<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کا ’جھٹکا‘ کئی معیشتوں کے امکانات کو دھندلا رہا ہے، آئی ایم ایف کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284442/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے فرنٹ لائن ممالک کی معیشتوں کو شدید متاثر کیا ہے اور ان معیشتوں کے امکانات کو بھی دھندلا دیا ہے جو گزشتہ بحرانوں سے سنبھلنا شروع ہی ہوئی تھیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ ماہرین کی جانب سے جاری بلاگ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ نے عالمی سطح پر غیر متوازن جھٹکا پیدا کیا ہے اور مالیاتی حالات کو مزید سخت بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے کے انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی تیل منڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کیا، کیونکہ دنیا کے تقریباً 25 سے 30 فیصد تیل اور 20 فیصد مائع قدرتی گیس اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز تیل کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر ریکارڈ اضافے کی جانب گامزن تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کے اثرات کا انحصار اس کے دورانیے، پھیلاؤ اور انفرااسٹرکچر و سپلائی چینز کو پہنچنے والے نقصان پر ہوگا، جبکہ ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس جھٹکے سے نمٹنے کے لیے اپنے اقدامات نہایت احتیاط سے ترتیب دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ نے کہا کہ وہ رکن ممالک کو ضرورت کے مطابق پالیسی مشاورت اور مالی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے، اور یہ عمل عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی میں جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب جی سیون ممالک کے مالیاتی رہنماؤں نے کہا کہ وہ توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانے اور حالیہ اتار چڑھاؤ کے وسیع تر معاشی اثرات کو محدود کرنے کے لیے ”تمام ضروری اقدامات“ کرنے کو تیار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل رواں ماہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے بلاگ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک کو خوراک کے عدم تحفظ کا خاص خطرہ لاحق ہے، کیونکہ خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایسے وقت میں انہیں مزید بیرونی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے جب کئی ترقی یافتہ معیشتیں اپنی بین الاقوامی معاونت کم کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے لکھا ہے کہ ”اگرچہ یہ جنگ عالمی معیشت کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے، لیکن ہر راستہ بالآخر مہنگائی میں اضافے اور معاشی سست روی کی طرف ہی جاتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا اور یورپ کے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک ایندھن اور دیگر لاگتوں میں اضافے کا زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں، جبکہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک کو مہنگی قیمتوں پر بھی ضروری سپلائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق طویل جنگ، غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خطرات توانائی کی قیمتوں کو بلند رکھ سکتے ہیں اور درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جبکہ کشیدگی برقرار رہنے سے مہنگائی پر قابو پانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے کہا کہ وہ اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ اپنی رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں پیش کرے گا، جو 14 اپریل کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بہاری اجلاسوں کے دوران جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مصنفین نے خبردار کیا کہ اگر توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں برقرار رہیں تو یہ عالمی سطح پر مہنگائی کو مزید ہوا دیں گی، اور تاریخی طور پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی بڑھانے اور شرح نمو کم کرنے کا باعث بنتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ اس توقع کو بھی تقویت دے سکتی ہے کہ مہنگائی طویل عرصے تک بلند رہے گی، جس کے نتیجے میں اجرتوں اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور یوں اس جھٹکے پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا جب تک کہ معاشی رفتار میں نمایاں سست روی نہ آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے فرنٹ لائن ممالک کی معیشتوں کو شدید متاثر کیا ہے اور ان معیشتوں کے امکانات کو بھی دھندلا دیا ہے جو گزشتہ بحرانوں سے سنبھلنا شروع ہی ہوئی تھیں۔</strong></p>
<p>عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ ماہرین کی جانب سے جاری بلاگ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی اس جنگ نے عالمی سطح پر غیر متوازن جھٹکا پیدا کیا ہے اور مالیاتی حالات کو مزید سخت بنا دیا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے کے انفرااسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان نے عالمی تیل منڈی میں تاریخ کا سب سے بڑا خلل پیدا کیا، کیونکہ دنیا کے تقریباً 25 سے 30 فیصد تیل اور 20 فیصد مائع قدرتی گیس اسی تنگ گزرگاہ سے گزرتی ہے۔</p>
<p>پیر کے روز تیل کی قیمتیں ماہانہ بنیاد پر ریکارڈ اضافے کی جانب گامزن تھیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے مطابق جنگ کے اثرات کا انحصار اس کے دورانیے، پھیلاؤ اور انفرااسٹرکچر و سپلائی چینز کو پہنچنے والے نقصان پر ہوگا، جبکہ ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس جھٹکے سے نمٹنے کے لیے اپنے اقدامات نہایت احتیاط سے ترتیب دیں۔</p>
<p>فنڈ نے کہا کہ وہ رکن ممالک کو ضرورت کے مطابق پالیسی مشاورت اور مالی معاونت بھی فراہم کر رہا ہے، اور یہ عمل عالمی برادری کے ساتھ ہم آہنگی میں جاری ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب جی سیون ممالک کے مالیاتی رہنماؤں نے کہا کہ وہ توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنانے اور حالیہ اتار چڑھاؤ کے وسیع تر معاشی اثرات کو محدود کرنے کے لیے ”تمام ضروری اقدامات“ کرنے کو تیار ہیں۔</p>
<p>اس سے قبل رواں ماہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔</p>
<p>آئی ایم ایف کے بلاگ میں کہا گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک کو خوراک کے عدم تحفظ کا خاص خطرہ لاحق ہے، کیونکہ خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایسے وقت میں انہیں مزید بیرونی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے جب کئی ترقی یافتہ معیشتیں اپنی بین الاقوامی معاونت کم کر رہی ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے لکھا ہے کہ ”اگرچہ یہ جنگ عالمی معیشت کو مختلف طریقوں سے متاثر کر سکتی ہے، لیکن ہر راستہ بالآخر مہنگائی میں اضافے اور معاشی سست روی کی طرف ہی جاتا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے نشاندہی کی کہ ایشیا اور یورپ کے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک ایندھن اور دیگر لاگتوں میں اضافے کا زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں، جبکہ افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک کو مہنگی قیمتوں پر بھی ضروری سپلائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔</p>
<p>ان کے مطابق طویل جنگ، غیر یقینی صورتحال اور جغرافیائی سیاسی خطرات توانائی کی قیمتوں کو بلند رکھ سکتے ہیں اور درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں، جبکہ کشیدگی برقرار رہنے سے مہنگائی پر قابو پانا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔</p>
<p>آئی ایم ایف نے کہا کہ وہ اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ اپنی رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک میں پیش کرے گا، جو 14 اپریل کو واشنگٹن میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے بہاری اجلاسوں کے دوران جاری کی جائے گی۔</p>
<p>مصنفین نے خبردار کیا کہ اگر توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں برقرار رہیں تو یہ عالمی سطح پر مہنگائی کو مزید ہوا دیں گی، اور تاریخی طور پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی بڑھانے اور شرح نمو کم کرنے کا باعث بنتا رہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ یہ جنگ اس توقع کو بھی تقویت دے سکتی ہے کہ مہنگائی طویل عرصے تک بلند رہے گی، جس کے نتیجے میں اجرتوں اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، اور یوں اس جھٹکے پر قابو پانا مزید مشکل ہو جائے گا جب تک کہ معاشی رفتار میں نمایاں سست روی نہ آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284442</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 22:48:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30223649fe86e47.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30223649fe86e47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
