<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وسیع ہوتی جنگ میں پاکستان کا نازک توازن</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284415/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے اب تک ایران بحران کو بہت سے لوگوں کی توقع کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالا ہے۔ معاشی سطح پر دیکھا جائے تو علاقائی خلل کے باوجود تاحال ایندھن کی واضح قلت نظر نہیں آئی۔ سفارتی سطح پر اسلام آباد نے خود کو اہم رکھا ہے، اور پاکستان کو ان ممالک میں دیکھا جا رہا ہے جو ایران، امریکا اور عرب ریاستوں کے درمیان رابطے کھلے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کے بیرونی معاشی بفرز کمزور ہیں، یہ کوئی بلند و بالا خارجہ پالیسی کا تصور نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج میں کسی بھی طویل تنازعے، خاص طور پر اگر وہ آبنائے ہرمز سے ٹریفک کو متاثر کرے، کے عالمی اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے لیے نقصان مجرد یا تاخیر سے آنے والا نہیں ہوگا بلکہ فوری ہوگا۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جس کے پاس زرمبادلہ کے محدود ذخائر، کم مالی گنجائش، زیادہ درآمدی انحصار اور ایک اور توانائی جھٹکے کو جذب کرنے کی بہت کم صلاحیت ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا موجودہ رویہ کچھ کریڈٹ کا مستحق ہے۔ پہلی بار، ریاست صورتحال کو دوسروں کی ترجیحات کے بجائے اپنی بقا کے تناظر میں دیکھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کسی مضبوط پوزیشن سے کام کر رہا ہے۔ بالکل نہیں۔ پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی خطرناک سطح پر ہیں، جبکہ حکومت کے پاس اتنے ذخائر یا بجٹ کی گنجائش نہیں کہ زیادہ دیر تک اس جھٹکے کو سہارا دے سکے۔ پیٹرولیم سے متعلق مالی بوجھ پہلے ہی 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ ایسی رقم نہیں جسے یہ معیشت زیادہ دیر تک بغیر نتائج کے برداشت کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد میں یہ امید بھی پائی جاتی ہے کہ شاید یہ تنازع زیادہ طویل نہ ہو اور تیل کی سپلائی چین جلد معمول پر آ جائے۔ ایسا ممکن ہے، لیکن یہ خیال زیادہ پرامید لگتا ہے۔ اگرچہ جنگ وسیع پیمانے پر نہ بھی پھیلے، تب بھی علاقائی توانائی انفرااسٹرکچر اور اعتماد کو پہنچنے والا نقصان تیل کی قیمتوں کو کچھ وقت کے لیے بلند رکھے گا۔ منڈیاں مکمل ناکہ بندی کا انتظار نہیں کرتیں؛ انہیں صرف مسلسل غیر یقینی صورتحال اور خلل کے حقیقی خطرے کی ضرورت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال پاکستان کے لیے خود ہی بری خبر ہے۔ توانائی کی کارکردگی کم ہے، درآمدات پر انحصار زیادہ ہے، اور ادائیگیوں کا توازن پہلے ہی کمزور ہے۔ جیسے ہی زیادہ مہنگا تیل مکمل طور پر معیشت پر اثر انداز ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھے گا۔ پھر کرنسی پر دباؤ آئے گا۔ اس کے بعد وہی پرانی پالیسی ردعمل سامنے آئیں گے: درآمدات میں کمی، انتظامی کنٹرول، اور انتظام کے نام پر مزید ہنگامی اقدامات۔ ایک کمزور بیرونی اکاؤنٹ کو بکھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسئلے کی شدت میں وقت کا پہلو مزید اضافہ کر رہا ہے۔ بیرونی ادائیگیاں پہلے سے طے شدہ ہیں۔ مالیاتی ذرائع چند ماہ پہلے کے مقابلے میں اب اتنے آسان نہیں رہے۔ خطے کی موجودہ غیر یقینی صورتحال وہ دروازے بھی بند کر سکتی ہے جو پہلے کھلے سمجھے جا رہے تھے۔ اور جہاں مالی مدد دستیاب بھی ہو، وہاں سیاسی شرائط مزید سخت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع میں کسی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے محض سفارتی انتخاب نہیں بلکہ براہِ راست معاشی نتائج کا حامل فیصلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی مدت کے خطرات اس سے بھی بڑے ہیں۔ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے اور خلیج کی معاشی ساخت کو تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے تو پاکستان کو صرف تیل کے جھٹکے کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ ترسیلاتِ زر کا جھٹکا بھی لگ سکتا ہے۔ پاکستان کی تقریباً نصف ترسیلاتِ زر جی سی سی ممالک سے آتی ہیں۔ اگر ان معیشتوں کی رفتار سست ہوتی ہے، اخراجات کم ہوتے ہیں یا کوئی خلل پیدا ہوتا ہے تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان شعبوں میں جہاں پاکستانی ورکرز کام کرتے ہیں، وہاں ترسیلاتِ زر کے بہاؤ پر دباؤ آ سکتا ہے۔ اگر ورکرز واپس اپنے ملک آنا شروع ہو جائیں تو یہ دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پھر مسئلہ صرف بیرونی کھاتے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اندرونی طلب، روزگار اور سماجی استحکام بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور پھر ایک اندرونی پہلو بھی ہے جسے پاکستان نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایران کے حوالے سے کسی طویل تنازع کے واضح طور پر فرقہ وارانہ اثرات پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔ جو ممالک اس سے دور ہیں ان کے لیے یہ محض ایک اور علاقائی جنگ ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ بہت تیزی سے ایک داخلی مسئلہ بن سکتا ہے۔ یہی بات اسٹریٹجک سوال کو خود ہی حل کر دیتی ہے۔ کچھ خلیجی ممالک شاید نجی طور پر ایران کو کمزور دیکھنے کی خواہش رکھتے ہوں، لیکن پاکستان اس معاملے کو اسی زاویے سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی صورتحال مختلف ہے، اس کی کمزوریاں گہری ہیں، اور غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی لیے اسلام آباد کا توازن قائم رکھنے کا رویہ معنی رکھتا ہے، چاہے وہ بظاہر پیچیدہ ہی کیوں نہ لگے۔ پاکستانی ثالثی شاید کوئی بڑی یا ڈرامائی پیش رفت نہ لا سکے، اور بعض دوست دارالحکومتوں کو بھی ناراض کر سکتی ہے جو واضح صف بندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے نقطۂ نظر سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہے۔ یہ اخلاقی مؤقف کا معاملہ نہیں، نہ ہی سفارتی شان و شوکت کا۔ یہ ایک ایسی صورتحال میں نقصان کم کرنے کی کوشش ہے جہاں باقی تمام راستے اس سے بھی زیادہ مہنگے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر جنگ جاری رہتی ہے تو توانائی کے انفراسٹرکچر کو مزید نقصان، شپنگ میں مزید غیر یقینی صورتحال، اجناس کی منڈیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ اور وسیع معاشی سست روی کا امکان بڑھ جائے گا۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ایک زہریلا امتزاج ہوگا: زیادہ مہنگا تیل، روپے پر دباؤ، ممکنہ ترسیلاتِ زر میں کمی، برآمدات کی سست رفتاری، اور محدود مالی گنجائش کا تیزی سے ختم ہونا۔ یہ وہ منظرنامہ ہے جسے یہ معیشت سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو ہاں، پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ ایک طرف زیادہ جھکاؤ اپنائے تو دوسرے فریق کو ناراض کرنے کا خطرہ ہے۔ اور اگر زیادہ غیر فعال رہے تو حالات خود ہی اس سے آگے نکل جائیں گے۔ لیکن پھر بھی اس میں منطق موجود ہے کہ چینلز کھلے رکھے جائیں، کشیدگی میں کمی کی حمایت کی جائے، اور ایسے تنازع میں نہ گھسا جائے جس کی قیمت یہ معیشت ادا نہیں کر سکتی۔ ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کے پاس بھی درجہ حرارت کم کرنے کی وجہ موجود ہے۔ نہ اس لیے کہ اس کے پاس بڑی سفارتی طاقت ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کہانی اسٹریٹجک ذہانت کی نہیں بلکہ مجبوری کی کہانی ہے۔ لیکن بعض اوقات مجبوری خواہش سے بہتر فیصلہ پیدا کر دیتی ہے۔ پہلی بار پاکستان اپنے لیے نسبتاً معقول راستہ اختیار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس خطے میں، اور اس وقت میں، یہ بات خود بہت کچھ کہہ دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے اب تک ایران بحران کو بہت سے لوگوں کی توقع کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالا ہے۔ معاشی سطح پر دیکھا جائے تو علاقائی خلل کے باوجود تاحال ایندھن کی واضح قلت نظر نہیں آئی۔ سفارتی سطح پر اسلام آباد نے خود کو اہم رکھا ہے، اور پاکستان کو ان ممالک میں دیکھا جا رہا ہے جو ایران، امریکا اور عرب ریاستوں کے درمیان رابطے کھلے رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کے بیرونی معاشی بفرز کمزور ہیں، یہ کوئی بلند و بالا خارجہ پالیسی کا تصور نہیں بلکہ ایک مجبوری ہے۔</strong></p>
