<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:40:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ نے ایران کی موجودہ قیادت کو معقول قرار دیدیا، پاکستان میں مذاکرات کی میزبانی کی تیاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284416/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایران کی نئی قیادت کو وہ انتہائی معقول سمجھتے ہیں، جبکہ خطے میں مزید امریکی فوجی دستوں کی آمد جاری ہے اور تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ذلت قبول نہیں کرے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایک ماہ سے جاری ایران جنگ کو ختم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کر لے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ معاہدہ نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد نئی قیادت نسبتاً معقول رویہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک طرف مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے جبکہ دوسری طرف زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی افواج تعینات کی گئیں تو ایران بھرپور جواب دے گا اور کسی بھی صورت  ذلت قبول نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ہزاروں اضافی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں اسپیشل آپریشنز اہلکار اور میرینز شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق پینٹاگون زمینی کارروائی کے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ صدر کی منظوری سے مشروط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی جانب سے بھی ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، اور فوجی حکام کے مطابق 24 گھنٹوں میں 140 سے زائد حملے مرکزی اور مغربی ایران میں کیے گئے ہیں جن میں میزائل تنصیبات اور ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یمن کے حوثی گروپ نے بھی تنازع میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کیے ہیں، جس سے بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشے نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی گئی جبکہ ماہرین نے افراطِ زر اور کساد بازاری کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور ایران کی نئی قیادت کو وہ انتہائی معقول سمجھتے ہیں، جبکہ خطے میں مزید امریکی فوجی دستوں کی آمد جاری ہے اور تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ذلت قبول نہیں کرے گا۔</strong></p>
<p>ٹرمپ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان، جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بامعنی مذاکرات کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے تاکہ ایک ماہ سے جاری ایران جنگ کو ختم کیا جا سکے۔</p>
<p>ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ معاہدہ کر لے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ معاہدہ نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد نئی قیادت نسبتاً معقول رویہ رکھتی ہے۔</p>
<p>ادھر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک طرف مذاکرات کے پیغامات بھیج رہا ہے جبکہ دوسری طرف زمینی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی افواج تعینات کی گئیں تو ایران بھرپور جواب دے گا اور کسی بھی صورت  ذلت قبول نہیں کرے گا۔</p>
<p>امریکی محکمہ دفاع کے مطابق ہزاروں اضافی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیے جا رہے ہیں، جن میں اسپیشل آپریشنز اہلکار اور میرینز شامل ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق پینٹاگون زمینی کارروائی کے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے، تاہم حتمی فیصلہ صدر کی منظوری سے مشروط ہے۔</p>
<p>اسرائیل کی جانب سے بھی ایران پر فضائی حملے جاری ہیں، اور فوجی حکام کے مطابق 24 گھنٹوں میں 140 سے زائد حملے مرکزی اور مغربی ایران میں کیے گئے ہیں جن میں میزائل تنصیبات اور ذخیرہ گاہیں شامل ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جوابی حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔</p>
<p>یمن کے حوثی گروپ نے بھی تنازع میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسرائیل پر حملے کیے ہیں، جس سے بحیرہ احمر اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کی سلامتی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔</p>
<p>جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشے نے عالمی منڈیوں کو متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور عالمی معیشت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی مندی دیکھی گئی جبکہ ماہرین نے افراطِ زر اور کساد بازاری کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔</p>
<p>اس صورتحال کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284416</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 12:37:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/301233284ce46e0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/301233284ce46e0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
