<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - BR Research</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آج کی سبسڈی، کل کا بحران</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284495/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیٹرولیم کی کھپت مارچ میں مجموعی طور پر تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی، کیونکہ مبینہ راشننگ کے باوجود کھپت میں کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل اثر قیمتوں کے ذریعے آنا چاہیے تھا، تاہم بین الاقوامی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق مقامی سطح پر نرخ تبدیل نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ درآمدی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ عالمی قیمتیں بلند ہیں اور مالیاتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومت اس وقت تقریباً 7 ارب روپے یومیہ سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جو کہ پورے سرکاری نظام کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محدود راستوں کے ذریعے سپلائی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کے پاس اتنی معاشی طاقت نہیں کہ وہ مسلسل مہنگی قیمتیں برداشت کر سکے، لیکن اس کے باوجود حکام نے یہ بوجھ براہ راست صارفین تک منتقل نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں گزشتہ بارہ ماہ کے دوران خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط ماہانہ درآمد تقریباً 900 ملین ڈالر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس میں مارچ میں  700 ملین ڈالر تک اضافہ ہوگا، جو درآمدی حجم اور قیمتوں کی بنیاد پر ہے۔ تاہم چونکہ ایل این جی کی درآمد نہیں ہو رہی (سپلائر کی عدم فراہمی کے باعث)، اس میں تقریباً 250 ملین ڈالر کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اضافی پیٹرولیم بل تقریباً 650 ملین ڈالر بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کی درآمدات کی ادائیگیاں اپریل میں ہوں گی، جس کے نتیجے میں اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 650 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، اگر باقی تمام عوامل کو مستقل سمجھا جائے۔ سالانہ بنیاد پر اس کا اثر تقریباً 8 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر (قرض شدہ) کا تقریباً نصف ہے۔ اس کا براہ راست اثر ادائیگیوں کے توازن پر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ پیٹرولیم ڈفرینشل کلیم ڈیزل پر 204 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر تقریباً 96 روپے فی لیٹر تک بڑھ چکا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کو منہا کرنے کے بعد اوسط سبسڈی تقریباً 139 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ طلب میں کسی کمی کے بغیر یہ سبسڈی تقریباً 7 ارب روپے یومیہ تک پہنچ جاتی ہے۔ کوئی بھی کفایت شعاری مہم اس خلا کو پورا نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیے کے مطابق ایک یا دو ماہ میں دوہرا خسارہ، یعنی کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارہ، قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ ذرائع کے مطابق حالیہ جائزے کی منظوری اس شرط سے مشروط ہے کہ قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر درآمدی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا تو انٹربینک مارکیٹ میں گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے، غیر ضروری درآمدات محدود کی جائیں گی، بلیک مارکیٹ پریمیم بڑھ سکتا ہے اور کرنسی پر دباؤ آئے گا۔ اس کے بعد بالآخر قیمتوں میں مزید اضافہ اور شرح سود میں اضافہ بھی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ 2008 اور 2022 کے بحران بھی انکار اور تاخیر کی پالیسیوں پر مبنی تھے۔ قلیل مدتی تکلیف سے بچنے کی کوشش نے بعد میں زیادہ بڑی اور طویل تکلیف پیدا کی۔ مہنگائی کا بوجھ بہرحال سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بنیادی پیغام یہ ہے کہ وہی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ یہ بوجھ صارفین تک منتقل کرے۔ قیمتیں بڑھانے سے مالی بوجھ براہ راست کم ہوتا ہے، پھر قیمتوں کی لچک اپنا کردار ادا کرتی ہے، صارفین کھپت کم کرتے ہیں اور درآمدی بل میں کمی آتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی واحد معقول راستہ ہے۔ جتنا جلد یہ کیا جائے اتنا بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیٹرولیم کی کھپت مارچ میں مجموعی طور پر تقریباً غیر تبدیل شدہ رہی، کیونکہ مبینہ راشننگ کے باوجود کھپت میں کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔</strong></p>
