<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 22:55:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دبئی کے قریب بڑے آئل ٹینکر پر ایرانی حملہ، جہاز آگ کی لپیٹ میں آگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284444/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران خلیج میں ایک اور بڑا واقعہ پیش آیا، جب ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے دبئی کے قریب ایک مکمل طور پر تیل سے بھرا آئل ٹینکر حملے کا نشانہ بنا کر آگ لگا دی۔ کویت کے جھنڈے تلے چلنے والے ٹینکر السلمی، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس حملے کے بعد شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے تیل کے کنوؤں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکہ-ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کویت پٹرولیم کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ ٹینکر کو نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تیل کے ممکنہ اخراج کا خطرہ بھی موجود ہے، تاہم دبئی حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اس تنازع نے عالمی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت تین سال کی بلند ترین سطح عبور کر کے 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عوامی اخراجات اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے تہران اور بیروت میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے بھی اپنے فوجی دستے مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران خلیج میں ایک اور بڑا واقعہ پیش آیا، جب ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے دبئی کے قریب ایک مکمل طور پر تیل سے بھرا آئل ٹینکر حملے کا نشانہ بنا کر آگ لگا دی۔ کویت کے جھنڈے تلے چلنے والے ٹینکر السلمی، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس حملے کے بعد شعلوں کی لپیٹ میں آ گیا۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس واقعے کے بعد ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکہ ایران کے تیل کے کنوؤں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دے گا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی گزرتی ہے۔</p>
<p>یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب گزشتہ ایک ماہ سے جاری امریکہ-ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کویت پٹرولیم کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ ٹینکر کو نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تیل کے ممکنہ اخراج کا خطرہ بھی موجود ہے، تاہم دبئی حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔</p>
<p>دوسری جانب اس تنازع نے عالمی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ امریکہ میں پیٹرول کی قیمت تین سال کی بلند ترین سطح عبور کر کے 4 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے، جس سے عوامی اخراجات اور سیاسی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>ادھر خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جبکہ اسرائیل نے تہران اور بیروت میں اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکہ نے بھی اپنے فوجی دستے مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں، جس سے بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284444</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Mar 2026 09:00:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/3108590295a3687.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/3108590295a3687.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
