<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کویت پیٹرولیم کارپوریشن کی پاکستانی تیل بردار بحری جہازوں کو مکمل سہولتیں دینے کی یقین دہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284431/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کویت کی سرکاری تیل کمپنی کویت پیٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی) نے کویت سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی ممکنہ ترسیل کے لیے پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی توانائی کی سلامتی میں کویت کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ واضح رہے کہ کویت پیٹرولیم کارپوریشن دنیا کی مجموعی خام تیل کی پیداوار کا تقریباً 7 فیصد پیدا کرتی ہے، تاہم مارچ 2026 میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں مداخلت کے باعث کمپنی نے بعض فروخت کے معاہدوں پر  فورس میجر کا اعلان کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وزیرِ پیٹرولیم نے واضح کیا کہ پاکستان گزشتہ پانچ دہائیوں سے کویت سے پیٹرولیم مصنوعات  بالخصوص ڈیزل خرید رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان تمام برادر ممالک میں امن اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف تنازعات کے پرامن حل کے لیے سرگرم ہیں اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویتی سفیر نے امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مسلح افواج کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں ہمیشہ پرامن حل کو ترجیح دی ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کویت کی سرکاری تیل کمپنی کویت پیٹرولیم کارپوریشن (کے پی سی) نے کویت سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی ممکنہ ترسیل کے لیے پاکستانی پرچم والے بحری جہازوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</strong></p>
<p>یہ اہم پیش رفت وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور پاکستان میں کویت کے سفیر ناصر عبدالرحمن جاسر المطیری کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی توانائی کی سلامتی میں کویت کے مسلسل تعاون کو سراہا۔ واضح رہے کہ کویت پیٹرولیم کارپوریشن دنیا کی مجموعی خام تیل کی پیداوار کا تقریباً 7 فیصد پیدا کرتی ہے، تاہم مارچ 2026 میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں مداخلت کے باعث کمپنی نے بعض فروخت کے معاہدوں پر  فورس میجر کا اعلان کر رکھا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وزیرِ پیٹرولیم نے واضح کیا کہ پاکستان گزشتہ پانچ دہائیوں سے کویت سے پیٹرولیم مصنوعات  بالخصوص ڈیزل خرید رہا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد کا مظہر ہے۔</p>
<p>علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان تمام برادر ممالک میں امن اور سلامتی کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف تنازعات کے پرامن حل کے لیے سرگرم ہیں اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی کے عمل کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔</p>
<p>کویتی سفیر نے امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مسلح افواج کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مشکل وقت میں ہمیشہ پرامن حل کو ترجیح دی ہے۔ دونوں ممالک نے توانائی سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284431</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 17:01:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30163213c814b06.webp" type="image/webp" medium="image" height="853" width="1280">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30163213c814b06.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
