<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 07:32:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کا کیوبا کی بحری ناکہ بندی سے متعلق یوٹرن، روسی جہاز کو راستہ دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284419/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیوبا کو تیل کی ترسیل روکنے کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی ملک کی جانب سے خام تیل بھیجے جانے پر  کوئی اعتراض نہیں  ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کا ایک بحری ٹینکر اشد ضرورت کے حامل تیل کی کھیپ لے کر کیوبا کی بندرگاہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاز رانی کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق روس کے ”شیڈو فلیٹ“ (خفیہ بیڑے) کا حصہ اور عالمی پابندیوں کا شکار ایک بحری جہاز اتوار کو مشرقی کیوبا کے ساحل کے قریب موجود تھا اور پیر تک بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ کھیپ کیوبا کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگی، جو واشنگٹن کی جانب سے لگائی گئی تیل کی عملی ناکہ بندی کے باعث تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ امریکہ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے بعد کیوبا کو وینزویلا کے تیل کی برآمدات بند کر دی تھیں اور ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ کیوبا کو خام تیل بھیجنے والے کسی بھی دوسرے ملک پر سنگین ٹیرف (محصولات) عائد کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کیوبا کو تیل کی ترسیل روکنے کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی بھی ملک کی جانب سے خام تیل بھیجے جانے پر  کوئی اعتراض نہیں  ہے۔</strong></p>
<p>یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس کا ایک بحری ٹینکر اشد ضرورت کے حامل تیل کی کھیپ لے کر کیوبا کی بندرگاہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>جہاز رانی کے ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق روس کے ”شیڈو فلیٹ“ (خفیہ بیڑے) کا حصہ اور عالمی پابندیوں کا شکار ایک بحری جہاز اتوار کو مشرقی کیوبا کے ساحل کے قریب موجود تھا اور پیر تک بندرگاہ پہنچنے کی توقع ہے۔ یہ کھیپ کیوبا کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن ثابت ہوگی، جو واشنگٹن کی جانب سے لگائی گئی تیل کی عملی ناکہ بندی کے باعث تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔</p>
<p>واضح رہے کہ امریکہ نے 3 جنوری کو وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حکومت کے خاتمے کے بعد کیوبا کو وینزویلا کے تیل کی برآمدات بند کر دی تھیں اور ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ کیوبا کو خام تیل بھیجنے والے کسی بھی دوسرے ملک پر سنگین ٹیرف (محصولات) عائد کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284419</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 13:01:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30125421f73fd9d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30125421f73fd9d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
