<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہرمز: تیل کی تباہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284496/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جب 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے تو عالمی توانائی منڈیاں شدید جھٹکوں کا شکار ہو گئیں اور یہ صورتحال جلد ہی حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ غیر مستحکم ادوار میں سے ایک بن گئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا عالمی توانائی سلامتی کا چیلنج قرار دیا، کیونکہ تنازع کے ابتدائی چند دنوں میں برینٹ کروڈ کی قیمت 10 سے 13 فیصد بڑھ کر تقریباً 80 سے 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ ابتدائی اضافہ صرف ابتدائی جھٹکا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے اہم موڑ آبنائے ہرمز کی بندش تھا۔ آئی ای اے نے اس واقعے کو عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی سپلائی رکاوٹ قرار دیا، جس میں ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جبکہ خلیجی ممالک کی پیداوار کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ تک گھٹ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے تنازع بڑھتا گیا، عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد حصے کی سپلائی متاثر ہوئی ۔ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہونے کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت جیسے بڑے خلیجی پیدا کنندگان کو عالمی ریفائنرز کو ترسیل روکنی پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے آغاز کے بعد قیمتوں کا ردعمل غیر معمولی رہا ہے۔ برینٹ کروڈ تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا اور جولائی 2008 میں ریکارڈ کیے گئے 147 ڈالر کے تاریخی بلند ترین سطح کے قریب آ گیا۔ صرف مارچ میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 55 فیصد اضافہ ہوا، جو 1988 میں اس کی تجارت کے آغاز کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ستمبر 1990 میں پہلی خلیجی جنگ کے دوران 46 فیصد اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ یکساں نہیں رہا۔ تیل کی قیمتیں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں اور دونوں سمتوں میں تیز تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ قیمتوں کے زیادہ نہ بڑھنے کی ایک وجہ واشنگٹن کی سیاسی بیانات ہیں۔ جب بھی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازع میں کمی آ سکتی ہے تو مارکیٹ میں نرمی دیکھی گئی، جسے ٹریڈرز جاوبونگ کہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی استحکام کی کوششوں کے باوجود ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بدترین صورتحال ابھی آ سکتی ہے۔ عالمی تیل سپلائی میں مزید کمی ہو سکتی ہے اور یہ تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بن سکتی ہے، خاص طور پر جب اسٹریٹجک ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں اور متبادل سپلائی بھی محدود ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ جمعہ کو 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا، جو جنگ سے پہلے تقریباً 70 ڈالر تھا۔ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کے تیل کے جھٹکے اکثر عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس بار اسٹیگ فلیشن یعنی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور معاشی نمو کے خدشات عالمی منظرنامے کا مرکزی حصہ بن رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس-یوکرین جنگ کے برعکس، جہاں توانائی کے جھٹکے کو کسی حد تک سنبھالا جا سکا، اس تنازع نے ایک گہرا مسئلہ ظاہر کیا ہے: دنیا اب بھی چند اہم تیل اور گیس راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اور جب وہ متاثر ہوتے ہیں تو متبادل محدود ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لیے تیل کی مارکیٹ صرف جنگ پر ردعمل نہیں دے رہی بلکہ اس خطرے پر بھی ردعمل دے رہی ہے کہ عالمی توانائی نظام شاید مستقل طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جب 28 فروری 2026 کو امریکی اور اسرائیلی افواج نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے تو عالمی توانائی منڈیاں شدید جھٹکوں کا شکار ہو گئیں اور یہ صورتحال جلد ہی حالیہ تاریخ کے سب سے زیادہ غیر مستحکم ادوار میں سے ایک بن گئی۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے اسے تاریخ کا سب سے بڑا عالمی توانائی سلامتی کا چیلنج قرار دیا، کیونکہ تنازع کے ابتدائی چند دنوں میں برینٹ کروڈ کی قیمت 10 سے 13 فیصد بڑھ کر تقریباً 80 سے 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تاہم یہ ابتدائی اضافہ صرف ابتدائی جھٹکا تھا۔</strong></p>
<p>سب سے اہم موڑ آبنائے ہرمز کی بندش تھا۔ آئی ای اے نے اس واقعے کو عالمی تیل مارکیٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی سپلائی رکاوٹ قرار دیا، جس میں ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ سے کم ہو کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی، جبکہ خلیجی ممالک کی پیداوار کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ تک گھٹ گئی۔</p>
<p>جیسے جیسے تنازع بڑھتا گیا، عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد حصے کی سپلائی متاثر ہوئی ۔ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا اور خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے۔ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہونے کے بعد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور کویت جیسے بڑے خلیجی پیدا کنندگان کو عالمی ریفائنرز کو ترسیل روکنی پڑی۔</p>
<p>جنگ کے آغاز کے بعد قیمتوں کا ردعمل غیر معمولی رہا ہے۔ برینٹ کروڈ تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا اور جولائی 2008 میں ریکارڈ کیے گئے 147 ڈالر کے تاریخی بلند ترین سطح کے قریب آ گیا۔ صرف مارچ میں برینٹ کی قیمت میں تقریباً 55 فیصد اضافہ ہوا، جو 1988 میں اس کی تجارت کے آغاز کے بعد سب سے بڑا ماہانہ اضافہ ہے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ ستمبر 1990 میں پہلی خلیجی جنگ کے دوران 46 فیصد اضافہ تھا۔</p>
<p>اس کے باوجود قیمتوں میں اضافہ یکساں نہیں رہا۔ تیل کی قیمتیں شدید اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہیں اور دونوں سمتوں میں تیز تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ قیمتوں کے زیادہ نہ بڑھنے کی ایک وجہ واشنگٹن کی سیاسی بیانات ہیں۔ جب بھی صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ تنازع میں کمی آ سکتی ہے تو مارکیٹ میں نرمی دیکھی گئی، جسے ٹریڈرز جاوبونگ کہتے ہیں۔</p>
<p>عارضی استحکام کی کوششوں کے باوجود ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بدترین صورتحال ابھی آ سکتی ہے۔ عالمی تیل سپلائی میں مزید کمی ہو سکتی ہے اور یہ تاریخ کی سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک بن سکتی ہے، خاص طور پر جب اسٹریٹجک ذخائر استعمال کیے جا رہے ہیں اور متبادل سپلائی بھی محدود ہو رہی ہے۔</p>
<p>برینٹ کروڈ جمعہ کو 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا، جو جنگ سے پہلے تقریباً 70 ڈالر تھا۔ ماہرین معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کے تیل کے جھٹکے اکثر عالمی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ اس بار اسٹیگ فلیشن یعنی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور معاشی نمو کے خدشات عالمی منظرنامے کا مرکزی حصہ بن رہے ہیں۔</p>
<p>روس-یوکرین جنگ کے برعکس، جہاں توانائی کے جھٹکے کو کسی حد تک سنبھالا جا سکا، اس تنازع نے ایک گہرا مسئلہ ظاہر کیا ہے: دنیا اب بھی چند اہم تیل اور گیس راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے، اور جب وہ متاثر ہوتے ہیں تو متبادل محدود ہوتے ہیں۔</p>
<p>اس لیے تیل کی مارکیٹ صرف جنگ پر ردعمل نہیں دے رہی بلکہ اس خطرے پر بھی ردعمل دے رہی ہے کہ عالمی توانائی نظام شاید مستقل طور پر تبدیل ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284496</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 11:30:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/011128536402777.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/011128536402777.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
