<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لبنان پر اسرائیلی حملے جاری، اقوام متحدہ کی فوج کا امن اہلکار ہلاک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284426/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک امن اہلکار کی ہلاکت کے بعد پیر کے روز شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں لبنانی صحافیوں اور طبی عملے کی ہلاکتوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے امن مشن یونیفل  کے مطابق ہلاک ہونے والا اہلکار انڈونیشیا سے تعلق رکھتا تھا اور یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2 مارچ کو شروع ہونے والی نئی جنگ کے بعد کسی بھی امن فوج کے اہلکار کی پہلی ہلاکت ہے۔ بیان کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان کے گاؤں ادشیت القصیّر کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک گولہ ان کے ٹھکانے کے قریب پھٹا، جس سے ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیفل نے کہا ہے کہ گولے کے ماخذ کا تعین نہیں ہو سکا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والا اہلکار ان کا شہری تھا، جبکہ مزید تین اہلکار بالواسطہ گولہ باری سے زخمی ہوئے۔ انڈونیشیا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن اہلکاروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن اہلکاروں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ذمہ داروں کے احتساب اور اقوامِ متحدہ کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیلی حملوں میں گزشتہ دنوں کم از کم 10 طبی کارکن اور 3 صحافی بھی ہلاک ہوئے۔ لبنانی حکام کے مطابق اب تک 1,200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دریائے لیتانی تک ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے، جبکہ زمینی افواج سرحدی علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر حزب اللہ کی جانب سے بھی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے ایک امن اہلکار کی ہلاکت کے بعد پیر کے روز شدید ردعمل سامنے آیا، جبکہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں لبنانی صحافیوں اور طبی عملے کی ہلاکتوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔</strong></p>
<p>اقوامِ متحدہ کے امن مشن یونیفل  کے مطابق ہلاک ہونے والا اہلکار انڈونیشیا سے تعلق رکھتا تھا اور یہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2 مارچ کو شروع ہونے والی نئی جنگ کے بعد کسی بھی امن فوج کے اہلکار کی پہلی ہلاکت ہے۔ بیان کے مطابق یہ واقعہ جنوبی لبنان کے گاؤں ادشیت القصیّر کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک گولہ ان کے ٹھکانے کے قریب پھٹا، جس سے ایک اہلکار ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p>یونیفل نے کہا ہے کہ گولے کے ماخذ کا تعین نہیں ہو سکا اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ انڈونیشیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والا اہلکار ان کا شہری تھا، جبکہ مزید تین اہلکار بالواسطہ گولہ باری سے زخمی ہوئے۔ انڈونیشیا نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن اہلکاروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔</p>
<p>اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ امن اہلکاروں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ذمہ داروں کے احتساب اور اقوامِ متحدہ کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے پر زور دیا۔</p>
<p>دوسری جانب اسرائیلی حملوں میں گزشتہ دنوں کم از کم 10 طبی کارکن اور 3 صحافی بھی ہلاک ہوئے۔ لبنانی حکام کے مطابق اب تک 1,200 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ دریائے لیتانی تک ایک بفر زون قائم کرنا چاہتا ہے، جبکہ زمینی افواج سرحدی علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ادھر حزب اللہ کی جانب سے بھی حملے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284426</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 15:16:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30151343626cd82.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30151343626cd82.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