<p>خلیج میں کسی بھی طویل تنازعے، خاص طور پر اگر وہ آبنائے ہرمز سے ٹریفک کو متاثر کرے، کے عالمی اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے لیے نقصان مجرد یا تاخیر سے آنے والا نہیں ہوگا بلکہ فوری ہوگا۔ یہ ایک ایسی معیشت ہے جس کے پاس زرمبادلہ کے محدود ذخائر، کم مالی گنجائش، زیادہ درآمدی انحصار اور ایک اور توانائی جھٹکے کو جذب کرنے کی بہت کم صلاحیت ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا موجودہ رویہ کچھ کریڈٹ کا مستحق ہے۔ پہلی بار، ریاست صورتحال کو دوسروں کی ترجیحات کے بجائے اپنی بقا کے تناظر میں دیکھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔</p>
<p>اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کسی مضبوط پوزیشن سے کام کر رہا ہے۔ بالکل نہیں۔ پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی خطرناک سطح پر ہیں، جبکہ حکومت کے پاس اتنے ذخائر یا بجٹ کی گنجائش نہیں کہ زیادہ دیر تک اس جھٹکے کو سہارا دے سکے۔ پیٹرولیم سے متعلق مالی بوجھ پہلے ہی 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یہ ایسی رقم نہیں جسے یہ معیشت زیادہ دیر تک بغیر نتائج کے برداشت کر سکے۔</p>
<p>اسلام آباد میں یہ امید بھی پائی جاتی ہے کہ شاید یہ تنازع زیادہ طویل نہ ہو اور تیل کی سپلائی چین جلد معمول پر آ جائے۔ ایسا ممکن ہے، لیکن یہ خیال زیادہ پرامید لگتا ہے۔ اگرچہ جنگ وسیع پیمانے پر نہ بھی پھیلے، تب بھی علاقائی توانائی انفرااسٹرکچر اور اعتماد کو پہنچنے والا نقصان تیل کی قیمتوں کو کچھ وقت کے لیے بلند رکھے گا۔ منڈیاں مکمل ناکہ بندی کا انتظار نہیں کرتیں؛ انہیں صرف مسلسل غیر یقینی صورتحال اور خلل کے حقیقی خطرے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p>یہ صورتحال پاکستان کے لیے خود ہی بری خبر ہے۔ توانائی کی کارکردگی کم ہے، درآمدات پر انحصار زیادہ ہے، اور ادائیگیوں کا توازن پہلے ہی کمزور ہے۔ جیسے ہی زیادہ مہنگا تیل مکمل طور پر معیشت پر اثر انداز ہوگا، کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ بڑھے گا۔ پھر کرنسی پر دباؤ آئے گا۔ اس کے بعد وہی پرانی پالیسی ردعمل سامنے آئیں گے: درآمدات میں کمی، انتظامی کنٹرول، اور انتظام کے نام پر مزید ہنگامی اقدامات۔ ایک کمزور بیرونی اکاؤنٹ کو بکھرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔</p>
<p>مسئلے کی شدت میں وقت کا پہلو مزید اضافہ کر رہا ہے۔ بیرونی ادائیگیاں پہلے سے طے شدہ ہیں۔ مالیاتی ذرائع چند ماہ پہلے کے مقابلے میں اب اتنے آسان نہیں رہے۔ خطے کی موجودہ غیر یقینی صورتحال وہ دروازے بھی بند کر سکتی ہے جو پہلے کھلے سمجھے جا رہے تھے۔ اور جہاں مالی مدد دستیاب بھی ہو، وہاں سیاسی شرائط مزید سخت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تنازع میں کسی طرف جھکاؤ پاکستان کے لیے محض سفارتی انتخاب نہیں بلکہ براہِ راست معاشی نتائج کا حامل فیصلہ ہے۔</p>
<p>درمیانی مدت کے خطرات اس سے بھی بڑے ہیں۔ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے اور خلیج کی معاشی ساخت کو تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے تو پاکستان کو صرف تیل کے جھٹکے کا سامنا نہیں ہوگا بلکہ ترسیلاتِ زر کا جھٹکا بھی لگ سکتا ہے۔ پاکستان کی تقریباً نصف ترسیلاتِ زر جی سی سی ممالک سے آتی ہیں۔ اگر ان معیشتوں کی رفتار سست ہوتی ہے، اخراجات کم ہوتے ہیں یا کوئی خلل پیدا ہوتا ہے تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے۔</p>