<p>اصل اثر قیمتوں کے ذریعے آنا چاہیے تھا، تاہم بین الاقوامی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق مقامی سطح پر نرخ تبدیل نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اس صورتحال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ درآمدی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ عالمی قیمتیں بلند ہیں اور مالیاتی خسارہ بھی بڑھ رہا ہے۔ حکومت اس وقت تقریباً 7 ارب روپے یومیہ سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جو کہ پورے سرکاری نظام کے اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔</p>
<p>پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محدود راستوں کے ذریعے سپلائی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ملک کے پاس اتنی معاشی طاقت نہیں کہ وہ مسلسل مہنگی قیمتیں برداشت کر سکے، لیکن اس کے باوجود حکام نے یہ بوجھ براہ راست صارفین تک منتقل نہیں کیا۔</p>
<p>پاکستان میں گزشتہ بارہ ماہ کے دوران خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط ماہانہ درآمد تقریباً 900 ملین ڈالر رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ اس میں مارچ میں  700 ملین ڈالر تک اضافہ ہوگا، جو درآمدی حجم اور قیمتوں کی بنیاد پر ہے۔ تاہم چونکہ ایل این جی کی درآمد نہیں ہو رہی (سپلائر کی عدم فراہمی کے باعث)، اس میں تقریباً 250 ملین ڈالر کی بچت بھی ہو سکتی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر اضافی پیٹرولیم بل تقریباً 650 ملین ڈالر بنتا ہے۔</p>
<p>مارچ کی درآمدات کی ادائیگیاں اپریل میں ہوں گی، جس کے نتیجے میں اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 650 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے، اگر باقی تمام عوامل کو مستقل سمجھا جائے۔ سالانہ بنیاد پر اس کا اثر تقریباً 8 ارب ڈالر تک جا سکتا ہے، جو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر (قرض شدہ) کا تقریباً نصف ہے۔ اس کا براہ راست اثر ادائیگیوں کے توازن پر پڑے گا۔</p>
<p>مالیاتی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ پیٹرولیم ڈفرینشل کلیم ڈیزل پر 204 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر تقریباً 96 روپے فی لیٹر تک بڑھ چکا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کو منہا کرنے کے بعد اوسط سبسڈی تقریباً 139 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ طلب میں کسی کمی کے بغیر یہ سبسڈی تقریباً 7 ارب روپے یومیہ تک پہنچ جاتی ہے۔ کوئی بھی کفایت شعاری مہم اس خلا کو پورا نہیں کر سکتی۔</p>
<p>تجزیے کے مطابق ایک یا دو ماہ میں دوہرا خسارہ، یعنی کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارہ، قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے، کیونکہ ذرائع کے مطابق حالیہ جائزے کی منظوری اس شرط سے مشروط ہے کہ قیمتوں کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائے۔</p>
<p>اگر درآمدی ادائیگیوں پر دباؤ بڑھا تو انٹربینک مارکیٹ میں گھبراہٹ پیدا ہو سکتی ہے، غیر ضروری درآمدات محدود کی جائیں گی، بلیک مارکیٹ پریمیم بڑھ سکتا ہے اور کرنسی پر دباؤ آئے گا۔ اس کے بعد بالآخر قیمتوں میں مزید اضافہ اور شرح سود میں اضافہ بھی ممکن ہے۔</p>
<p>یہ پہلی بار نہیں ہو رہا۔ 2008 اور 2022 کے بحران بھی انکار اور تاخیر کی پالیسیوں پر مبنی تھے۔ قلیل مدتی تکلیف سے بچنے کی کوشش نے بعد میں زیادہ بڑی اور طویل تکلیف پیدا کی۔ مہنگائی کا بوجھ بہرحال سب کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بنیادی پیغام یہ ہے کہ وہی غلطی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔</p>
<p>حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ یہ بوجھ صارفین تک منتقل کرے۔ قیمتیں بڑھانے سے مالی بوجھ براہ راست کم ہوتا ہے، پھر قیمتوں کی لچک اپنا کردار ادا کرتی ہے، صارفین کھپت کم کرتے ہیں اور درآمدی بل میں کمی آتی ہے۔</p>
<p>یہی واحد معقول راستہ ہے۔ جتنا جلد یہ کیا جائے اتنا بہتر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>BR Research</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284495</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 10:46:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ریسرچ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0110445942d927b.webp" type="image/webp" medium="image" height="453" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0110445942d927b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
