<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:29:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:29:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں خریداری کا رجحان، شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود 100 انڈیکس میں 1,900 پوائنٹس کا اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284453/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت کے دباؤ کے ایک دن بعد منگل کو خریداری کا رحجان دوبارہ لوٹ آیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس 147,743.67 کی نچلی سطح تک گرا، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول یا محتاط رویے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ تاہم یہ گراوٹ عارضی ثابت ہوئی اور خریداروں کی فوری واپسی نے انڈیکس کو دوبارہ 149,000 کی سطح کی جانب دھکیل دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر ایک بجے کے بعد مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس کے دوران انڈیکس 150,000 کی نفسیاتی حد عبور کر کے 150,225.63 کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ البتہ بلند سطح پر یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور آخری گھنٹے میں انڈیکس میں کچھ کمی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,900.34 پوائنٹس یا 1.29 فیصد اضافے کے ساتھ 148,743.31 کی سطح پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل کے مطابق رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے پر آمادگی کا اشارہ دے رہے ہیں، چاہے آبنائے ہرمز جزوی طور پر ہی کیوں نہ کھلے۔ ادارے نے مزید کہا کہ کشیدگی میں کمی کے اس اشارے نے امریکی فیوچرز مارکیٹ کو اوپر بھیج دیا ہے اور بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ کے مقامی خدشات کو کسی حد تک ختم کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک روز قبل پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ میں رہی اور مسلسل چوتھے پیر کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور محتاط سرمایہ کاری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 4864.54 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کمی کے بعد 146842.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈیوں میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر ریکارڈ اضافے کی طرف گامزن رہیں جبکہ ایشیائی حصص 2022 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث افراط زر میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کے خدشات نے عالمی مارکیٹس کو متاثر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈز میں بھی گزشتہ کئی ماہ کی سب سے بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ شرح سود کے حوالے سے عالمی معاشی منظرنامہ سخت ہوتا جا رہا ہے جبکہ ڈالر نے آٹھ ماہ میں اپنی سب سے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے ایک ماہ بعد بھی سرمایہ کار مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مارکیٹس میں کچھ بہتری اس وقت دیکھنے میں آئی جب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فیوچرز نے ابتدائی کمی کے بعد بہتری دکھائی، جہاں ناسڈاک فیوچرز میں 0.34 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.15 فیصد اور ڈیکس فیوچرز 0.26 فیصد اوپر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک حصص کا وسیع تر انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.55 فیصد کمی کے ساتھ بند ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ستمبر 2022 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ کمی ریکارڈ کرنے کے راستے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکی انڈیکس 0.93 فیصد نیچے آیا اور اس ماہ 12.6 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 17 فیصد سے زائد ماہانہ کمی کی طرف جا رہا ہے جو 2008 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں  ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے کے بعد 279 روپے 15 پیسے پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تمام شیئرز کے انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 52 کروڑ 91 لاکھ شیئرز سے کم ہو کر 43 کروڑ 49 لاکھ شیئرز رہا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 29 ارب 60 کروڑ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 22 ارب 54 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے الیکٹرک لمیٹڈ 4 کروڑ 69 لاکھ شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد دوست اسٹیلز لمیٹڈ 3 کروڑ 61 لاکھ اور ورلڈ کال ٹیلی کام 2 کروڑ 79 لاکھ شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 281 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 137 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 61 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3118145884209b7.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3118145884209b7.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت کے دباؤ کے ایک دن بعد منگل کو خریداری کا رحجان دوبارہ لوٹ آیا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,900 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کا آغاز مندی کے ساتھ ہوا اور انڈیکس 147,743.67 کی نچلی سطح تک گرا، جو سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع کے حصول یا محتاط رویے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ تاہم یہ گراوٹ عارضی ثابت ہوئی اور خریداروں کی فوری واپسی نے انڈیکس کو دوبارہ 149,000 کی سطح کی جانب دھکیل دیا۔</p>
