<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمینل آپریٹرز کو ایک ماہ میں پھنسے ہوئے سامان کی کلیئرنس کی ہدایت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284491/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت تجارت کے اسپیشل سیکریٹری سید حامد علی کی سربراہی میں حکومت اور نجی شعبے کے مشترکہ پینل نے ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت دی ہے کہ پھنسے ہوئے مال کو ایک ماہ کے اندر کسٹمز کی جانب سے مقرر کردہ مناسب ریزروڈ پرائس کے تحت نیلام یا فروخت کے ذریعے نمٹایا جائے۔ یہ قیمت مخلوط کنسائنمنٹس یا انفرادی اشیاء کے لیے کسٹمز طے کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ بندرگاہوں پر ہزاروں کنٹینرز کے پھنسے ہونے کے مسئلے کے پیش نظر کیا گیا ہے جن کی فوری کلیئرنس ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ نیشنل لاجسٹکس سیل اور ٹرمینل آپریٹرز تمام پھنسے ہوئے کنٹینرز، بشمول افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان، کو 30 دن کے اندر آف ڈاک سہولیات جیسے اسکائی میڈیا ٹرمینل، الحمد ٹرمینل، نادرن بائی پاس اور دیگر منظور شدہ مقامات پر منتقل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کسٹمز ان کنٹینرز کو دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت بھی دے گا جن کے لیے گڈز ڈیکلریشن جمع نہیں کرایا گیا، اور یہ عمل بھی 30 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز سے تفصیلی شفٹنگ پلان حاصل کرے اور ہفتے کے آخر تک ذیلی کمیٹی اور کسٹمز کے ساتھ شیئر کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر شپنگ لائنز کو کنٹینرز کی ہٹانے کی اجازت دے سکے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والے کنٹینرز کو متعلقہ قواعد کے مطابق دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتقلی کے بعد کسٹمز کو قانونی گنجائش کے تحت ایک ماہ کے اندر ان تمام کنٹینرز کو نمٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر کسٹمز کو کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ افسران کی کارکردگی کی نگرانی کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینل نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو معیاری آپریٹنگ طریقہ کار تیار کرے تاکہ بندرگاہوں اور دیگر اسٹیشنز پر نیلامی کے قابل سامان کی بروقت نگرانی ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ ایف بی آر وزارت تجارت سے ان کنٹینرز کی فہرست شیئر کرے گا جن کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے، جبکہ بندرگاہی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کنٹینرز ہٹانے کے لیے مخصوص علاقے مختص کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر ریزروڈ پرائس میکانزم کے تحت فوری طور پر سامان کی کلیئرنس یقینی بنائیں۔ کمیٹی اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے منصوبہ اور نگرانی کا نظام بھی تیار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت تجارت کے اسپیشل سیکریٹری سید حامد علی کی سربراہی میں حکومت اور نجی شعبے کے مشترکہ پینل نے ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت دی ہے کہ پھنسے ہوئے مال کو ایک ماہ کے اندر کسٹمز کی جانب سے مقرر کردہ مناسب ریزروڈ پرائس کے تحت نیلام یا فروخت کے ذریعے نمٹایا جائے۔ یہ قیمت مخلوط کنسائنمنٹس یا انفرادی اشیاء کے لیے کسٹمز طے کرے گا۔</strong></p>
<p>یہ فیصلہ بندرگاہوں پر ہزاروں کنٹینرز کے پھنسے ہونے کے مسئلے کے پیش نظر کیا گیا ہے جن کی فوری کلیئرنس ضروری ہے۔</p>
<p>پینل نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ نیشنل لاجسٹکس سیل اور ٹرمینل آپریٹرز تمام پھنسے ہوئے کنٹینرز، بشمول افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان، کو 30 دن کے اندر آف ڈاک سہولیات جیسے اسکائی میڈیا ٹرمینل، الحمد ٹرمینل، نادرن بائی پاس اور دیگر منظور شدہ مقامات پر منتقل کریں گے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کسٹمز ان کنٹینرز کو دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت بھی دے گا جن کے لیے گڈز ڈیکلریشن جمع نہیں کرایا گیا، اور یہ عمل بھی 30 دن کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹرمینل آپریٹرز سے تفصیلی شفٹنگ پلان حاصل کرے اور ہفتے کے آخر تک ذیلی کمیٹی اور کسٹمز کے ساتھ شیئر کرے۔</p>
<p>فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر شپنگ لائنز کو کنٹینرز کی ہٹانے کی اجازت دے سکے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت آنے والے کنٹینرز کو متعلقہ قواعد کے مطابق دوبارہ برآمد کرنے کی اجازت ہوگی۔</p>
<p>منتقلی کے بعد کسٹمز کو قانونی گنجائش کے تحت ایک ماہ کے اندر ان تمام کنٹینرز کو نمٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ممبر کسٹمز کو کہا گیا ہے کہ وہ متعلقہ افسران کی کارکردگی کی نگرانی کریں۔</p>
<p>پینل نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو معیاری آپریٹنگ طریقہ کار تیار کرے تاکہ بندرگاہوں اور دیگر اسٹیشنز پر نیلامی کے قابل سامان کی بروقت نگرانی ممکن ہو سکے۔</p>
<p>اس کے علاوہ ایف بی آر وزارت تجارت سے ان کنٹینرز کی فہرست شیئر کرے گا جن کے لیے خصوصی اجازت درکار ہے، جبکہ بندرگاہی حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کنٹینرز ہٹانے کے لیے مخصوص علاقے مختص کریں۔</p>
<p>ٹرمینل آپریٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر ریزروڈ پرائس میکانزم کے تحت فوری طور پر سامان کی کلیئرنس یقینی بنائیں۔ کمیٹی اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے منصوبہ اور نگرانی کا نظام بھی تیار کرے گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284491</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 09:57:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/010955432be11c8.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/010955432be11c8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
