<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:32:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور چین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے 5 نکاتی منصوبے کی تجویز پیش کردی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284480/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی ہے جبکہ اس دوران پاکستان اور چین نے منگل کے روز خلیج اور وسیع مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار ایک روزہ سرکاری دورے پر چین میں ہیں، جس کی دعوت وانگ یی نے دی تھی، اور اس دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے اور عالمی امور پر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اسحاق ڈار کا رواں سال بیجنگ کا دوسرا دورہ ہے اور اس سے قبل ہی انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک چار فریقی اجلاس کی صدارت کی تھی تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی، جو سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن بھی ہیں، نے بیجنگ میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ نکاتی اقدام مشترکہ طور پر پیش کیا۔ پانچ نکات درج ذیل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فوری جنگ بندی&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;دونوں ممالک نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کی مدد کو تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مذاکرات کا جلد از جلد آغاز&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;دونوں فریقین نے ایران اور خلیج ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کے تحفظ پر زور دیا اور دہرایا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔ انہوں نے امن مذاکرات کے جلد آغاز کی حمایت کی، جس میں تمام فریقین نے طاقت کے استعمال یا اس کے خدشے سے گریز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;بیان میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی پر زور دیا گیا اور تمام فریقین سے کہا گیا کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے روکیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے وسائل، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی کے اسٹیشنز اور پرامن جوہری مقامات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سمندری راستوں کی حفاظت&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں فریقین نے اس علاقے میں جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تجارتی شپنگ کے لیے سمندری آمد و رفت کی بحالی اور محفوظ گذرگاہ کے جلد از جلد قیام پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پانچ نکاتی اقدام میں کثیر الجہتی نظام کو مضبوط کرنے اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق جامع امن فریم ورک کے قیام کی کوششوں کی حمایت کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پاکستان اور چین کو ”تمام موسموں کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس دورے سے اسٹریٹجک رابطے مزید مضبوط ہوں گے، خاص طور پر ایران سے متعلق پیش رفت پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی سفارتی کوششیں&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;یہ سفارتی اقدام امریکی-اسرائیلی حملوں اور بعد میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں وسیع تنازع کے خدشات بڑھا دیے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر ڈالا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ چار فریقی اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد میں امریکی-ایران مذاکرات کے امکان کی حمایت کی اور اعلیٰ حکام کی ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا تاکہ طریقہ کار طے کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دوہرایا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کا واحد عملی راستہ مذاکرات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ دنوں میں دار اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت، بشمول صدر مسعود پزیشکین اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دار نے کہا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے اعتماد کی قدر کرتا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;’مذاکرات ایک تدریجی عمل ہیں‘&lt;/strong&gt;&lt;br&gt;پاکستان کے سفیر برائے امریکہ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مذاکرات ضروری ہیں، حالانکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ”مذاکرات وقت اور صبر لیتے ہیں، لیکن خطے کے استحکام کے مفاد میں پیش رفت کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔“ انہوں نے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر امید کا اظہار بھی کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ یی سے ملاقات کی ہے جبکہ اس دوران پاکستان اور چین نے منگل کے روز خلیج اور وسیع مشرق وسطیٰ میں ابھرتے ہوئے حالات کا جائزہ لینے کے لیے 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسحاق ڈار ایک روزہ سرکاری دورے پر چین میں ہیں، جس کی دعوت وانگ یی نے دی تھی، اور اس دوران دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور خطے اور عالمی امور پر باہمی دلچسپی کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p>یہ اسحاق ڈار کا رواں سال بیجنگ کا دوسرا دورہ ہے اور اس سے قبل ہی انہوں نے سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ایک چار فریقی اجلاس کی صدارت کی تھی تاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے طریقے تلاش کیے جا سکیں۔</p>
<p>وزارت خارجہ کے مطابق وانگ یی، جو سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن بھی ہیں، نے بیجنگ میں اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جہاں دونوں فریقین نے خلیج اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پانچ نکاتی اقدام مشترکہ طور پر پیش کیا۔ پانچ نکات درج ذیل ہیں:</p>
<p><strong>فوری جنگ بندی</strong><br>دونوں ممالک نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کی مدد کو تمام متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔</p>
<p><strong>مذاکرات کا جلد از جلد آغاز</strong><br>دونوں فریقین نے ایران اور خلیج ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیکیورٹی کے تحفظ پر زور دیا اور دہرایا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد مؤثر راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔ انہوں نے امن مذاکرات کے جلد آغاز کی حمایت کی، جس میں تمام فریقین نے طاقت کے استعمال یا اس کے خدشے سے گریز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p><strong>شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کا تحفظ</strong><br>بیان میں بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی پر زور دیا گیا اور تمام فریقین سے کہا گیا کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے روکیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے وسائل، پانی صاف کرنے کے پلانٹس، بجلی کے اسٹیشنز اور پرامن جوہری مقامات سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔</p>
<p><strong>سمندری راستوں کی حفاظت</strong><br>آبنائے ہرمز کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دونوں فریقین نے اس علاقے میں جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تجارتی شپنگ کے لیے سمندری آمد و رفت کی بحالی اور محفوظ گذرگاہ کے جلد از جلد قیام پر زور دیا۔</p>
<p><strong>اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری</strong><br>پانچ نکاتی اقدام میں کثیر الجہتی نظام کو مضبوط کرنے اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کو مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق جامع امن فریم ورک کے قیام کی کوششوں کی حمایت کی گئی۔</p>
<p>چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے پاکستان اور چین کو ”تمام موسموں کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر قریبی ہم آہنگی برقرار رکھتے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس دورے سے اسٹریٹجک رابطے مزید مضبوط ہوں گے، خاص طور پر ایران سے متعلق پیش رفت پر۔</p>
<p><strong>پاکستان کی سفارتی کوششیں</strong><br>یہ سفارتی اقدام امریکی-اسرائیلی حملوں اور بعد میں ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آیا، جس نے خطے میں وسیع تنازع کے خدشات بڑھا دیے اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثر ڈالا۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ حالیہ چار فریقی اجلاس کے شرکاء نے اسلام آباد میں امریکی-ایران مذاکرات کے امکان کی حمایت کی اور اعلیٰ حکام کی ایک کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا تاکہ طریقہ کار طے کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے دوہرایا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور دیرپا امن کو یقینی بنانے کا واحد عملی راستہ مذاکرات ہیں۔</p>
<p>حالیہ دنوں میں دار اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی قیادت، بشمول صدر مسعود پزیشکین اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ رابطے کو برقرار رکھا گیا۔</p>
<p>دار نے کہا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے اعتماد کی قدر کرتا ہے اور دونوں فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p><strong>’مذاکرات ایک تدریجی عمل ہیں‘</strong><br>پاکستان کے سفیر برائے امریکہ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مذاکرات ضروری ہیں، حالانکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے۔</p>
<p>انہوں نے فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ”مذاکرات وقت اور صبر لیتے ہیں، لیکن خطے کے استحکام کے مفاد میں پیش رفت کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔“ انہوں نے جاری کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر امید کا اظہار بھی کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284480</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 20:10:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/3119554402da739.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/3119554402da739.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