<p>دوپہر ایک بجے کے بعد مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جس کے دوران انڈیکس 150,000 کی نفسیاتی حد عبور کر کے 150,225.63 کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ البتہ بلند سطح پر یہ تیزی برقرار نہ رہ سکی اور آخری گھنٹے میں انڈیکس میں کچھ کمی دیکھی گئی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,900.34 پوائنٹس یا 1.29 فیصد اضافے کے ساتھ 148,743.31 کی سطح پر بند ہوا۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل کے مطابق رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے پر آمادگی کا اشارہ دے رہے ہیں، چاہے آبنائے ہرمز جزوی طور پر ہی کیوں نہ کھلے۔ ادارے نے مزید کہا کہ کشیدگی میں کمی کے اس اشارے نے امریکی فیوچرز مارکیٹ کو اوپر بھیج دیا ہے اور بڑے پیمانے پر علاقائی جنگ کے مقامی خدشات کو کسی حد تک ختم کر دیا ہے۔</p>
<p>اس سے ایک روز قبل پیر کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج شدید فروخت کے دباؤ میں رہی اور مسلسل چوتھے پیر کو خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور محتاط سرمایہ کاری کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 4864.54 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کمی کے بعد 146842.97 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>عالمی منڈیوں میں منگل کے روز تیل کی قیمتیں ماہانہ بنیادوں پر ریکارڈ اضافے کی طرف گامزن رہیں جبکہ ایشیائی حصص 2022 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ کمی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث افراط زر میں اضافے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہونے کے خدشات نے عالمی مارکیٹس کو متاثر کیا۔</p>
<p>بانڈز میں بھی گزشتہ کئی ماہ کی سب سے بڑی کمی دیکھی جا رہی ہے کیونکہ شرح سود کے حوالے سے عالمی معاشی منظرنامہ سخت ہوتا جا رہا ہے جبکہ ڈالر نے آٹھ ماہ میں اپنی سب سے مضبوط کارکردگی دکھائی ہے۔</p>
<p>جنگ کے ایک ماہ بعد بھی سرمایہ کار مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں کیونکہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>تاہم مارکیٹس میں کچھ بہتری اس وقت دیکھنے میں آئی جب وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی مہم ختم کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند ہی کیوں نہ رہے۔</p>
<p>امریکی فیوچرز نے ابتدائی کمی کے بعد بہتری دکھائی، جہاں ناسڈاک فیوچرز میں 0.34 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.15 فیصد اور ڈیکس فیوچرز 0.26 فیصد اوپر گئے۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک حصص کا وسیع تر انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.55 فیصد کمی کے ساتھ بند ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے اور ستمبر 2022 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ کمی ریکارڈ کرنے کے راستے پر ہے۔</p>
<p>جاپان کا نکی انڈیکس 0.93 فیصد نیچے آیا اور اس ماہ 12.6 فیصد کمی کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 17 فیصد سے زائد ماہانہ کمی کی طرف جا رہا ہے جو 2008 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا منگل کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں  ڈالر کے مقابلے میں  روپے کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے کے بعد 279 روپے 15 پیسے پر بند ہوئی۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تمام شیئرز کے انڈیکس میں تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 52 کروڑ 91 لاکھ شیئرز سے کم ہو کر 43 کروڑ 49 لاکھ شیئرز رہا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 29 ارب 60 کروڑ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 22 ارب 54 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>کے الیکٹرک لمیٹڈ 4 کروڑ 69 لاکھ شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا، جس کے بعد دوست اسٹیلز لمیٹڈ 3 کروڑ 61 لاکھ اور ورلڈ کال ٹیلی کام 2 کروڑ 79 لاکھ شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>منگل کو مجموعی طور پر 479 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 281 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 137 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 61 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3118145884209b7.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2026/03/3118145884209b7.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284453</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 18:53:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/311043016938b6a.webp" type="image/webp" medium="image" height="755" width="1200">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/311043016938b6a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
