<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 09:40:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 09:40:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فروری 2026 تک گردشی قرضہ 1.8 کھرب روپے تک پہنچ گیا، پاور ڈویژن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284486/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ فروری 2026 تک گردشی قرضے کا حجم 1,837 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جون 2025 کے بعد اس میں ہونے والا اضافہ عارضی قرار دیا گیا ہے، جو بنیادی طور پر ادائیگیوں کے وقت کے فرق کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق گردشی قرضے کا بہاؤ مقررہ اہداف کے اندر ہے اور مالی سال کے اختتام تک اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی توقع ہے، جیسا کہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان میں طے کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کے موسمی یا ماہانہ اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہیں اور اس کا صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈسکوز کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران نااہلیوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 48 ارب روپے کی کمی ہوئی، جو بہتر آپریشنل کارکردگی، مضبوط گورننس اور مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان کے مطابق پاور سیکٹر کا بجٹ 893 ارب روپے پر برقرار ہے، جیسا کہ حکومت نے پہلے منظور کیا تھا، اور کوئی اضافی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کی گئی۔ جون 2027 کے لیے گردشی قرضے میں کمی، وصولیوں اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اہداف زیر غور ہیں اور ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمام انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز، بشمول سی پیک کے تحت کام کرنے والے منصوبوں کو ادائیگیاں مرکزی پول سے ان کے مقررہ حقوق کے مطابق باقاعدگی سے کی جا رہی ہیں، جس میں کسی قسم کی ترجیحی سلوک نہیں برتا جا رہا۔ حکومت نے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کے تحت آئندہ چھ سال میں بغیر بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اس مسئلے کو ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ بنیادی نوعیت کی اصلاحات پر مبنی ہے، جن کا مقصد نااہلیوں کی جڑ کو ختم کرنا اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی مالی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پیر کے روز جب بزنس ریکارڈر کے نمائندے نے گردشی قرضے کے اعداد و شمار طلب کیے تو پاور ڈویژن کے ترجمان نے معلومات فراہم نہیں کیں۔ منگل کو نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران بھی پی پی ایم سی کے چیف فنانشل آفیسر نے بتایا کہ گردشی قرضے کے حتمی اعداد و شمار ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا ہے کہ فروری 2026 تک گردشی قرضے کا حجم 1,837 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ جون 2025 کے بعد اس میں ہونے والا اضافہ عارضی قرار دیا گیا ہے، جو بنیادی طور پر ادائیگیوں کے وقت کے فرق کی وجہ سے سامنے آیا ہے۔</strong></p>
<p>بیان کے مطابق گردشی قرضے کا بہاؤ مقررہ اہداف کے اندر ہے اور مالی سال کے اختتام تک اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی توقع ہے، جیسا کہ سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان میں طے کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کے موسمی یا ماہانہ اتار چڑھاؤ معمول کا حصہ ہیں اور اس کا صارفین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔</p>
<p>پاور ڈویژن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ڈسکوز کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ جولائی 2025 سے فروری 2026 کے دوران نااہلیوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 48 ارب روپے کی کمی ہوئی، جو بہتر آپریشنل کارکردگی، مضبوط گورننس اور مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ترجمان کے مطابق پاور سیکٹر کا بجٹ 893 ارب روپے پر برقرار ہے، جیسا کہ حکومت نے پہلے منظور کیا تھا، اور کوئی اضافی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہیں کی گئی۔ جون 2027 کے لیے گردشی قرضے میں کمی، وصولیوں اور ٹرانسمیشن و ڈسٹری بیوشن نقصانات کے اہداف زیر غور ہیں اور ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔</p>
<p>تمام انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز، بشمول سی پیک کے تحت کام کرنے والے منصوبوں کو ادائیگیاں مرکزی پول سے ان کے مقررہ حقوق کے مطابق باقاعدگی سے کی جا رہی ہیں، جس میں کسی قسم کی ترجیحی سلوک نہیں برتا جا رہا۔ حکومت نے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کے تحت آئندہ چھ سال میں بغیر بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اس مسئلے کو ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔</p>
<p>یہ منصوبہ بنیادی نوعیت کی اصلاحات پر مبنی ہے، جن کا مقصد نااہلیوں کی جڑ کو ختم کرنا اور پاور سیکٹر کی طویل مدتی مالی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>تاہم پیر کے روز جب بزنس ریکارڈر کے نمائندے نے گردشی قرضے کے اعداد و شمار طلب کیے تو پاور ڈویژن کے ترجمان نے معلومات فراہم نہیں کیں۔ منگل کو نیپرا میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران بھی پی پی ایم سی کے چیف فنانشل آفیسر نے بتایا کہ گردشی قرضے کے حتمی اعداد و شمار ابھی مکمل طور پر طے نہیں ہوئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284486</guid>
      <pubDate>Wed, 01 Apr 2026 09:11:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/04/01090834588a3de.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/04/01090834588a3de.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