<p>ان شعبوں میں جہاں پاکستانی ورکرز کام کرتے ہیں، وہاں ترسیلاتِ زر کے بہاؤ پر دباؤ آ سکتا ہے۔ اگر ورکرز واپس اپنے ملک آنا شروع ہو جائیں تو یہ دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ پھر مسئلہ صرف بیرونی کھاتے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اندرونی طلب، روزگار اور سماجی استحکام بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں۔</p>
<p>اور پھر ایک اندرونی پہلو بھی ہے جسے پاکستان نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایران کے حوالے سے کسی طویل تنازع کے واضح طور پر فرقہ وارانہ اثرات پھیلنے کے خطرات موجود ہیں۔ جو ممالک اس سے دور ہیں ان کے لیے یہ محض ایک اور علاقائی جنگ ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کے لیے یہ بہت تیزی سے ایک داخلی مسئلہ بن سکتا ہے۔ یہی بات اسٹریٹجک سوال کو خود ہی حل کر دیتی ہے۔ کچھ خلیجی ممالک شاید نجی طور پر ایران کو کمزور دیکھنے کی خواہش رکھتے ہوں، لیکن پاکستان اس معاملے کو اسی زاویے سے نہیں دیکھ سکتا۔ اس کی صورتحال مختلف ہے، اس کی کمزوریاں گہری ہیں، اور غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔</p>
<p>اسی لیے اسلام آباد کا توازن قائم رکھنے کا رویہ معنی رکھتا ہے، چاہے وہ بظاہر پیچیدہ ہی کیوں نہ لگے۔ پاکستانی ثالثی شاید کوئی بڑی یا ڈرامائی پیش رفت نہ لا سکے، اور بعض دوست دارالحکومتوں کو بھی ناراض کر سکتی ہے جو واضح صف بندی کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے نقطۂ نظر سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش اب بھی کم نقصان دہ راستہ ہے۔ یہ اخلاقی مؤقف کا معاملہ نہیں، نہ ہی سفارتی شان و شوکت کا۔ یہ ایک ایسی صورتحال میں نقصان کم کرنے کی کوشش ہے جہاں باقی تمام راستے اس سے بھی زیادہ مہنگے ہیں۔</p>
<p>اگر جنگ جاری رہتی ہے تو توانائی کے انفراسٹرکچر کو مزید نقصان، شپنگ میں مزید غیر یقینی صورتحال، اجناس کی منڈیوں میں زیادہ اتار چڑھاؤ اور وسیع معاشی سست روی کا امکان بڑھ جائے گا۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب ایک زہریلا امتزاج ہوگا: زیادہ مہنگا تیل، روپے پر دباؤ، ممکنہ ترسیلاتِ زر میں کمی، برآمدات کی سست رفتاری، اور محدود مالی گنجائش کا تیزی سے ختم ہونا۔ یہ وہ منظرنامہ ہے جسے یہ معیشت سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔</p>
<p>تو ہاں، پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ ایک طرف زیادہ جھکاؤ اپنائے تو دوسرے فریق کو ناراض کرنے کا خطرہ ہے۔ اور اگر زیادہ غیر فعال رہے تو حالات خود ہی اس سے آگے نکل جائیں گے۔ لیکن پھر بھی اس میں منطق موجود ہے کہ چینلز کھلے رکھے جائیں، کشیدگی میں کمی کی حمایت کی جائے، اور ایسے تنازع میں نہ گھسا جائے جس کی قیمت یہ معیشت ادا نہیں کر سکتی۔ ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر پاکستان کے پاس بھی درجہ حرارت کم کرنے کی وجہ موجود ہے۔ نہ اس لیے کہ اس کے پاس بڑی سفارتی طاقت ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے۔</p>
<p>یہ کہانی اسٹریٹجک ذہانت کی نہیں بلکہ مجبوری کی کہانی ہے۔ لیکن بعض اوقات مجبوری خواہش سے بہتر فیصلہ پیدا کر دیتی ہے۔ پہلی بار پاکستان اپنے لیے نسبتاً معقول راستہ اختیار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس خطے میں، اور اس وقت میں، یہ بات خود بہت کچھ کہہ دیتی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284415</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Mar 2026 12:11:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (علی خضر)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/30120825070440a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/30120825070440a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
