<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن نے صنعتی ٹیرف پیکیج کو بہتر بنانے کیلئے رائے طلب کرلی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے صنعتی شعبے سے تفصیلی تجاویز اور رائے طلب کی ہے تاکہ مجوزہ اختیاری صنعتی ٹیرف پیکیج کو بہتر بنایا جا سکے۔ صنعتی اسٹیک ہولڈرز نے موجودہ شکل میں اس اسکیم کو اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف نظام پر تین مشاورتی اجلاس مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان اجلاسوں کا مقصد ٹیرف اصلاحات کے لیے شفاف، جامع اور مشاورتی عمل کو یقینی بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اجلاسوں میں ملک بھر سے صنعتی نمائندوں نے شرکت کی جن میں ایف پی سی سی آئی، اپٹما، ایل سی سی آئی، کاٹی، سائٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز سمیت بڑے صنعتی صارفین اور میڈیا نمائندے شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے بتایا کہ تمام تجاویز کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ٹیرف ڈھانچے کو حتمی شکل دیتے وقت ان کو شامل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم زیادہ تر شرکا نے اس مجوزہ نظام کی مخالفت کی ہے جس میں فکسڈ چارجز بڑھانے اور ویری ایبل چارجز کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی چیمبر کی نمائندگی کرتے ہوئے تنویر باری نے مؤقف اختیار کیا کہ فکسڈ چارجز کا تعین منظور شدہ لوڈ کے بجائے حقیقی زیادہ سے زیادہ ڈیمانڈ انڈیکیٹر کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر متوقع حالات جیسے جنگ یا دیگر وجوہات کے باعث بند ہونے والی صنعتیں منظور شدہ لوڈ پر فکسڈ چارجز ادا نہیں کر سکتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فکسڈ چارجز کو کم سے کم رکھا جائے اور اسکیم سے اخراج اور شمولیت کی مدت زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق 45 فیصد یا اس سے کم لوڈ فیکٹر پر چلنے والی صنعتوں کے لیے یہ پیکیج فائدہ مند نہیں ہوگا، اس لیے اسے دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر نمائندوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ شکل میں یہ پیکیج صنعتی صارفین کو متوجہ نہیں کر سکے گا اور اس میں مزید نظرثانی ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ٹیرف اختیاری ہے اور صنعتیں اپنی ضروریات کے مطابق اسے اختیار کر سکتی ہیں۔ اجلاسوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے اسمارٹ میٹرنگ انفرااسٹرکچر ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے مطابق اگر صنعتیں یہ ریونیو نیوٹرل پیکیج اختیار کرتی ہیں تو لوڈ فیکٹر 70 فیصد تک بڑھنے کی صورت میں فی یونٹ 7 سے 8 روپے تک فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے صنعتی شعبے سے تفصیلی تجاویز اور رائے طلب کی ہے تاکہ مجوزہ اختیاری صنعتی ٹیرف پیکیج کو بہتر بنایا جا سکے۔ صنعتی اسٹیک ہولڈرز نے موجودہ شکل میں اس اسکیم کو اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق مجوزہ ملٹی سلیب ٹائم آف یوز صنعتی ٹیرف نظام پر تین مشاورتی اجلاس مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان اجلاسوں کا مقصد ٹیرف اصلاحات کے لیے شفاف، جامع اور مشاورتی عمل کو یقینی بنانا تھا۔</p>
<p>ان اجلاسوں میں ملک بھر سے صنعتی نمائندوں نے شرکت کی جن میں ایف پی سی سی آئی، اپٹما، ایل سی سی آئی، کاٹی، سائٹ ایسوسی ایشن اور پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز سمیت بڑے صنعتی صارفین اور میڈیا نمائندے شامل تھے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے بتایا کہ تمام تجاویز کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ٹیرف ڈھانچے کو حتمی شکل دیتے وقت ان کو شامل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>تاہم زیادہ تر شرکا نے اس مجوزہ نظام کی مخالفت کی ہے جس میں فکسڈ چارجز بڑھانے اور ویری ایبل چارجز کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>
<p>کراچی چیمبر کی نمائندگی کرتے ہوئے تنویر باری نے مؤقف اختیار کیا کہ فکسڈ چارجز کا تعین منظور شدہ لوڈ کے بجائے حقیقی زیادہ سے زیادہ ڈیمانڈ انڈیکیٹر کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر متوقع حالات جیسے جنگ یا دیگر وجوہات کے باعث بند ہونے والی صنعتیں منظور شدہ لوڈ پر فکسڈ چارجز ادا نہیں کر سکتیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فکسڈ چارجز کو کم سے کم رکھا جائے اور اسکیم سے اخراج اور شمولیت کی مدت زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکل ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق 45 فیصد یا اس سے کم لوڈ فیکٹر پر چلنے والی صنعتوں کے لیے یہ پیکیج فائدہ مند نہیں ہوگا، اس لیے اسے دوبارہ ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>دیگر نمائندوں نے بھی خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ شکل میں یہ پیکیج صنعتی صارفین کو متوجہ نہیں کر سکے گا اور اس میں مزید نظرثانی ضروری ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ٹیرف اختیاری ہے اور صنعتیں اپنی ضروریات کے مطابق اسے اختیار کر سکتی ہیں۔ اجلاسوں میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اس نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے اسمارٹ میٹرنگ انفرااسٹرکچر ضروری ہے۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے مطابق اگر صنعتیں یہ ریونیو نیوٹرل پیکیج اختیار کرتی ہیں تو لوڈ فیکٹر 70 فیصد تک بڑھنے کی صورت میں فی یونٹ 7 سے 8 روپے تک فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284493</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 10:16:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/0110144198ccea3.webp" type="image/webp" medium="image" height="661" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/0110144198ccea3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
