۔ ادارے کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی تناؤ میں کمی کی خبروں نے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر رسک آن رجحان کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے کہا کہ ٹرمپ کے غیر متوقع مصالحانہ بیانات کے باعث مارکیٹوں میں تیزی آئی، جس نے ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سرمایہ کاری کے شوق کو دوبارہ بیدار کیا اور پاکستان کی معاشی صورتحال کو وہ مہمیز فراہم کی جس کا اسے انتظار تھا۔</p>
<p>انہوں نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ہمہ جہت تیزی کا تعلق سٹے بازی کے عارضی جوش و خروش کے بجائے حقیقی اور ٹھوس یقین سے ہے۔ ان سرمایہ کاروں کے لیے جنہوں نے کئی مہینوں کی محتاط خوش امیدی کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، آج کی صورتحال محض اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ مارکیٹ بالآخر ان بنیادی معاشی حقائق کے ہم پلہ ہو گئی ہے جو وہ کافی عرصے سے بیان کررہے تھے۔</p>
<p>گزشتہ کئی روز کے مسلسل نقصانات کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست ریکوری دیکھی گئی۔ اداروں اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی خریداری کی بدولت انڈیکس میں بہتری آئی جبکہ مثبت میکرو اکنامک اشاروں اور کارپوریٹ شعبے میں ہونے والی اہم پیش رفت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی۔</p>
<p>منگل کو بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,900.34 پوائنٹس یا 1.29 فیصد اضافے سے 148,743.32 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر ایران کے ساتھ تنازع میں کمی کی امیدوں کے باعث بدھ کو ایشیائی تجارتی سیشن کے آغاز پر اسٹاک اور بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب، مارچ کے لیے توقعات سے کہیں بہتر معاشی اعدادوشمار کے باعث جنوبی کوریا اور جاپان کے شیئرز میں بھی نمایاں بہتری آئی۔</p>
<p>جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک حصص کے وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا جس سے مسلسل چار روز سے جاری گراوٹ کا سلسلہ تھم گیا۔ اس دوران جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد تک کی بڑی چھلانگ ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں بھی ایک موقع پر 3.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا کہ امریکہ دو سے تین ہفتوں کے اندر ایران پر اپنے فوجی حملے ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تنازع کے خاتمے کے لیے تہران کا کسی معاہدے پر راضی ہونا لازمی شرط نہیں ہے۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے ایکس (ٹویٹر) پر بتایا کہ صدر ٹرمپ بدھ کی رات 9 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح 6 بجے) قوم سے خطاب میں ایران کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اس پوسٹ کے بعد ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>منگل کو وال اسٹریٹ پر شیئرز کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھا گیا کیونکہ ٹریڈرز جنگ کے خاتمے یا اس سے نکلنے کے ممکنہ راستے پر داؤ لگا رہے تھے جس کے باعث ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 2.9 فیصد بڑھ گیا۔ دوسری جانب، ایشیا میں جب تجارت کا دوبارہ آغاز ہوا تو تیل کی منڈیاں کچھ دباؤ کا شکار رہیں تاہم برینٹ کروڈ فیوچرز 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 105.16 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جس سے گزشتہ روز ہونے والی گراوٹ کا کچھ حد تک ازالہ ہوگیا۔</p>
<p>علاوہ ازیں آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 434.96 ملین شیئرز سے بڑھ کر 670.87 ملین تک پہنچ گیا۔شیئرز کی مالیت جو گزشتہ سیشن میں 22.54 ارب روپے تھی بڑھ کر 43.98 ارب روپے ہو گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 78.57 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، بینک آف پنجاب (ایکس ڈی) 49.51 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور سینرجیکو پی کے 38.01 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>بدھ کو مجموعی طور پر 485 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 365 کمپنیوں کے نرخوں میں اضافہ، 67 میں کمی جبکہ 53 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت مستحکم رہی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/01182330b18359d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/04/01182330b18359d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284497</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 18:36:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/01105307f8cec77.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/01105307f8cec77.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
